اسلام انسانیت کا پیغام

بند گانِ خدا سے محبت ہے دین

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بشیر احمد وانی۔۔۔۔ نوا کدل، سری نگر
 دنیا کے حق پرست ، غیر جانب دار اور بے لاگ مورخ،دانش ور ،مفکر اور منصف اس حقیقت کے معترف ہیں کہ اسلام لطف و کرم فیاضی اور اخوت کا دین ہے اور اُمت ِ مسلمہ ایک عظیم،شاندار اور پُروقار عقیدے کی امین ہے۔اسلام کی تعلیمات نہ تو کسی ذہین مفکر یار روشن خیال قانون دان کی مرتب کردہ تصنیف  ہ اور نہ ہی کسی خود ساختہ قوانین کا مجموعہ بلکہ یہ دین خدائی دستور حیات ہے اور ملت اسلامیہ دنیائے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کی داعی ہے۔اسلام میں ہر مسئلے کا حل ہے اور اس کی تعلیمات ساری انسانیت کے لئے قابل عمل ہیں اور صرف ان کی بنیاد پر صالح ا ور پُر سکون معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔اسلام میںتمام لوگوں کے لئے بلا تفریق مذہب و ملت ،رنگ و نسل اور مشرب و مسکن ایسی ہدایات،احکامات اور رعایات ہیںکہ مسلم معاشروں میںغیر مسلم بھی آزادی و سکون کے ساتھ اپنے معتقدات و تصورات کے مطابق حیات مستعار کے ایام گزار سکتے ہیں، مگرا سلام دشمن ممالک یا عناصرآج کل کھلم کھلا اور متواتر اسلام پر الزام لگا رہے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر آیا ہے ، مسلمانوں نے بزور طاقت دین ِاسلام پھیلایا ہے، اس کی تعلیم و تبلیغ کی اشاعت و تشہیر کے لئے ظلم و زبردستی کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ یہ سب بہتان ہے ۔مسلمانوں کی شبیہ بگاڑنے اور اُنہیں ظالم اوربُرا ثابت کرنے کے لئے اسلام دشمن عناصر خصوصاً یہود و نصاریٰ، شدت پسند عناصر باہمی سانٹھ گانٹھ کر کے جہاںتقریری وتحریری طور پر یہ دشمنانہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، وہیںاس کے لئے جدید ذرائع و وسایل اور منظم اداروں کا استعمال بڑے پیمانے پر کررہے ہیں ۔ مغربی ذرائع ابلاغ بالخصوص الیکٹرانک میڈیا بھی اس جھوٹ کا خوب پروپیگنڈا کررہاہے ۔اسلام کا نام آتے ہی مسلمانوں کے نام تمام بُرے القاب تھوپ دیتے ہیں،محبت و امن اور مساوات کے داعیوں کو دہشت گرد جیسے غلط نام دئے جاتے ہیں۔ یوںصدیوں تک جس اُمت نے دنیا کی رہنمائی کی ہے،اور آج بھی مشرق ومغرب میں جو اُمت دنیا کی دوسری بڑی اکثریت ہے ، ہر ملک میں اس کاوجود خطرے میں ڈال دیا گیاہے۔
  مسلمانوں کے خلاف یہ الزامات اور تہمتیں سراسر بے بنیاد ،من گھڑت اور حقیقت کے برخلاف ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جہاںکہیں بھی مسلمانوں کا غلبہ ہوا یاجس ملک میں مسلمان حکمران فاتح بن کرآئے ،انہوںنے وہاں کے غیر مسلموں کے ساتھ مل کرعلوم و فنون کے تمام میدان سَر کئے اورتعمیر و ترقی کے دروازے کھول دئے اور جہاں کہیں بھی مسلمانوں نے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دی یااشاعت تبلیغ دین کی وہ قرآن و الحدیث کی روشنی میں ہوئی، جس غیر مسلم کوخدا وندکریم نے توفیق بخشی،وہ ایمان کی دولت سے سرفراز ہوا ،کسی بھی جگہ مسلمانوں نے غیر مسلموں کو زور زبردستی سے مسلمان نہیں بنایا بلکہ مسلمانوں کے عادلانہ اور منصفانہ نظام نے اُنہیں دین اسلام قبول کرنے کی طرف خود بخود مایل کردیا۔ تاریخ کشمیر کے مطالعہ سے بھی اس بات کا ثبوت بخوبی ملتا ہے کہ یہاں دین اسلام کے پھیلائو میں کسی تلوار یا جنگ کاسہارا نہ لیا گیا ۔