عافیہ صدیقی کامعاملہ

پاکستان کا امریکہ سے بات چیت میں پیشرفت کا دعویٰ

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اسلام آباد //پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر امریکہ حکام سے جاری بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم حکومت نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ اعلیٰ امریکی سفارتکار ایلس ویلز کے حالیہ دورے پر بھی ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔حکومت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب جب آفیہ صدیقی کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے نام لکھا گیا ایک خط ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہا ہے۔ اس خط میں مبینہ طور پر عافیہ صدیقی نے اپنی رہائی کے لیے مدد طلب کی ہے۔جمعرات کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ترجمان محمد فیصل نے کہا کہ عافیہ دیقی کا معاملہ ایک جذباتی معاملہ ہے اس پر پاکستان کو موقف سب کو معلوم ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس معاملے کے حل کے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے اور ان کے بقول اس معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے تاہم انہوں نے کہ وہ ا س کی تفصیل یبان نہیں کر سکتے ہیں۔ترجمان کے مطابق امریکہ کے شہر ہوسٹن میں پاکستان کی قونصل جنرل عافیہ صدیقی سے جیل میں باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں۔اس سے قبل گذشتہ شب پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ امریکی حکام کے ساتھ تواتر کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے اور ہیوسٹن میں فونصل جنرل میں عافیہ صدیقی سے ملاقات کر کے ان کی صحت کے بارے معلومات سے میں اْن کے خاندان کو آگاہ کرتے ہیں۔سرکاری بیان کے مطابق امریکہ نے پاکستان کی درخواست پر غور کرنے کی دعدہ کیا ہے تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ پاکستان نے امریکہ سے کیا درخواست کی ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2010ء￿  میں امریکہ کی ایک عدالت نے افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
 

تازہ ترین