تازہ ترین

افسانچے

6 جنوری 2019 (00 : 01 AM)   
(   ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر، موبائل نمبر؛9419004094    )

ڈاکٹر نذیر مشتاق

علاج

 
اسٹیٹ اسپتال میں کام کرنے والی سینیر نرس شیلا نے جب گھر آکر اپنی ماں کو کینسر کے شدید درد سے تڑپتے ہوئے دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہوا۔۔ماں کی حالت ناقابل برداشت تھی۔ اس کی بیماری لاعلاج تھی اور شیلا کی قوت برداشت جواب دے چکی تھی ۔۔وہ ماں کے قریب گئی اپنے آپ سے کہا۔ اب ایک ہی علاج ہے۔۔ اور ایک جھٹکے سے اس کا لایف اسپورٹ منقطع کردیا۔۔چند لمحوں بعد وہ ماں کا سرد جسم دیکھ کر زور زور سے رونے لگی۔۔
تین دن کے بعد وہ پولیس اسٹیشن چلی گئی اور انسپکٹر سے کہا۔۔۔۔میں نے با ہوش و حواس اپنی ماں کا قتل کیا ہے میں اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے آئی ہوں۔۔۔۔
 
 

پاپ

 
آج اس نے جینز اور ٹی شرٹ کی بجائے ا پنا پسندیدہ خان ڈریس اس لیے پہنا کہ اپنی گرل فرینڈ کو نئے سال کی آمد پر سرپرایز دے۔ اس نے لباس پہنا سر پر سفید گول ٹوپی رکھ لی، گلے میں مفلر لٹکایا اور گھر سے نکلا۔۔۔۔۔۔۔
رستے میں بہت سارے لوگ جمع تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔۔۔۔گائو ماتا کی جے۔۔جے بجرنگ بلی۔۔۔۔گاے ہماری ماتا ہے۔۔۔۔وہ توڑ پھوڑ کررہے تھے۔۔گاڑیوں اور دکانوں کو نذر آتش کررہے تھے۔  ان میں سے کسی کی نظر خان ڈریس پہنے خوبرو نوجوان پر پڑی۔۔‌‌۔۔یہ سالا حرامی ہمارا دشمن ہے۔ پکڑو اور مارو۔کسی نے اس کا منہ مفلر سے بند کیا اور دوسروں نے اس پر گھونسوں اور لاتوں کی بارش کردی اور وہ ادھ مرا سڑک پر گر پڑا۔۔۔۔۔سالے کو ننگا کردو۔ 
ان کے لیڈر نے حکم دیا۔۔۔ اس کے ننگے جسم کو دیکھ کر ایک غنڈے کے  منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔ گھور گجب ہوا پاپ ۔۔ گھورپاپ ہوا، ہم نے اپنے ہی بھائی کو قتل کر ڈالا۔۔۔۔۔
 

