تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

11 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
 سوال:۔قسم کیا ہوتی ہے۔ کن لفظوں سےہوتی ہے۔ اگر قسم ٹوٹ جائے تو کفارہ کیا ہوتا ہے۔ یہ بھی بتائیے قسم کس طرح توٹتی ہے، کفارہ کس کو دینا ہوتا ہے یعنی اس کا مستحق کون ہوتا ہے؟
محمد یوسف میر
حاجن سوناواری

جھوٹی قسم کھانا گناہِ کبیرہ۔۔ ۔۔ کفارہ ادا کرنا لازم

جواب:۔قسم یا حلف کے شرعی معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ کی قسم کھا کر کوئی شخص کوئی بات کہے۔ مثلاً اللہ کی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا۔ یا یوں کہے واللہ میں یہ کام نہیں کروںگا۔ تو یہ قسم ہے۔ اگر کسی شخص نے یوں کہا کہ واللہ میں نے یہ کام نہیں کیا ہے حالانکہ اس نے یہ کام کیا ہو۔ تو یہ جھوٹی قسم ہےاور یہ گناہ کبیرہ ہے۔ یا کسی نے کہا اللہ کی قسم میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ اُس نے نہیں کیا ہے تو بھی جھوٹی قسم ہوئی۔ یہ بھی گناہ کبیرہ ہے۔مثلاً کسی نے چوری کی ہے مگر اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں نے یہ چوری نہیں کی ہے۔ یا کسی نے نماز نہیں پڑھی ہے مگر جھوٹی قسم کھا کر کہے واللہ میں نے نماز پڑھی ہے۔ یہ حلف کا ذب ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے گناہ کبیرہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گناہ کبیرہ یہ ہیں: شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا، جھوٹی قسم کھانا اور جھوٹی گواہی دینا ۔یہ حدیث بخاری ،مسلم وغیرہ میں ہے ۔قسم کی دوسری قسم یہ ہے کہ اللہ کی قسم کھا کر آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی نیت کرے ۔ مثلا یوں کہے۔ واللہ میں تمہارے گھر نہیں آئوں گا۔ یا اللہ کی قسم میں یہ کھانا نہیں کھائوں گا یا قسم بخدا میں تم سے بات نہیں کروں گا یا یوں کہے واللہ میں آج تمہارےپاس ضرور آئونگا۔ یا کہے اللہ کی قسم میں ہر گز یہ کام نہیں کروں گا۔
غرض آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے ایسی قسم کے متعلق قرآن کریم کا حکم ہے کہ اس قسم کی حفاظت کرو۔ یعنی خلاف ورزی مت کرو اور خلاف ورزی یہ ہےکہ جو کام  کرنے کی قسم کھائی پھر وہ کام نہیں کیا۔ یا کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھائی تھی وہ کر لیا۔ مثلاً قسم کھا کر کہا تھا اب نماز نہیں چھوڑوں گا پھر نماز چھوڑ دی تو اس قسم کے توڑنے پر کفارہ ادا کرنا لازم ہے اور کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا دو وقت کے کھانے کی رقم دس مسکینوں کو دینا۔ اگر کسی ایک ہی مسکین کو دینا ہو تو دس دن تک اُسے دو وقت کا کھانا کھلانا۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کسی غریب مسکین مثلاً مسجد میں حمامی ہو یا موذن ہو اوروہ مستحق زکوٰۃ ہو تو اُسے کہہ دیا جائے تم دس دن تک ہمارے گھر میں کھانا کھاتے رہو یا اُسے دس مرتبہ اتنی رقم دی جائے جس سے وہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔
اگر کوئی شخص دس مسکینوں کو کھانا کھلانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اُس کےلئے کفارہ مسلسل تین دن تک روز رکھنا ہوگا ۔ قرآن کریم سورہ مائدہ یعنی پارہ7رکوع2میں  یہ حکم ارشاد ہوا ہے۔
اگر کسی نے کسی خیر کے کام سے رکنے کی قسم کھائی مثلاً قسم کھا کر کہے میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ تویہ قسم توڑ دینا ضروری ہے اور بعدمیں قسم کا کفارہ بھی ادا کرے۔ یا مثلاً کسی نے قسم کھائی کہ میںفلاں کے گھر نہ جائوں گا یہ فلاں اُس بھائی یا بہن یا سسرال یا ننھیال یا دوسرے اقارب میں سے ہو تو چونکہ یہ قسم قطع رحمی کی ہے اور قطع رحمی حرام ہے ۔ا سلئے اس قسم کو توڑ دینا ضروری ہے اور بعد میں کفارہ بھی ادا کرے۔ یا د رہے اللہ کی ذات عالی کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم کھانے سے قسم شرعی نہیں ہوتی۔ مثلاً مسجد یا آستانہ کی قسم ، کسی بزرگ کی قسم، جوانی کی قسم ، بیٹے کی قسم، اپنی قسم، باپ کی قسم،گھٹنے کی قسم، وغیرہ ۔یہ قسمیں شرعاً منع ہیں اور اگر کسی نے اس طرح کی قسم کھائی تو گناہ کیا مگراُس پر کفارہ ادا کرنا لازم نہ ہوگا۔
...................................
سوال:۔ آج کل عام لوگ مجبوری کی وجہ سے بینک سے مکان بنانے کے لئے سودی قرضہ لیتے ہیں ۔کیا یہ قرضہ لینا جائز ہے؟
سوال:۔ اگر کوئی شخص بینک سے مجبوری کی وجہ سے قرضہ لے اور بینک اس قرضہ پر جو سود لیتا ہے کیا اس سود کی برابری ہم اس سود کی رقم سے کرسکتے ہیں جو بینک ہم کو ہمارے رقم پر Savingا کائونٹ میں زائد دیتا ہے؟
حافظ شبیر احمد شاہ 
لار گاندربل

