کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

9 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدر مفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیر احمد قاسمی
سوال:بڑی مقدار میں نمونے کی ادویات ڈاکٹر کوSample بھی فراہم کرتی ہیں اور آئے روز طرح طرح کے تحفے (Gift)بھی دیتی ہیں۔ اس سب کا مقصد ایک تو یہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کی اپنی ضروریات پوری کرناہوتا ہے لیکن دوسرا اہم مقصد ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اس کمپنی کی دوائی مریضوں کو تجویز کرے۔اس طرح کمپنی کی دوائی زیادہ سے زیادہ فروخت ہوگی۔
اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کمپنی کے یہ گفٹ اور samples رشوت کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ کمپنیاں سود پر قرضے لے کر کام کرتی ہیں۔ اسی کاروبار سے وہ گفٹ بھی دیئے جاتے ہیں بلکہ کمپنیاں علم طب کے بارے میں بڑے بڑے سمینار منعقدکراتی ہیں یا ان کوSponserکرتی ہیں ان سمیناروں میں شرکت اس کے لئے ڈاکٹروں کو سفر خرچ بھی دیتی ہیں کیا سب لینا ڈاکٹروں کیلئے جائز ہے ؟
ڈاکٹر منصور احمد۔۔ سرینگر

کیا ڈاکٹروں کیلئے دواسازکمپنیوں سے ملنے والے گفٹ لینا جائز ہے؟

جواب :دواساز کمپنیاں بینکوں سے سودی قرضے لے کر جو دوائیاں تیار کرتی ہیں یقینا اُن قرضوں پر اُن کمپنیوں کو سود ادا کرنا ہوتا ہے لیکن سود کے حرام ہونے کے باوجود یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ اُن کمپنیوں کی طرف سے جو تحائف یا Sample ڈاکٹروں کو دیئے جاتے ہیں وہ بھی حرام ہیں۔ اس لئے کہ وہ سب سود کی رقم سے مہیا نہیں ہوتے یعنی ایسا نہیں ہے کہ کمپنی اپنی رقوم بینک میں جمع رکھیں اور پھر اُن رقوم پر سود لیں اور پھر اس سودی رقم کوSample یا تحائف میں استعمال کریں۔ اگر ایسا ہوتا تو یقینا یہ کہنا صحیح ہوتا کہ یہ Sample اور یہ Gifts بھی حرام ہیں اس لئے کہ یہ سودی رقم سے تیار کئے گئے ہیں۔ جب کہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ غرضیکہ اس بناء پر کہ بینک سے لی گئی رقم پر دواسازی کی گئی پھر وہ دوا مارکیٹ میں لائی گئی اور پھر اس دوا کو چلانے کے لئے تشہیر کی گئی اور ڈاکٹروں کو تحفے بھی دیئے گئے اور Sampleبھی تو یہ شرعاً قابل اعتراض نہیں ہے۔ نہ اس میں سودی رقم ہونے کا کوئی شائبہ ہے۔ اب رہا یہ معاملہ کہ کیا یہ رشوت ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ رشوت کہتے ہیں کسی غلط کام کے کرنے کیلئے کوئی رقم یا چیز دی جائے اور اس رقم یا چیز کی وجہ سے ہی وہ غلط یا غیر شرعی کام انجام دلایا جائے۔تو اگر کمپنی کی دوا درست نہیں ہے اور وہ دوا اپنے تمام ضروری اجزاء سے تیار نہیں کی گئی بلکہ وہ نقلی دوائی ہے یا جو ضروری اجزاء جس مقدار میں ہونا لازم ہے، اُس مقدار میں کمی بیشی کر دی گئی ہو اور اس لئے وہ دوا اب اُس فائدے سے خالی ہو جس فائدے کے لئے اُس کا اعلان ہورہا ہو اور جن امراض کے لئے اُس دوا کو منظورکرایاگیا ہو، اُن امراض میں جس مقدار کے اجزائے ترکیبی مطلوب ہیں، اُن میں خیانت کی گئی ہو اور ایسی ہی دوا چلانے کیلئے اور مریضوں کو اُسی دوا استعمال کرانے کیلئے ڈاکٹروں کو ترغیب دلانے کی غرض سے یہ SampleیاGiftدیئے گئے تو پھر یہ لینا اور دینا دونوں دھوکہ اور حرام ہیں۔