اس ملک کشمیر میں حضرت عبدالرحمان بلبل صاحبؒ  تشریف لائے اور انہوںنے قرآن و حدیث کی روشنی میںاسلام کی تبلیغ کرکے غیر مسلموں کو دعوتِ دین دی ۔خدا وند کریم کے  فضل وکرم سے ہی کشمیر کا بودھ بادشاہ رینچن شاہ اور اس کے تمام اہل خانہ سمیت اس کے وزراء،امراء اور ہم نواؤں نے کسی زور زبردستی کے بغیر دین اسلام قبو ل کرکے کلمہ ٔ حق کا نور حاصل کیا ،حالانکہ بادشاہ رینچن شاہ کے پاس سب کچھ تھا ،بادشاہت تھی ، جاہ و حشمت تھی ،مال و دولت تھا،فوج تھی، طاقت ودبدبہ تھا۔اسی طرح جب حضرت امیر کبیرؒ شاہ ہمدان ملک کشمیر میں تبلیغ دین کے لئے اپنے ساتھیوں سمیت وارد کشمیر ہوئے ،انہوںنے بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی۔حضرت شاہ ہمدانؒ اور اُن کے ساتھیوں نے ملک کشمیر کے لوگوں کو اسلام کے بارے میںمتعارف کرایاکہ اسلام پوری انسانیت کا دین ہے ،رحمت کا دین ہے، محبت کا دین ہے ، اخوت کا دین ہے۔اسلام نام ہے عدل و انصاف کا ،اخوت کا، مساوات کا ،شفقت ،مودت و محبت کا ،بھائی چارہ ، ہمدردی، رواداری کا، اخلاص و امن و امان اور صلہ رحمی کا ۔لوگ ا س دین اور مبلغین اسلام سے متاثر ہوئے اور خود بخود اسلام کے دائرے میں آگئے ۔حضرت بلبُل شاہ صاحب ؒ یا حضرت شاہ ہمدانؒ صاحب نے کوئی تلوار نہیں اٹھائی اور نہ ہی کسی زور زبردستی کا مظاہر ہ کیا بلکہ انہوںنے نفرتوں اور کدورتوں کامطلع صاف کیا۔انہیں علم خداوندی تھاکہ اسلام ،ظلم و ستم ،زور زبردستی ،جبر وقہر ،تشدد و استبداد وخونریزی ،سفاکیت و بربریت ،ناحق قتل و غارت کا نہیں بلکہ سراپا امن و آشتی کا پیغام ا لٰہیہ ہے ۔ان حقائق کے باوجود مخالفین ِ حق کی یہ بکواس ہانکنا کہ دین اسلام بزور طاقت پھیلایا گیا ، جہالت کی انتہا ہے ۔ دین اسلام کے پیرو کار قرآن مجید کے اس واضح اعلان سے کبھی منحرف نہیں ہوسکتے کہ دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ،راہ راست گمراہی سے اعلانیہ ممتاز ہوچکی ہے(سورہ بقرہ آیت ۳۴) اور سورہ کہف آیت نمبر ۲۸: ’’اسلام تمہارے رب کی طرف سے آچکا ہے جو چاہے قبول کرے جو نہ چاہے قبول نہ کرے ‘‘۔ ہاں!اللہ تعالیٰ نے اسلام کی تبلیغ کی تاکید اور تلقین اسلام کے پیروکاروں کو اپنے اپنے دائرے میں ضرور کی ہے لیکن اسی کے ساتھ سورہ نحل آیت ۲۴ کے تحت یہ حکم بھی دیا ہے کہ:’’ اپنے رب کے راستہ کی طرف دانش مندی اور اچھی اچھی باتوں کے ذریعہ بلائو اور بہت پسندیدہ طریقہ سے مباحثہ کرو‘‘ ۔بہر کیف دنیا بھر میں اولیاء اللہ ، علماء ، دانش ور اور صوفیائے کرام نے تمام لوگوں کو حکمت،موعظت حسنہ اور علمی و عقلی دلائل سے اللہ کے دین کی طرف بلایاتو قومیں دین اسلام سے مشرف ہوگئیں۔اُمت مسلمہ کے عملی کردار اور قرآن و حدیث کے روشن پہلوئوں کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی دنیا میںدین ِ اسلام کا نور پھیل گیا۔ 712ء میں سندھ میں محمد بن قاسم ؒکے حملے سے 90سال قبل ہی ہندوستان میں اسلام پھیل چکا تھا ۔محمد بن قاسمؒ کے حملے کے بعد رفتہ رفتہ ہندوستان میںاسلام نے طاقت حاصل کر لی ۔چونکہ خوف ِ خدا ،دین داری،علم و فکر اور تحقیقی عمل میں مسلمان ممتاز واعلیٰ تھے جس کی بدولت دنیا میں اُن کا غلبہ اور استحکام حاصل ہوا، اور جب مسلمانوں نے ان اصولوں سے غفلت برتی تو وہ جمود  وتعطل میں مبتلاہوکر انحطاط کے شکار ہوگئے ، نتیجتاً دوسری قوموں نے اُن پر غلبہ پالیا اور وہ اُن کے لئے تر نوالہ بن گئے۔