ماں: جاں میری قرباں تجھ پہ میری ماں

8 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد یو سف مکرو۔۔۔ آرونی اسلام آباد کشمیر
  اللہ کے رسول ﷺ کا فر مان مبارک ہے : ’’جنت ماں کے قدمو ں تلے ہے۔‘‘ یہ ماں کا مامتا بھرا وجو د ہے جو استقرارِ حمل سے وضع ِحمل تک جا ں گسل اور پُردرد مراحل طے کر تا ہے ۔ یہ ما ں کا ہی وجو د عالی ہے جو وضع ِحمل سے دودھ چھڑانے تک کے مشکل مرا حل کو بڑی خندہ پیشانی سے انگیز کر تا ہے ۔ یہ ماں کا ہی وجو د ِ ملکوتی ہے جو ہر دم ہر آن بچے کے آرام کے لئے دنیا بھر کی کلفتیں اور تکلیفیں نہایت ہی مسرت اورمصابرت سے سہہ لیتا ہے ۔ یہ ماں ہی ہے جو بچے کو صرف دینا چا ہتی ہے ، اُس سے لینے کے خیا ل سے بے نیاز ہو تی ہے۔ یہ ما ں کا ہی قلب ِاطہر ہے جس پر خا لق کائنات اپنی اَتھاہ رحمت ومحبت کا پرتو ڈال کر اسے بچے کے لئے سراسر رحمت و مودت کا پیکر بنا دیتا ہے ۔ یہ شفیق و رفیق ما ں ہی ہے جو جُوئے شیِر کی ہمہ وقت روانی سے بچے کا سفر حیات سہل و آسان بنا دیتی ہے ۔ ماں اگر اللہ کی نیک بندی ہو تو اوصاف حمیدہ اور اخلاق کر یما نہ بھی بچے کے وجو د میں کوٹ کوٹ کر بھر تے ہوئے اسے وقت کا حسینؓ و حسن ؓ بنادیتی ہے ۔ یہ ما ں ہی ہے جو اپنی حسین تمنا ؤں ، خو بصورت آرزؤں ، نیک خو اہشوں کو بچے کی معصوم تمناؤں اور آرزوں کی تکمیل کے لئے نہایت ہی دلجمعی اور طما نیت سے قربان کر تی ہے ۔ بسا اوقات یہ ما ں ہی ہوتی ہے جو اولاد کے دفاع میں اپنی جان عزیز تک نچھاور کر تی ہے۔ یہ ماںجیسی انمول دولت ہے جو بچے کے کل کو تا بندہ و درخشندہ بنا نے کے واسطے اپنا آج خو شی خوشی لٹا دیتی ہے ۔یہ ما ں جیسی عظیم ترین نعمت ہے جو بچے کی راہ میں ہر سنگ گراں کو ہٹا کر بچے پر کبھی احسان نہیں جتلا تی۔ یہ ماں کا ملکو تی روح وبدن ہی تو ہے جو نا فرمان اولاد کی زندگی میں غم کی پر چھا ئیاں دیکھ کر خون کے آنسوروتی ہے ۔ما ں کی ما متا خا ر زارِ حیات میں مثل نخلستان ہے جو کاروان ِ زندگی کا سفر میں قدم قدم ہے۔ اسی لئے کسی نے کیا خو ب کہا ہے جس طرح ریگستان کے اندر ایک سر سبز درخت لہلہاتا ہے ،ما ں کی محبت انسان کے مصیبتوں کے اندر اسی طرح لہلہاتی ہے ۔ عالم ِ آب و گل کی بدیہی حقیقت ہے۔ یا د رکھئے ما ں کی محبت وہ گہرا سمند ر ہے جس کی گہرائیوں کی پیما ئش آج تک کو ئی نہ کر سکا ہے۔ ما ں کی محبت وہ ہما لیہ پہاڑ ہے جس کی بلندیوں کی پیما ئش آج تک نہ کو ئی کر سکا ہے ۔ خدا کے بعد اس دنیا میں بُروں سے محبت کر نے والی ما ں کے سوا کو ئی دوسری ہستی نہیں۔ ارشادِ رُبانی کے مطا بق اللہ بزرگ و برتر کے احسان کے بعد انسان پر جن کا حق مقدم ہے وہ والدین ہیں۔’’ اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اُس کے سوا کسی کی عبا دت نہ کر اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلو ک کرو۔ اگر وہ تیرے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جا ئیں اُن میں ایک یا دو نوں اُن کو اُف تک نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو اور ان کے ساتھ احترام کے ساتھ با ت کرو اور ان کے سامنے نر می سے عجز کے با زو جھکا دواور کہو کہ اے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے میں بچپن میں پیار و شفقت سے پا لا ہے۔ تمہا را رب خو ب جا نتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے ۔ اگر تم نیک رہو گے تو وہ توبہ کر نے والو ں کو معاف کر نے والا ہے۔ (بنی اسرائیل ۲۵۔۲۶) ۔ ان آیات کے ضمن میں ایک مفسر قرآن بہ دلا ئل حقوق اللہ کے بعد حقوق والدین کی یو ں تو ضیح فرما ئی ہے: ’’خدا انسان کا سب کچھ ہے وہ اس کا خا لق بھی ہے ما لک بھی اور رزاق بھی مگر خدا غیب میں ہے ۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لئے انسان کے سامنے نہیں آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقا بلے میں اپنے عجز کا اقرار کر تا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کر تا ہے نہ کہ سی ظا ہری دباؤ کے تحت۔اس اعتبار سے بوڑھے ما ں با پ کا معاملہ بھی اپنی نو عیت کے اعتبا ر سے خدا کے معاملہ جیسا ہے کیو نکہ بوڑھے ماں با پ کا اپنی اولا د کے اوپر کو ئی ما دی زور نہیں ہو تا ۔ اولاد جب اپنے بو ڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلو ک کر تی ہے تو اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایسا کرتی ہے نہ کہ مادی دباؤ کے تحت ۔ مو جودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے ۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لئے مجبو کیا گیا ہو۔ اس کو خو د اپنے ارادہ کے تحت وہ کر نا ہے جو وہ اس وقت کر تا ہے جب کہ خدا اُس کے سامنے اپنی تمام طا قتوں کے ساتھ ظا ہر ہو جا ئے یہ اختیار انہ عمل انسان کے لئے بڑا سخت امتحان ہے۔‘‘ ما ں کے حق کو با پ کے حق پر جو برتری حاصل ہے ،رُبا نی ارشاد ات یو ں اس کی غما زی کر تے ہیں ،’’ اورہم نے انسان کو اس کے ما ں با پ کے معاملے میں تا کید کی۔ اس کی ماں نے دُکھ پر دُکھ اُٹھا کر اس کوپیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا کہ تو میرا شکر کراور اپنے والدین کا ۔۔‘‘ (لقمان۔۔۱۴)  
ڈاکٹر اسرارؒ اس ضمن میں رقمطراز ہیں: ’’اللہ کے حضور ہر وقت والدین کے لئے دعا گو رہنا چا ہئے کہ اے اللہ ! جب میں ضعیف، کمزور اور محتاج تھا تو انہوں نے میری غذا ، میرے آرام اور میری دوسری ضروریات کا انتظا م کیا ۔ میری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا اور میرے لئے اپنے آرام و آسائش کو قربا ن کیا ۔ اب میں توان کے ان احسانا ت کا بدلہ نہیں چکا سکتا ۔ اسلئے میں تجھ ہی سے درخواست کر تا ہو ں کہ تو ان پر رحم فرمااور اپنی خصوصی شفقت اور مہربا نی سے اُن کی خطاؤں کو معاف فرما دے۔ (بیان القران، چہارم، صفحہ۲۹۹)۔ ما ں کی ممتا ور اولاد پر اس کے حقوق کے حو الے سے زیر قلم یہ واقعہ سبق آموز ہے ، ’’ایک صحا بی ؓ حضور رسالت ماب ؐ کی آںخدمت میں حا ضر ہوئے اور عرض کیا، ’’ اے اللہ کے رسولؐ ، میں نے اپنی ما ں کو پیدل حج کروایا اور میرے پا ؤں میں جو تا بھی نہیں تھا ، گرم پتھروں پر چل کر میرے پا ؤں میں چھا لے پڑ گئے ہیں ۔ آپؐ نے فرما یا ، ہاں! جب تمہاری ولادت ہو ئی تھی اور تمہاری ما ں کو جو درد ہو ئی تھیں ممکن ہے ان میں سے کسی ایک درد کا بدلہ تم نے چکا دیا ہو ۔‘‘ ماں کو ربِ رحیم نے اپنی صفت رحمیت کا نمو نہ بنایا ہے۔
 ماں کی صفت رحیمیت ربّ رحیم کی صفت رحمت ورحیمیت ہی کی ایک معمولی جھلک قرار دی جا سکتی ہے۔ ایک اللہ والے بزرگ کی ما ں کا انتقال ہوا تو ربّ کریم نے ان کے دل پر الہام فرما یا : ’’اے میرے پیارے!جس کی دعائیں تیری حفاظت کرتی تھیں، وہ ہستی اب دنیا سے رخصت ہو ئی، لہٰذا اب سنبھل کے قدم اٹھا نا ‘‘۔ ماں کی ما متا سے متعلق اَن گنت واقعات میں سے ایک واقعہ تحریر کرتا ہوں تاکہ ہما ری نو جوان نسل اس کے آئینہ میں ما ں کی فرما ن برداری کا نقش راہ متعین کرے۔ چین میں پچھلی صدی میں ایک بھیا نک زلزلہ آیا جس میں لا کھو ں لو گ لقمۂ اجمل بن گئے۔ ایک کثیر منزلہ عما رت کا ملبہ ہٹا یا جا رہا تھا کہ کنکریٹ سلیب کے ایک بھا ری بھرکم ٹکڑے جو دیوار کے سہارے کھڑا تھا کے نیچے ایک عورت کو بے ہوش پا یا گیا جس کے ساتھ ایک شیرخوار بچہ لیٹا ہواتھا ۔ دونوں کو ہسپتال لیا گیا ۔ علاج و معالجہ کے بعد جب ماں ہوش میں آگئی تو ڈاکٹروں نے اسے پو چھا کہ تیری دونوں ہا تھو ں کی انگلیوں کے سرے کیسے زخمی ہو ئے ہیں ۔ ما ں نے جواب دیا کہ میں سلیب کے ٹکڑے کے نیچے محفوظ تھی، بچہ میری چھاتی سے لپٹا ہواتھا ۔ ایک دو دن میں بچے کو دودھ پلاتی رہی۔ خو د بھوکی تھی ،سینے میں دودھ خشک ہو گیا ۔ بچہ بھو ک کے ما رے رونے لگا۔ جب اس کی بھو ک مٹا نے کی کو ئی تدبیر مجھے نہ سوجھی تو مجھے خیال آیا کہ میرے اندر خون تو مو جود ہے ۔ میں نے اپنے ہا تھ کی انگلی کو دانتوں سے کا ٹا اور ا س سے ٹپکنے والے خو ن کو بچے کے منہ میں ڈال دیا ۔ بچے نے انگلی کو خو ب چو سا ، خو ن اس کے پیٹ میں چلا گیا اور وہ خا مو ش ہوا۔ اب میں بچے کی بھوک مٹا نے کے لئے ایک انگلی کو معاً بعد دوسری انگلی کا ٹتی رہی اور بچے کو اپنا خو ن پلاتی رہی اور یہاںتک کہ میں خو د بے ہوش ہو گئی اور بچہ بھی خو ن جیسے ثقیل غذا کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا۔ ماں کی ممتا کا اندازہ ہو ا ہو گا کہ اپنے جسم کے خون سے ننھے منے بچے کی جان بچا نے کی اس حدتک کو شش کی کہ اپنی زندگی کی کو ئی پرواہ ہی نہ کی۔ اسی لئے عظیم مفکر جبرانی نے کیا خوب کہا ہے کہ’’ انسان کے لبو ں سے ادا ہونے والے تمام الفاظ میں سب سے خو بصورت لفظ ’’ماں ‘‘ ہے اور حسین ترین تخا طب ’’میری ماں‘‘ ہے۔