بچت کھاتے پر ملنے والے سود سے قرض کے سود کی ادائیگی

جواب:۔سود لینا اور سود دینا دونوں اسلامی اصولوں کے مطابق سراسر حرام اورسخت غلط ہے۔ البتہ سود کھانے والوں کے خلاف قرآن کریم میں اعلان جنگ ۔ گویا سود کھانا زیادہ سخت حرام ہے۔مسلمان کی اصل کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ ہر ایسے معاملے سے اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے جس میں اُسے سود دینا پڑے۔ لیکن اگر کسی نے مکان بنانے کے لئے سودی قرضہ لیا تو اس سودی قرضہ میں جس بینک سے سود ی قرضہ لیا ہے اس بینک کی سودی رقم جو اُسے ملی ہے اد ا کرنا درست ہے۔ یعنی بینک سے لی گئی سود کی رقم اُسی بینک کے قرضہ پر لازم ہونے والے سود پر دینے کی اجازت ہے۔ مسلمان کے لئے اصل حکم شریعت یہ کہ وہ سود دینے سے بھی پرہیز کرےاور سود کھانا تو اپنی ماں سے زنا کرنے سے زیادہ بدتر ہے۔ حدیث میںہے جس نے ایک درہم سود کھایا گیا اُس نے اپنی ماں سے چھتیس مرتبہ زنا کاری کی۔
...................................
سوال:۔ یہاںکشمیر میںیہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان آپسی جھگڑے میں بعض اوقات شوہر بیوی سے مخاطب ہو کربول دیتا ہے کہ تم میری بہن کے برابر ہو۔ اس کیلئے کشمیری زبان کا جملہ عموماً یہ ہوتا ہے’’ ژیہ چھکہ میہ بنیہ برابر‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا حکم کیا ہے۔ کیا اس سے طلاق واقع ہوتی ہے یا اس پر توبہ کرنا لازم ہے ۔قرآن اور شریعت کے حکم کے مطابق جواب عنایت فرمائیں؟
شوکت احمد خان
بمنہ سرینگر