ہندوستان میںمغلیہ سلطنت کے زوال سے قبل مسلمانوں کی اپنے دین پر مضبوط گرفت تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہندوستان کی ہندو رعایا پر ظلم و ستم کی ایسی کوئی کارروائی نہیں کی کہ وہ جبراً مسلمان بنے پر مجبور ہوجاتے ۔حالانکہ مسلمان اس پوزیشن میں تھے کہ وہ پوری ریاعا کودین اسلام میں کے دائرہ میں داخل کراسکتے تھے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان اپنی بے پناہ عسکری قوت ہونے کے باوجود ہندوستان میں اقلیت میں ہی رہے۔قریبا ً آٹھ سو سال تک ہندوستان میںمسلم حکمرانوں نے جس انصاف  اور رعایاپروری ، عدل گستری ، رواداری اور حسن و سلوک سے حکومت چلائی ،وہ اپنی مثال آپ ہے ۔بہر حال 1857ء سے لے کرآج تک غیر مسلم حکمرانوں نے مسلمانوں کے ساتھ کتنا ہی بھّدا اور بُرا سلوک کیا بلکہ ابھی تک کررہے ہیں، وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ انگریزوں نے ہندوستان میں مسلمانوں سے حکومت چھین لی اور ظلم و ستم کا بازار گرم کرکے رکھا ۔انگریزوں سے نجات حاصل کرکے1947ء میں تقسیم ملک کے وقت مسلمانوں کے ساتھ کتنا بے دردانہ اور سفاکانہ سلوک روا رکھا گیا، وہ بھی عیاں و بیاں ہے۔ 1947ء کی تواریخ کی ورق گردانی میں جب ہم جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کا حال احوال پڑھتے ہیں تو لرزہ بہ اندام ہوتے ہیں ۔
اسی طرح دنیا کے غیر مسلم حکمرانوں کے تحت مختلف ملکوں میں مسلمان اکثریت میںیااقلیت میں ہیں، وہاں زیادہ تر کلمہ خوانوں کے ساتھ غیرمسلموں کا رویہ بہت برا ہے ،یہ ایک کھلی حقیقت ہے ، فلسطین ، افغانستان ،عراق ،شام ،لیبیا اور دیگر کئی ملکوں میں امر یکہ سمیت دیگرغیر مسلم قوموں کی مسلم دشمن پالیسیاں کھلا راز ہیں ،مگر پھر بھی یہی کہا جارہا ہے کہ اسلام بزور طاقت پھیلایا گیا اور مسلمان ’’دہشت گرد‘‘ ہیں۔ 
اس کے بالکل برخلاف تاریخ بتا تی ہے کہ جس کسی ملک میںمسلمان حکمرانوں کا راج تاج رہا ، وہاں انہوں نے ہمیشہ اپنی غیر مسلموں رعایا کے ساتھ اُسی طرح کا عدل و انصاف ،عفو درگذر ،رواداری اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا جو وہ اپنی مسلم رعایا کے ساتھ کرتے تھے۔ یورپ کی پوری تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہی وجہ ہے کہ بیشتر حقیقت پسند غیر مسلم مورخوں ،دانشوروں ،منصفوں نے اسلام اور مسلم حکمرانوں کے بہترین نظام سلطنت ،انصاف و عدل ،مساوات اور رواداری کا اعتراف کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی ہے اور برملا طور پر سچائی کا اظہار کرتے رہے۔ ایک نامور مسیحی مورخ سرتھ آرنلڈنے اپنی کتاب دعوت اسلامی میں بہ دلائل لکھا ہے کہ اسلامی عہد حکومت میںغیر مسلموں کو جس طرح کا امن و چین نصیب ہوا، اس کی بھی کسی اور مذہب یا نظام حکومت میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔غیر مسلم رعایا کے ساتھ جس طرح کی روا داری،عدل و انصاف اور اخلاقی برتائو مسلمانوں کے ذریعے ہوتارہا ، وہ بھی بے مثال تھا ۔پروٹسٹنٹ عیسائی مبلغ ریکولڈس دی مومنٹ نے تیرہویں صدی عیسوی میں مشرق کے دورے کے دوران مسلمانوں کے حسن ِ اخلاص ،دیانت داری ،مساوات سے متاثر ہوکر لکھا ہے :ہم نے مسلمانوں میں فقراء ،محتاج،پریشان حال لوگوں کے ساتھ شفقت ،ہمدردی ،اعانت اور تعاون کے جو معاملات دیکھے ،اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔نصرانی مورخ جاک ٹاجر(1918تا1952ء)لکھتے ہیں:مصر کے قبطیوں نے عربوں کا استقبال نجات دہندہ کے طور پر کیا ،عربوں نے مصر میں داخلہ کے بعد قبطیوں کو نہ صرف مذہبی آزادی دی بلکہ عیسائی عہد کے عائد ٹیکسوں میں بھاری تخفیف کی۔اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے علمی اور عملی کردار سے متاثر ہوکر قبطیوں نے بخوشی اسلام قبول کرلیا کیونکہ عربوں نے ان کو نہ صرف وہی سہولیات فراہم کیں جو مسلمانوں کو فراہم تھیںبلکہ قبطیوں کو ہی ملک کی آمدنی کا نگران بنایا ۔ اس بابت تھامس آرنالڈ لکھتے ہیںکہ:رومی شہنشاہ جتنسیاں (483تا565)نے اسکندریہ شہر میں دو لاکھ قبطیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھااور اس کے جانشین کے ظلم و قہر نے ہزاروں انسانوں کو صحرا نوردی پر مجبور کردیا تھا مگر اسلامی فتوحات کے بعد قبطیوںکو نہ صرف دینی آزادی ملی بلکہ امن و سکون سے زندگی گزارنے کا وہ فرحت بخش موقع فراہم ہوا جس کے لئے وہ صدیوں سے محروم تھے۔اسلام کے اسی دین اور مسلمانوں کے اسی مشفقانہ اور عادلانہ رویہ سے متاثر ہوکر انہوں نے اسلام قبول کیا ۔ان پر نہ کوئی دبائو تھا نہ ڈرصرف عدل و انصاف اور رواداری کا تاثر تھا۔ڈاکٹر محمد عماور نے مسٹر آرنلڈ کے حوالے سے ہی لکھا ہے کہ ترک عثمانیوں نے البانیہ کے میناریا اور ہیڈرے کے عیسائیوں سے فوجی خدمت کے عوض ٹیکس معاف کردیا تھا،اسی طرح جنوبی رومانیا کے آرملولی اور البانیہ کے مرڈیٹز کیتھولک عیسائیوں کو ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ کردیا تھا (الجتمع ،شمارہ نمبر 1823)
انگریزی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کرنے والے جارج سیل (1697 to 1736)نے لکھا ہے کہ شریعت محمدی ؐ کا پوری دنیا میں جو استقبال ہوا ،اس کی کوئی اور مثال نہیںملتی اور جو لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ شریعت محمدیؐ تلوار سے پھیلی ہوئی ہے وہ زبردست مغالطہ اور دھوکہ میں ہیں۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ اسلام تمام ادیان کے ماننے والوں کو برابر آزادی اورمساوات پر ہے۔(الدعوۃ ابی الاسلام ،ص 88،161)
اسی طرح فتح بیت المقدس کے موقع پر سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے جس اعلیٰ ظرفی اور اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کیا ،وہ عیسائی مورخ اسٹینے لین پول کے قلم نے یوں تحریر کیا ہے :جب یروشلم مسلمانوں کے حوالے کیا جارہا تھا ،اس کے سپاہ،،معزز افسران اور آفیسر نے خود شہر کی گلی کوچوں میں ایسا انتظام قائم کررکھا تھا کہ ایسی کوئی زیادتی نہ ہوجائے جس سے کسی عیسائی کو کوئی نقصان پہنچے۔شہر سے باہر جانے والے راستوں پر سلطان کا پہرہ تھا اور نہایت معتبر امیر باب داوود اس پر متعین تھا تاکہ ہروہ شہری جو زر فدیہ ادا کرچکا ہو حفاظت کے ساتھ باہر جاسکے۔الغرض غیر مسلم رعایا کے ساتھ مسلمانوں کا عدل و انصاف ،عفو ،درگزر ،رواداری ،ہمدردی اور خیر سگالی سے تاریخ بھری پڑی ہے کہ کس طرح مسلمانوں کے حسنِ سلوک ، دینداری اور مساوات کے زیر اثر ہی غیر مسلم اسلام کے نور سے منور ہوچکے ہیں مگر پھر بھی دشمنان اسلام اپنے غلط،جھوٹ اور خود ساختہ پرپیگنڈوں کو اس طرح جاری رکھے ہوئے ہیںکہ آج دنیا بھر میں مسلم اُمت سے وابستہ ہونا ایک بڑی مصیبت ، بلا اور آزمائش بن گئی ہے۔ 
 
 

تازہ ترین