ماں کی ما متا کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اولاد کی عمر سے قطع نظر اولاد کے رویے اور سلوک سے قطع نظر اسے شیر خوار اولاد کی حیثیت سے ہرآن و ہر لمحہ نوازتی ہے اور یوں حیات مستعار کی کٹھن و پُر آشوب راہ میں اپنی بے غرض محبت و شفقت اپنی بے بدل سوز و گداز اور اپنی بے مثل جا نثاری و جاں سپاری کا رس گھول کر راہ حیات کے اس جاں گسل سفر کو کما حقہ سہل و آسان بنا کے رکھ دیتی ہے۔ماں اور اولاد کی شادمانی کی دل نواز گھڑیوں سے زیادہ اس کے دُکھ درد اور تکلیف و مصیبت پوری ٹرپ کے ساتھ اس کی شریک وسہیم رہتی ہے۔ ماں کی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ہو یدا دعائیں اولاد کی تقدیر افلاک رفعت و عظمت میں مثل مہہ و انجم تاباں و درخشاں کر کے رکھ دیتی ہے ۔ علامہ اقبالؒ نے ماں کی وفات پر جو مرثیہ کہا ہے، اس میں ماں کی انہی دعاؤں کی صدائے با زگشت سنائی دیتی ہے   ؎
خا کِ مرقد پر تیری لے کر یہ فریاد آؤں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آوں گا
تربیت سے تیری میں اُنجم کا ہم قسمت ہوا 
گھر میرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوا
دفترِ ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیات
عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی
میں تیری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسی
آغو ش ِما در اولاد کی پہلی درس گاہ ہے ۔ ماں صالح ہو ، نیک خصلت ہو ، با اخلاق و با مروت ہو تو اولاد فطری طور ان صلا حیتوں کا پیکر و مجسمہ بن جا تی ہے۔ قوم کی عظمت و جلال سیم و زر سے نہیں بلکہ مردان کار کے طفیل ہو تی ہے۔ نا بغۂ روزگار شخصیتیں صالح اور خدا ترس ماؤں کی کو کھ سے جنم لیتی ہیں۔ مفسر قرآن اور تحریک اخوان المسلمون کے فکری رہنماء سیدقطب شہید ؒاپنی ماں کے تئیں احساسات کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں، ’’ اے میری ماں ! گاؤں میں رمضان کا پو ارا مہینہ جب ہما رے گھر پر قاری حضرات د ل نشین اندازمیں قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو آپ گھنٹوں کان لگا کر پوری محو یت اور تو جہ کے ساتھ پردہ کے پیچھے سے سنا کر تی تھیں۔ میں آپ کے پاس بیٹھ کر جب شور کرتا تھا تو آپ مجھے اشاروں کنائیوں سے باز رہنے کی تلقین کرتیں اور پھر میں بھی آپ کے ساتھ کان لگا کر سننے لگ جاتا۔ میرا قلب الفاظ کے مسحور کن لحن سے محظوظ ہو تا،اگر چہ اُس وقت مفہوم سے نا آشنا تھا ۔ آپ کے ہاتھوں جب پروان چڑھا تو آپ نے مجھے گاؤں کے پرائمری اسکول میں بھیج دیا ۔آپ کی سب سے بڑی آرزو یہ تھی کہ اللہ میرے سینے کو کھول دے اور میں قرآن حفظ کر لوں ۔ اللہ نے مجھے خوش الحا نی سے نواز لیااور میں آپ کے رو برو بیٹھا ہر وقت قرآن تلاوت کیا کروں ۔ جب آپ کی یہ آرزو بر آئی اور میں نے قرآن حفظ کر لیا تو آپ نے مجھے اس راہ پر ڈالا جس پر اب میں گا مزن ہوں ۔۔اے اماں! آپ کا ننھا بچہ آپ کا لخت جگر آپ کی تعلیم و تربیت کی طویل محنت کا ثمرہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اگر چہ حُسن ِترتیل کی اس میں کمی ہے لیکن شاید حُسن ِتاویل کی نعمت سے وہ محروم نہیں۔‘‘سید احمد شہیدؒ سے اُن کی ماں مخا طب ہو کر فرما تی ہے ، ’’ بیٹا! شوق سے جنگ و جدل کے میدان میں جاؤ، مگر میری یہ بات خوب یاد رکھو کہ بُزدلی نہ دکھا نا بلکہ خو ب بہادری اور حو صلہ سے لڑنا ۔ اگر منہ پھیر کر راہ فرار اختیارکرو گے تو پھر تعلق تو بہت دور کی بات ہے ، میں تہاری صورت بھی نہیں دیکھوں گی۔‘‘علامہ اقبالؒ کی تربیت میں بھی ماں امامہ بی بی کا رول آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ ’’جب علامہ پیدا ہو ئے تو ان کی والدہ نے بکری منگوا کر گھر میں رکھ لی۔اُن کے شوہر کے لئے یہ امر تعجب تھا اس لئے انہو ں نے ا س سے پو چھا کہ بکری منگوانے کا کیا مقصد ہے۔ اُم ِاقبال نے جو جواب دیا وہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔ بو لیں، ’’ آپ کی آمدنی مجھے مشکوک نظر آتی ہے، اس لئے میں اپنے دودھ سے اپنے بچے کی پرورش نہیں کروں گی۔ میں نہیں چا ہتی کہ میرے بیٹے کے جسم میں ذرا سابھی حرام غذا شامل ہو ۔‘‘ سید مو دودی ؒ کی والدہ کن صفات ِحمیدہ اور اخلاقِ کریمانہ کی ما لک تھیںاُس کی روئیداد محمد فاروق مودودی یو ں بیان کرتے ہیں: ’’وہ بہت ہی درویش صفت خا تون تھیں ۔ ایک ایسی خاتون جن کو دنیاکی کسی بھی چیز سے ہم نے کو ئی دلچسپی نہ دیکھی، وظیفوں اور نماز میں مصروف رہتیں۔ بڑی شاکر اور خوش خلق تھیں۔ اُن کا حا فظہ بڑا زبردست تھا، اُنہیں خود پرحد درجہ اعتماد تھا۔ وہ با تونی نہ تھیں، جب بات کرتی تو اس میں خا ص وزن ہو تا۔ با وزن گفتگو کے با عث وہ محفل میںمیرِ محفل ہو تیں۔ بڑی رحمدل، بہت ہی مخیر اور اور ترس کھا نے والی خا تون۔ ہر شخص کی اپنے استعداد سے بڑھ کر مدد کرتیں۔ صبح سویرے اُٹھ کر نماز پڑھنے کے بعد کم از کم ایک پارے کی تلاوت کرنا ان کا معمول تھا۔ وہ راتوںکو اُٹھ کر عبادت کیا کرتیں۔۔۔‘‘مو لا نا سید ابو الحسن علی ندویؒ سے اپنی والدہ نصیحتاً فرما تی ہیں:’’علی ! اگر اللہ کی رضا مندی حا صل کر نا چاہتے ہو اور میرے حقوق ادا کر نا چاہتے ہوتو ان سبھوں پر نظر کرو جنہو ں نے علم دین حا صل کر نے میں زندگی گزار دی ہے۔ قرض کبھی نہ لو ، رقم ہو تو خرچ کر لو ورنہ صبر کرو۔ تمہارے بزرگوں نے بہت مصیبتیں جھیلی ہیں۔ اس وقت کی تکلیف کو با عث فخر سمجھو، قرض کی عادت ہلاک کر نے والی ہے۔ اگر وفائے وعدہ کرو تو کو ئی حرج نہیں۔ ہم کو ن ہیں علی! یہ بھی تمہاری سعادت مندی ہے کہ میری نصیحت پر عمل کرو ۔‘‘      
رابطہ9906603748:
 

تازہ ترین