ثبوت

 
ہر مجرم اپنے جرم کا کوئی نہ کوئی ثبوت چھوڑ ہی جاتا ہے۔۔۔۔۔انسپکٹررام موہن بھانگڑے نے پاس ہی کھڑے کانسٹیبل جمال الدین سے کہا۔۔۔
سر کیا کوئی ثبوت ملا ہے۔  جمال الدین نے ادب سے پوچھا۔۔۔۔۔ہاں ایک ایسا ثبوت ملا ہے کہ یہ کیس چٹکیوں میں حل کیا جاسکتا ہے۔‌انسپکٹر نے کہا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔۔۔۔۔‌
علاقے میں ایک دس سالہ لڑکی کی عصمت دری کے بعد اس کا بیدردی سے قتل کیا گیا تھا اور انسپکٹر کو جائے واردات پر ایک ثبوت مل گیا تھا۔۔۔۔۔وہ کچھ سوچ رہا تھا کہ جمال الدین نے اس سے پوچھا۔‌۔۔۔۔سر کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ کو کیا ثبوت ہاتھ لگا ہے۔
مجھے لاش کے دائیں ہاتھ میں ایک لاکٹ ملا ہے۔ اگر یہ معلوم ہو کہ یہ لاکٹ کس کا ہے تو مقتول کو ہم ابھی گرفتار کر سکتے ہیں۔۔۔۔یہ لاکٹ ملا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔انسپکٹر نے جمال الدین کو دکھایا۔۔۔۔۔۔۔۔ جمال الدین نے لاکٹ کو دیکھ کر کہا۔ سر یہ لاکٹ تو مولوی صاحب کا ہے جو مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتا ہے۔ میں نے یہ لاکٹ اس کے گلے میں دیکھا ہے۔
تمہیں پورا یقین ہے کہ یہ لاکٹ اسی کا ہے۔ انسپکٹر نے خوشی سے دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتے ہوئے کہا۔۔۔
یس سر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ جمال الدین نے کہا۔۔۔۔۔چلو میرے ساتھ۔۔۔۔انسپکٹر نے حکم دیا
مولوی صاحب اپنے حجرے میں بیٹھا تلاوت میں مشغول تھا۔۔۔دروازہ ادھ کھلا تھا
انسپکٹر بغیر اجازت کمرے میں داخل ہوا اور مولوی صاحب سے حاکمانہ انداز میں پوچھا۔
مولوی صاحب ۔‌یہ لاکٹ آپ کا ہے۔ مولوی نے قرآن پاک سے نظریں اٹھا کر لاکٹ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔
جی ہاں یہ لاکٹ، جس پر ایک طرف اللہ اور دوسری طرف محمد لکھا ہوا ہے۔میرا ہی۔ تھا۔۔۔۔مگر دس دن پہلے میں نے یہ لاکٹ مسجد کے مؤذن غیاث بیگ کو دیا۔
غیاث بیگ۔۔۔۔۔۔۔۔انسپکٹر بڑبڑایا۔
ہاں جناب وہ شائد اس لڑکی کا ماموں ہے۔ جسکا عصمت دری کے بعد قتل ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔کبھی کبھی ثبوت بھی نا۔۔ہاہ۔۔۔انسپکٹر یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
 
 

فہم

 
سونو نے ٹی وی اسکرین پر لمبی داڑھی والے لیڈر کو دیکھ کر زور زور سے تالی بجانی شروع کی۔یہ انکل ہم کو چھٹی دلواتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیڈروں نے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال اور سرکار نے کرفیو کا اعلان کیا تھا۔ لوگ گھروں کے اندر محصور تھے۔سونو خوش تھی کہ اسے اسکول سے چھٹی ملی ہے۔ اب وہ دن بھر اپنی دوست کے ساتھ کھیلے گی۔۔۔ہفت رنگی چڑیا اس کی سب سے پیاری سہیلی تھی۔۔۔سات رنگوں کی یہ چڑیا اس کے باپ نے ایران سے لائی تھی۔۔وہاں اس کا ایک دوست تھا جس کا مشغلہ انواع و اقسام کے پرندے جمع کرنا تھا۔ سونو کے باپ احمد علی کو یہ چڑیا اسی نے تحفے میں دی تھی۔۔۔سونو خالی وقت میں اسی چڑیا کے ساتھ دل بہلاتی۔ اسے دانہ کھلاتی پانی پلاتی اور اس سے باتیں کرتی ۔۔۔آج وہ اس سے کہہ رہی تھی۔۔میری سہیلی اب چھٹی ہے ہم کھیلیں گے گائیں گے ۔ہنسیںگے گانے سنیں گے۔۔۔۔۔وہ چڑیا کو پانی پلارہی تھی۔۔۔۔اس کے ماں باپ اسے پیار سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ہڑتال اور کرفیو جاری تھا۔ چالیس دن سے سونو گھر میں تھی۔ باہر جانے کی کسی کو اجازت نہیں تھی، اس لئے سونو کو بسکٹ،کُرکرے، چیپس اور چاکلیٹ بھی نہیں مل رہے تھے۔  وہ اکتا گئی تھی۔ اسے رہ رہ کے سکول کی سہیلیوں کی یاد آرہی تھی۔ اس لئے وہ  بیقراری کے عالم میں کبھی اوپر کبھی نیچے ٹہل رہی تھی۔ اس کی ماں اس کا درد سمجھ گئی تھی مگر کیا کرتی۔۔۔۔اچانک سونو لیٹ گئی اورچند لمحوں کے بعد اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگوں نے اسے پکڑ کر ایک لوہے کے پنجرے میں قید کرلیا۔  وہ تڑپنے لگی مگر اس کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ وہ پنجرے میں کبھی ادھر کبھی اُدھر پھڑ پھڑ انے لگی۔  وہ عالم اضطراب میں سارا بدن ہلانے لگی۔ وہ لوگ اس کی حالت زار پر زور زور سے قہقہے لگا رہے تھے۔  وہ پسینے میں شرابور ہوئی اس کا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔کسی نے اس کا گلا دبانا چاہاکہ وہ ایکدم سے جاگ گئی۔  ۔۔ ماں۔   اس کے حلق سے چیخ نکل گئی۔۔۔۔اس کی ماں نے اسے سینے سے لگایا اس کا باپ بھی اس کے نزدیک آیا۔۔۔۔۔۔اس نے دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ان کو تیسری منزل کے برآمدے پر لے گئی۔۔۔پھر اس نے پنجرہ لایا جس میں ہفت رنگی چڑیا قید تھی۔۔۔۔۔اس نے بائیں ہاتھ سے پنجرہ پکڑا اور دایں ہاتھ سے پنجرے کا چھوٹا سا دروازہ کھولا۔   چڑیا پُھر سے اڑگئی۔۔۔۔۔وہ دیر تک آسمان کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 

