شاہراہ پر پیش آئے حادثہ کا معمہ: باپ بیٹے سمیت 3افراد ہزاروں ٹن ملبہ کے نیچے دفن

۔3روز سے لاشیں ملیں نہ14پیوں والے ٹرک کا کوئی نام و نشان

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد تسکین
 بانہال // سرینگر جموں شاہراہ پر رام بن میں بیٹری چشمہ کے نزدیک 5نومبر سوموار کو ایک بھاری پسی کے نیچے 14پہیوں والاایک میوہ ٹرک دب گیا جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس میں سوار باپ بیٹا سمیت 3افراد زندہ دب گئے ہیں۔3دن سے بچائو کارروائیوں کے بعد بھی جمعرات کی شام تک نہ ٹرک کا کوئی نام و نشان پایا گیا اور نہ کوئی لاش بر آمد کی جاسکی ہے۔

واقعہ کیسے ہوا؟

5نومبر قریب دوپہر کے وقت بیٹری چشمہ رام بن کے نزدیک ایک بھاری پسی گر آئی جس نے ہزاروں ٹن ملبہ اپنے ساتھ لایا۔جب پسی گر آئی اور اپنے ساتھ ملبہ لیکر قریب 600فٹ نیچے بشلری نالہ تک پہنچی تو فوری طور پر پسی ہٹانے کیلئے مشینری لائی گئی۔لیکن سڑک کو قابل آمد و رفت بنانے سے قبل ہی یہاں سیب کی کچھ پیٹیاں، رسیاں، ترپال اور لکڑی کے چند پٹھے دیکھے گئے جس کے ساتھ ہی رضا کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہاں پسی کے نیچے کوئی میوہ ٹرک آیا ہے۔سوموار کو سڑک سے پسی کا ملبہ ہٹانے کی کارروائی جاری رہی اور اسکے بعد ٹرک کو دھونڈنے کی کارروائی کا آغاز ہوا، جو جمعرات کی شام تک جاری رہا۔ پنچاب سے رام بن پہنچے افراد نے بتایا کہ اس ٹرک زیر زیر رجسٹریشن نمبر PB06AK/4045 میں ڈرائیور اور اس کے بیٹے سمیت تین افراد سوار تھے۔ بیٹا اپنے ڈرائیور باپ کے ساتھ کشمیر گھومنے کی غرض سے گیاہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں افراد سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

پولیس کیا کہتی ہے؟

ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر رام بن اصغرملک نے کشمیر عظمی بتایا کہ مہلوکین کا رشتہ دار بتانے والے پنجاب کے ایک شخص نے بدھ کے روز رام بن پولیس کو بتایا کہ ان کے تین رشتہ دار وادی کشمیر سے ٹرک میں سیب لیکر پنجاب کی طرف آرہے تھے اور حادثے کی صبح انہوں نے گھروالوں سے فون پر رابطہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ وہ جموں کی طرف آرہے ہیں اور پیر کی شام تک جموں پہنچنے کی امید ظاہر کی تھی۔لیکن اسکے  بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوپا رہا ہے۔اصغر ملک نے بتایا کہ اس اطلاع کے بعد پولیس نے فون نمبر کو نگرانی میں رکھا اور موبائل فون کی لوکیشن کے مطابق یہ ٹرک پیر کی صبح رامسو اور حادثے والی جگہ کے درمیان پایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ رام بن پولیس کی طرف سے  ایس ڈی آر ایف اور سول کیو ار ٹی رام بن کے رضاکاروں کی مدد سے ممکنہ طور بھاری ملبے میں ٹرک سمیت دبے تین افراد کا پتہ لگانے کیلئے بدھ اور جمعرات کو کارروائیاں کی گئیں لیکن سازوسامان کے بغیر خالی ہاتھوں گہری اور پرخطر کھائی میں گرتے  پتھروں کی وجہ سے انہیں کام کرنے میں سخت دشواری پیش آئی اور ابھی تک حادثے کا شکار ہوئے افراد کو ڈھونڈ نکلانے میں بچاو کارروائیوں میں شامل ٹیموں کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو پائی ہے۔

 ریسکیوآپریشن 

 رام بن کے رضاکاروں کی قیادت کرنے والے بشیراحمد ماگرے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ خالی ہاتھوں سے سینکڑوں ٹن ملبے کے نیچے لاشوں کو تلاش کرنا انتہائی دشواری کا کام ہے اور نالے میں ملبے کے ڈھیر کے نیچے اس چودہ پہیوں والے سیبوں سے لدھے ٹرک کا کوئی پتہ نہیں چل پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھائی میں اوپر سے پتھر مسلسل گر رہے ہیں اور پسی سے گرے بھاری ملبے کے نیچے کوئی اندازہ لگانا بھی ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں ٹن ملبے کے نیچے دبے ٹرک اور ممکنہ لاشوں کو نکالنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور کھوجی کتوں کے بغیر کوئی سراغ لگانا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگل بدھ اور جمعرات کو بچاو کارروائیوں میں شامل افراد نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کام کیا اور کئی بار گرتے پتھروں کی زد میں آنے سے بال بال بچ نکلے ۔
 

تازہ ترین