بیوی کو بہن کہنا۔۔۔۔۔۔ کیا طلاق واقع ہوتی ہے؟

جواب:۔جب کوئی شوہر لڑائی جھگڑے میں اپنی بیوی کو یہ کہے تم میری ماں کے برابر ہو یا تم میری بہن کے برابر ہو تو اس مسئلہ میں یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے یہ لفظ طلاق کی نیت سے کہے یاظہار کی نیت سے۔ طلاق کی نیت کے معنیٰ یہ ہیں کہ مرد اپنی بیوی کو اُس طرح حرام کر دے جیسے ماں بہن اور بیٹی حرام ہوتی ہے تو اس صورت میں یہ طلاق بائن ہے اور اب ان کا نکاح بالکلیہ ختم ہوگیا ۔ ہاں یہ دوبارہ تجدید نکاح کرسکتے ہیں۔ تجدید نکاح میں تجدید مہر بھی ضروری ہے۔ اور اگر کوئی شخص ظہار کی نیت سے یہ لفظ بولے تو اس صور ت میں نکاح تو برقرار رہتا ہے مگر اُسے اپنی بیوی سے ہمبستری کی اجازت نہیں ہے، جب تک وہ کفارہ ادا نہ کرے۔ کفارہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ہے اور اگر کوئی شخص مسلسل دو ماہ کے روزے نہ رکھ پائے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانےکی رقم دینی ہوگی۔
اس کفارے کے اداکئے بغیر اگر کسی نے ہمبستری کر لی تو وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا اور جب تک وہ کفارہ نہ کرے اس وقت تک جب بھی ہمبستری کرے گا گناہ کبیرہ کرتا رہے گا۔قرآن کریم سورہ مجادلہ میں ظہار کا یہی حکم بیان ہوا ہے۔ مزید تفصیل کےلئے اُن آیات کی تفسرپڑھی جاے یا فقہ کی کتابوں میں باب الظہار پڑھا جائے۔
سوال:۔ ہم نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کرکے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر پھر کلمہ شہادت پڑھتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی حکم ہے یا اس میں کوئی اجر و ثواب ہے جواب سے ممنون فرمائیں؟

وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھنا حدیث سے ثابت

جواب: وضو کے بعد کلمہ شہادت ضرور پڑھنا چاہئے، یہ احادیث سے ثابت ہے۔ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھانا بھی ثابت ہے۔ اس لئے نگاہ آسمان کی طرف اٹھانا بھی درست ہے۔خصوصاً جب کھلے آسمان کے نیچے وضو کیا جائے تو اُس وقت کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے سراوپر کرکے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھائی جائے بس اسی پر اکتفاء کیا جائے۔ شہادت کی انگلی اوپر کی طرف کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
سوال:۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی مسجد شریف میں امام صاحب قرأت شروع کرتے ہیں تو کسی نہ کسی کے فون کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ بہت سارے اصحاب کو یہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ وہ فون جیب سے نکالتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کال کس نے کی ہے یا یہ مسیج(Message) کہاں سے آئی ہے، پھر فون بند کرکے جیب میں ڈالتے ہیں ۔ براہ کرم یہ فرمائے کہ کیا نماز میں ایسا کرنا صحیح ہے۔ اس سے نماز میں کوئی خلل تو نہیں پڑتا ہے؟
محمد اسلم سہروردی 
حضرت بل , اسلام آباد

نماز میں بجتے موبائیل کو سنبھالنے کا مسئلہ 

جواب:۔ نماز شروع کرنے سے پہلے موبائل کا سوئچ بند کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ بھول جائے تو پھر نماز کے دوران اگر کال آگئی تو جیب میں ہی ایک ہاتھ سے موبائل کا سوئچ بند کر دیا جائے۔ اگر جیب میں سوئچ آف نہ کیا جاسکتا ہو تو ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر دیکھے بغیر سوئچ آف کر دیا جائے۔ اس صورت میں نماز میں کوئی خلل یا خرابی نہ ہوگی۔ اس لئے کہ یہ عمل قلیل ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نماز کے دوران مکھی یا مچھر کو ہٹایا گیا۔ حضرت نبی کریم علیہ السلام نے نماز میں ایک ہاتھ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اور یہ واقعہ تو بخاری شریف میں ہے کہ آپ نے تہجد کی نماز میں حضرت ابن عباسؓ کو بائیں سے دائیں طرف کھینچا تھا۔ اگر کسی نے موبائل کی کال آنے پر جیب سے موبائل نکال لیا پھر یہ دیکھا کہ کوئی کال ہے یا مسیج ہے اور پھر یہ سب کچھ دیکھ کر بند کر دیا تو اس دیکھنے پڑھنے اور پھر بند کرنے کے تین کاموں کا مجموعہ عمل کثیر ہے اور جب نماز میں عمل کثیر کیا جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ایسی صورت میں نئے سرے سے تکبیر تحریمہ پڑھ کر نمازمیں شرکت کی جائے اور اس تحریمہ سے پہلے جتنی نماز ہوئی تھی اس کو فاسد سمجھا جائے۔
 

تازہ ترین