کُجا بہ کُجا

 
وہ جوانی کے نشے میں چور تھا۔۔۔اس نے سوچا۔ساری دنیا کو دیکھ لوں گا۔۔۔چند روز بعد اسے احساس ہوا کہ وہ ساری دنیا کو نہیں اپنے ملک کو دیکھ سکتا ہے
ایک ماہ گزر جانے کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس کا ملک بہت بڑا ہے اور زندگی بہت کم۔۔۔۔وہ صرف اپنے شہر کو دیکھ سکتا ہے۔۔۔۔کچھ وقت گزرا۔ شہر بہت بڑا ہے۔ اس نے سوچا۔۔۔۔۔اپنی کالونی کو دیکھ لوں۔ چھوٹی جگہ ہے۔ اس نے خوشی کا اظہار کیا۔۔۔۔وہ کالونی میں گھومنے لگا۔ چند روز بعد وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا۔۔۔‌یہ بھی ناممکن ہے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا۔۔۔۔۔۔اب بہتر ہے اپنے گھر ہی کو اچھی طرح دیکھ لوں۔۔۔۔۔کچھ دن وہ اپنے گھر کو سمجھنے کی کوشش کر نے لگا۔۔۔وہ تھک گیا مگر گھر کے باسیوں کو سمجھ نہ سکا ‌۔۔۔وہ اداس ہو کر سوچنے لگا۔۔۔۔۔بہتر ہے آپ کو ہی دیکھ لوں۔    اب وہ اپنے آپ میں گم ہو گیا۔۔۔۔ارے یہ کیا جسم تو کائینات سے بھی وسیع ہے۔ کس کس نظام کو دیکھوں اور سمجھوں۔۔۔ناممکن  ہے یہ۔۔۔۔اب کیا کروں ‌۔۔۔۔ان ہی دنوں اسے پیتھالوجی میں تحقیق کرنے کا موقع ملا کیونکہ وہ ایک ڈاکٹر تھا۔۔۔۔۔۔وہ خوش ہوا کہ اب وہ تحقیق کرکے کائینات کے رازوں سے پردہ اٹھایے گا۔۔۔۔۔اس نے مائیکروسکوپ سنبھالی اور تحقیق شروع کر لی۔۔۔۔۔اس نے مایکروسکوپ میں ایک وسیع و عریض کائینات دیکھی۔۔‌‌مجھے ایک خلیہcellپر فوکس کرنا چاہیے ۔۔۔اس نے ایک خلیہ پر فوکس کیا۔   اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔۔۔ارے یہ کیا۔ یہ ایک خلیہ تو بذات خود ایک کائینات ہے۔ اس نے cell۔ پر اپنی ساری توجہ مرکوز کی۔۔۔اس کے بیچ میں مرکزیہnucleusہے وہ اسی میں کھو گیا۔۔۔۔وہ تلاش کرنے لگا۔۔۔۔اس کے اندر تو ایک اور کائینات ہے۔  وہnucleolus میں کھوگیا۔۔۔اب وہ برسوں سے اسی کائینات میں کھویا ہوا ہے۔
 

تازہ ترین