اس لئے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ کمپنی ڈاکٹروں کو یہ تحفے دے کر اپنی غلط دوا مریضوں کو استعمال کراتی ہے اور مریضوں سے اپنے مطلوبہ دام وصول کرتی ہے۔ جو کہ مریضوں کے ساتھ سراسر دھوکہ اور خیانت ہے اور اس کیلئے ڈاکٹر استعمال ہوتا ہے اور مریض اس صورتحال سے بے خبر منہ مانگے دام ادا کرتا ہے۔ ایسی صورت میں یقینا یہ ظلم ہے، استحصال ہے، دھوکہ ہے، خیانت ہے اور امراض سے پریشان حال لوگوں کی رقوم غلط اور ملاوٹ کی چیزوں کو استعمال کرانے میں کمپنی کا آلہ کار بننا ہے۔ اس لئے ایسی صورت میں ڈاکٹر کایہ تحفہ لینا درحقیقت ظلم اور خیانت کا آلہ بننے کے غیر شرعی کا م کا ارتکاب  ہے اور یہ نقلی اور ملاوٹ کی چیز استعمال کرانے کا معاون بننا بھی ہے چونکہ تعلیمات قرآن کے سراسر خلاف ہے ارشاد قرآن ہے گناہ اور زیادتی کے کام میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔لیکن اگر کمپنی کی دوا صحیح ہے ، تمام اجزاء ترکیبی کی مقدار پورے اہتمام سے تیار ہوئی ہے اور ڈاکٹر خدا کو حاضر و ناظر جان کرسمجھتا ہے کہ یہ دوا مریض کے لئے مفید ہے تو پھر یہ تحفے وغیرہ رشوت کے زمرے میں نہیں آئیں گے اور اس صورت میں حرام بھی نہ ہوں گے۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انجام کار میں ان تحائف اور سمیناروں کے خرچے اورSample کا صرفہ بھی دراصل مریض سے ہی وصول کیا جاتا ہے اور یہ سب اُس قیمت میں شامل ہوتا ہے جو دوائی کے ڈبے پر درج ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس دوا کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ قیمت اس پر درج ہوتی ہے جو اُن تمام زائد خرچوں کوIncludeکر کے لکھی جاتی ہے اس کیلئے حکومتوں کے وہ ادارے ذمہ دار ہیں جوDrugcontrol کیلئے کام کرتے ہیں کہ دوا سازی کے اس پورے کام اور اُن قیمتوں میں اس غیر ضروری اضافہ کو کنٹرول کریں اور صارفین کو استحصال سے بچائیں ورنہ مریضوں کے استحصال کا یہ ساراسلسلہ مادیت پرستی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب میں مزید ظلم کا سبب بنتا رہے گا اور دوسری بہت ساری وجوہات کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے روز افزوں پھیلائو کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ نقلی غذائوں، نقلی دوائوں اور ظلم و استحصال کی آمیزش سے کئے جانے والے اس علاج معالجے میں امراض کم ہونے کے بجائے ان میں اضافہ ہورہا ہے اور ایک طرف طبی تحقیقات آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور علاج و معالجہ کے وہ نت نئے محیرالعقول طریقے سامنے آرہے ہیں جن کا تصور بھی پہلے ممکن نہ تھا اور دوسری جانب بیماریوں کا پھیلائو اس سے بھی زیادہ رفتار سے جاری ہے۔
 
