غزلیات

4 نومبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

کھیل مشکل ہے مری ہار بھی ہو سکتی ہے
گھر کی بنیاد میں دیوار بھی ہو سکتی ہے
 
تری گلیوں میں تو جذبوں کی تجارت کر لی
اب نمائش سرِ بازار بھی ہو سکتی ہے
 
مرے اندر جو عمارت ہے تری یادوں کی
شدتِ درد سے مسمار بھی ہو سکتی ہے
 
اب وہ مقتل میں ہے خود مدِ مقابل میرے
اب یہ گردن تہِ تلوار بھی ہو سکتی ہے
 
اتنا آساں بھی نہیں چھوڑ کے جانا مجھ کو
اب کے بچھڑو گے تو تکرار بھی ہو سکتی ہے
 
چین پڑتا نہیں اس پار بھی مجھ کو جاویدؔ
کوئی خواہش ہے جو اس پار بھی ہو سکتی ہے
 
سردار جاوید خان
رابطہ؛ مہنڈر، پونچھ،جموں وکشمیر
نمبر؛ 9697440404
 
 
صحرا کا مسافر ہوں پریشان بہت کم
کچھ پیاس ہے، کچھ دھول ہے،سامان بہت کم
 
ملتا ہے کوئی قیس یہاں صدیاں گُزر کے
آباد ہے یہ نجد کا ویران بہت کم
 
آنکھوں میں مری اپنی الجھتی ہیں شعاعیں
زلفوں کی طرف ہے مرا رجحان بہت کم
 
اُجڑے ہوئےخوابوں کی یہ بستی ہے مرے دوست
اس طرف کہاں جائے مرا دھیان بہت کم
 
جب رنگِ سیاست نے چُھوا تاج محل کو
آثارِ محبت کی ہوئی شان بہت کم
 
اے دورِ فلک گھوم کہ ہوجائے مسافت
کشمیر سے افغان تا ایران بہت کم
 
مضمون ہر اک آپ سے منسوب ہوا جائے 
شیداؔ کے یہاں دوسرے عنوان بہت کم
 
علی شیداؔ کشمیر
(نجدہ ون) نپورہ اسلام آباد 
کشمیر9419045087
 
 
 
 
اس پہ غم کانقاب رہنے دو
میری دُنیاخراب رہنے دو
میں اِسی طرح جی لوں گا
میری آنکھوں میں خواب رہنے دو
میں نے جوبھی کئے سوال تُم سے 
اُن کاکیاہے جواب رہنے دو
زندگی یہ گُزرہی جائے گی 
مُجھ کومحوِ عذاب رہنے دو
ہرحقیقت ہے تلخ تراِس کی 
زندگی کوسراب رہنے دو
دُو‘رہوں گے کِسی نہ صورت یہ 
وقت کے پیچ وتاب رہنے دو
اُس کاہر اِک ستم ہے یادہتاشؔ
کیاکروگے حِساب رہنے دو
 
پیارے ہتاشؔ
دور درجن لین جانی پور جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
 
 
ہجر کا محشر سجایا جائےگا
عشق کے بارےمیں پوچھاجائےگا
 
کون کس کی کھال تھا پہنے ہوئے
آئینہ سب کو دکھایا جائےگا
 
ہم ہی ساحل سے ہٹائے جائیں گے 
اور دریا یوں ہی بہتاجائےگا
 
پہلے گم ہونے کہیں دیں گے مجھے 
پھر مجھے ہر سمت ڈھونڈا جاےگا
 
یوں کبھی تکمیل کردی جائے گی 
آگ کو پانی میں رکھا جائے گا
 
جانے کس منزل کا ہوگا اب سفر 
جانے کس رہ سےگزاراجائےگا
 
جب کبھی بھی یاد ان کی آئے گی 
اک تسلّی سے رجھایا جائے گا
 
کیا کہیں پیش آئے گا ٹھہراؤ بھی 
یا یونہی منظورؔ چرخا جائے گا
 
ڈاکٹر احمد منظور
بارہمولہ ، کشمیر
موبائل نمبر؛9622677725
 
 
(ناصر کاظمی کی روح  سے معذرت کے ساتھ)
’غم ہے یا خوشی ہے تو 
حور یا پری ہے تو
میں تمہارا روغن ہوں
تپِ عارضی تو نہیں
کاسنی اگر ہوں میں
جس کا چاند ہو لاپتہ
میں ہوں اب گیا گزرا
اس گلی کا میں ہوں سرغنہ
میں خلل دماغوں کا
جتنا منچلا ہوں میں 
ہر گھڑی جو بیٹھ جائے
میں عدو مسرت کا
تیری دوستی میں نہیں
جس نے آنکھ ماری تھی
بن بلائے مہماں ہوں  میں
میں پٹا ہوا نغمہ
جتنا سیدھا سادھا ہوں میں
جو کبھی نکلتی نہ ہو
سب کو جو کھٹکتی ہو
جو کبھی نہ کُھلتا ہو
میں مزاج سے گرم و خشک
خیریت ہے مہرالنساء؟
کیا یہ سچ ہے مہر النساء؟
مہر النساء میں ہوں اردو
ملا ؔجی تیرا باولا
ملاؔ اس دیار میں
 
 
میری زندگی ہے تو‘
جو بھی ہے بُری ہے تو
تخم بابچی ہے تو
مرضِ دائمی ہے تو
تخمِ کاسنی ہے تو
ایسی چاندنی ہے تو
ہوبہو وہی ہے تو
اور اجنبی ہے تو
دل کی کھلبلی ہے تو
اتنی منچلی ہے تو
ایسی اک گھڑی ہے تو
دشمنِ خوشی ہے تو
میری دوستی ہے تو
باخدا وہی ہے تو
گھر میں اجنبی ہے تو
غزل اَن کہی ہے تو
اتنی مطلبی ہے تو
ایسی لاٹری ہے تو
ایک وہ کمی ہے تو
قبضِ دائمی ہے تو
اور بلغمی ہے تو
بھاگی جارہی ہے تو
میکے جارہی ہے تو
اور فارسی ہے تو
کس کی باولی ہے تو
سب سے اجنبی ہے تو
 
ملاآصف ؔکاشمیری سری نگر 
 
 
 
وقت کے ساتھ جو چلتا ہے 
ہاتھ کہاں  کب ملتا ہے 
جس کی  قسمت  اچھی  ہو 
پیڑ وہی بس پھلتا  ہے 
مٹتی دِ لوں سے  ہے نفرت
پیار جہاں پر پلتا  ہے 
دور اندھرا  کرتا  وہ 
دیپک بن جو جلتا  ہے 
جاتے سب ہیں بھول منیؔ
جب بھی سورج ڈھلتا ہے 
 
  ہریش کمار منیؔ بھدرواہی 
جموّںو کشمیر
hkmani1990@gmail.com
 
 
 
خون میں نہا رہا ہے وطن میرا 
درد  سے  لرزتا  ہے   بدن  میرا
آ رہی ہیں صدائیں گلیوں سے 
وحشتوں کا گھر بنا ہے چمن میرا
میں دے رہا ہوں دہائیاں حق کی 
وہ سمجھتے ہیں اِسے دیوانہ پن میرا
ہیں رواں خوں کی ندیاں ہر سُو 
چپ  رہے  آج  بھی کیوں دہن میرا
تھا بہت خوش کلامی کا شوق مجھے 
آتشیں کردیا ہے سخن میرا
 
میر خوشحال ؔاحمد
دلدارکرناہ ،موبائل نمبر... 9622772188
 

تازہ ترین