سوال :آج کل ہمارے سکولوں اور کالجوں میں صبح8بجے سے2بجے تک پڑھائی کا کام ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے ظہر کی نماز اور خاص کر جمعہ کی نماز خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ کچھ سکولوں کے انتظامیہ بہت شوق اور جذبہ سے جمعہ کے دن کافی دیر پہلے 12بجے یا ایک بجے چھٹی دیتے ہیں تاکہ جمعہ کی نماز میں شرکت ہوسکے لیکن کچھ سکولوں کی انتظامیہ اوقاتِ کار میں سختی برتتی ہے، جس سے نماز چھوٹ جاتی ہے۔اس صورتحال میں ہم کو کیا کرنا ہے؟
توفیق احمد راتھر 

سکولوں میں نماز جمعہ اور ظہر کی اجازت کا مسئلہ

جواب: جمعہ کی نماز فرض عین ہے جس شخص نے جمعہ کی نماز بغیر عذر کے ترک کی اُس کے لئے سخت وعید ہے۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس نے بلاعذر تین جمعہ ترک کر دیئے اُس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں یعنی اس کا مسلمان رہنا اور اُس کے ایمان کا بچ جانا ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے اس لئے تعلیمی اوقات کو اس طرح مقرر کرنا کہ اساتذہ اور طلباء کو جمعہ چھوٹ جائے ،سراسر غلط ہے۔اور اگر اوقات تعلیم اس طرح رکھے گئے کہ جمعہ ترک کرنا پڑے تو ایسی صورت میں شرعی حکم یہ ہوگا کہ اساتذہ اور طلباء کلاس چھوڑ کر نماز جمعہ ادا کریں۔ اگر تعلیمی نقصان کا عذر پیش کیا جائے تو یہ عذر شرعاً معتبر نہیں ہے۔چونکہ تعلیمی اداروں میں پورے تعلیمی سیشن کے دوران وقفہ دوپہر ہوتا ہے، لہٰذا نماز ظہر اورجمعہ کیلئے آسانی کے ساتھ متبادل موجود ہے، ان اداروں کے ذمہ دارآسانی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں۔
اب اگرواقعتاکسی تعلیمی ادارے کا پرنسپل یہ کہے کہ نماز ضروری نہیں تو وہ مسلمان ہے ہی نہیں چاہئے وہ کسی مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہو اور مسلمانوں جیسا نام بھی رکھتا ہواُس ادارے کے طلباء یا اُن کے والدین اور مسلمان سٹاف پر لازم ہے کہ وہ اس منافق(اندر سے کافر زبان سے مسلمان) کے اس مرتد و ملحد بنانے کی مہم کو ناکام بناے کی ہرجائز اور ممکن تدبیر کریں۔
احادیث میں اس طرح کی صورتحال کے پیش آنے کا واضح ارشاد موجود ہے چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک وقت ایسا آئے گا کہ تمہارے سربراہ تم کو دین پر چلنے سے روکیں گے۔ ایک حدیث میں ہے حضرت عمرؓ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کو آخری زمانے میں اربابِ اقتدار کی جانب سے دین کے معاملے بہت مشکلات پیش آئیں گی۔ اُن کی طرف سے کھڑی کردہ مشکلات اور اُن کے وبال سے وہ لوگ محفوظ رہیں جو اللہ کے دین کو پہچانیں۔ پھر اس کیلئے اپنی زبان ، اپنے دل اور اپنے ہاتھ سے پورا مقابلہ کریں۔ مشکوٰۃ
زیرنظر صورتحال اس کی ایک مثال ہے۔ بہرحال جمعہ فرض ہے۔ اس کیلئے اپنے تعلیمی اوقات میںایسی تبدیلی کرنا لازم ہے جس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں سے وابستہ مسلمان اساتذہ و طلباء جمعہ کی محرومی سے محفوظ رہیں اور اگر جمعہ کے لئے وقفہ بھی نہ دیا جائے اور اوقات میں تبدیلی بھی نہ کی جائے تو ایسے نظام کو اپنی ایمانی غیرت سے رد کر دیا جائے۔ حضرت نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ کسی مسلمان کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی بھی انسان کے اُس حکم کو مانے جس سے خالق کی نافرمانی ہو۔  
 
سوال:۱- ایک لڑکی اگر طلاق لینا چا ہے تو کیا وہ یا زمین اور دیگر اموال ،واپس لاسکتی ہے یا کہ اس پر شوہر کا ہی حق ہے اور وہ اس کو اپنے پاس رکھ سکتاہے ۔جب کہ بدلِ خلع میں شوہر صرف حق مہر کا ہی حقدار ہوتاہے ۔ 
سوال:۲-دوسری صورت اگر لڑکا طلاق دینا چاہے تو وہ لڑکی کو مائیکہ اور سسرال اور سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے دیئے گئے تحائف لڑکی کو واپس کرسکتاہے یا نہیں ؟
نورالحسن 

شوہر میں خرابی ہو تو خلع کا عوض لینا گناہ 

جواب:۱-جب زوجہ طلاق کا مطالبہ کرے تو شوہر کو حق ہے کہ وہ عوضِ طلاق کا مطالبہ کرے لیکن اگر شوہر کے ظلم یا کسی دوسری کوتاہی کی بناء پر زوجہ مجبورہوکر طلاق کا مطالبہ کرے تو ایسی صورت میں شوہر کا عوض طلب کرنا جائز نہیں ہے ۔ اب اگر اس نے عوض طلب کرلیا اور لڑکی اپنی گلوخلاصی کے لئے مجبوراً عوض دیدے تو عورت کو کوئی گناہ نہ ہوگا۔اگر بدل طلاق جس کو بدلِ خلع بھی کہتے ہیں ،میں صرف مہر طے ہوا تو بقیہ تمام چیزیں عورت کا ہی حق ہے اور اگر بدلِ خلع میں مہر اور دیگر اشیاء کا مطالبہ کیا گیا اور عورت نے اپنی جان چھڑانے کے لئے مجبوراً قبول کرلیا تو پھر مہر اور دیگر وہ اشیاء جو بدلِ خلع میں طے کی گئیں وہ شوہر کو دینی ہوں گی ۔
جب کوئی شوہر یہ کہے کہ میری بیوی مجھ سے چھٹکارا چاہتی ہے میں کس کس چیز کا مطالبہ کرسکتاہوں تو جواب یہ ہوگاکہ اگر وہ خواہ مخواہ رشتہ ختم کرنے پر مُصر ہے تو پھر جومہر اور زیورات شوہر نے دئے ہیں اُن کی واپسی کی شرط پر خلع کرسکتے ہیں لیکن اگر خامی اورخرابی شوہر میں ہے تو کچھ بھی لینا گناہ ہے ۔
جواب:۲-جب شوہر از خود طلاق دے تو ایسی صورت میں عورت کو مہر اور دیگر تمام اشیاء چاہے وہ میکے والوں کی طرف سے دی گئی ہوں یا سسرال والوں کی طرف سے ، یہ سب اُس مطلقہ کا حق ہے اور شوہر اُن میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا۔  
 
 
سوالات بھیجنے کا پتہ’’کشمیرعظمیٰ‘‘
پوسٹ باکس نمبر 447جی پی او سرینگر
جی ،کے،کمیونی کیشنز،۶ پرتاپ پارک، 
ریذیڈنسی ،روڈ سرینگرفیکس نمبر:2477782

تازہ ترین