غزلیات

28 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نہ جانے کون سا طوفان آنے والا تھا 
کہ دشت دشت میری پیاس کا حوالہ تھا
 
اندھیرے ایسی کرامت کا پا سکے نہ سُراغ 
جہاں پہ میں نے قدم رکھ دیا اُجالا تھا
 
میں اور جاتا کہاں کاسہء نگاہ لیے 
ہر ایک رُخ تو زمانے کا دیکھا بھالا تھا
 
فریب خوردہ منظر کی پیاس بُجھ نہ سکی
اگرچہ اُس نے سرابوں کو بھی کھنگالا تھا
 
تلاشِ لُقمۂ تر اس طرح  تمام ہوئی 
گلے میں اٹکا ہوا خوں بھرا نوالہ تھا
 
گُزر گئی انہی نیرنگیوں میں عمرِ عزیز 
کہ رات اُجلی نہ تھی اور دن بھی کالا تھا
 
شبیبؔ سمجھا تھا جس کو میں سرگزشت اپنی 
حیات ِ میر پہ لکھا ہوا مقالہ تھا
 
ڈاکٹر سید شبیبؔ رضوی
اندرون کاٹھی دروازہ،رعناواری سرینگر 
موبائل :-9906685395 
 
 
سلوٹیں ماتھے کی دیکھ
چاند ہے اِترا رہا
میں کروں تعریف تُو
کس قدر شرما رہا
کھو نہ جائے چاندنی
بے وجہ گھبرا رہا
سازشیں تاروں کی اُف
بھانپ کر تھرّا رہا
جتنا میں نزدیک ہوں
دور اتنا جا رہا
یہ فلکؔ کا لاڑلا
ظلمتوں پہ چھا رہا
 
فلک ؔریاض
حسینی کالونی چھتر گام
موبائل نمبر؛9596414645
 
 جُھکا کے کبھی سرمیں چلتا تھا پہلے
 چُھپائے یہ چہرہ بھی رکھتا تھا پہلے
جو بستی تھی اپنی، ہنستی تھی مجھ پر
مستی میں اپنی رہتا تھاپہلے
دے دی زُباں میرے اَشکوں کو تُونے
مظالم میں کتنے سہتا تھا پہلے
تھمادی ہے تلوارہاتھوں میں تونے 
کبھی خامہ ان میں ہوتا تھا پہلے
خبر کیا تھی مجھ کو توہی ہم سفر ہے
میںکیوں موت سے اتنا ڈرتا تھا پہلے
لہو اپنا کہتا ہے اکثر یہ اشہرؔ
کبھی میں نہیں اتنا سستا تھا پہلے
 
اشہرؔ اشرف
 دولت پورہ کریری بارہ مولہ جموں و کشمیر
رابطہ نمبر؛9906455607
 
ہے سزا زندگی یا دوا زندگی
 کوئی سمجھائے مجھکو ہے کیا زندگی 
صرف چھینا ہے مجھ سے میرا آسرا 
آج تک تو نے کیا کچھ دیا زندگی؟
قدروقیمت نہیں تجھکو میری مگر
کتنا کرتی ہے مجھ سے گلہ زندگی
ہم نے سوچا تھا غم دور ہو جائیں گے
غم ہی غم دے گئی بے بہا زندگی 
جیتے جی مر گیا ہوں میں بے موت ہی 
کتنی مجھ سے ہے نا آشنا زندگی
پل میں پھولوں کو انگار کر دیتی ہے 
پل میں ہو جاتی ہے کیا سے کیا زندگی
ہم ہی آخر کو مایوس ہو جاتے ہیں 
ورنہ کرتی ہے ہر حق ادا زندگی
سامنے لا کے تو نے کھڑا کر دیا
میری قسمت میں جو تھا لکھا زندگی  
شورِ نگمہ ہے اس کا بہت دور تک
ہے ازل سے مگر بے سدا زندگی 
آج تک جان پایا نہ اس کو کوئی 
کس قدر ہے عجب سلسلہ زندگی
تلخیاں، رنج و غم اور الم اب نہ دے
ہم نے پائی ہے بے حد سزا زندگی
اور کوئی سہارا نہ اب چاہئے
جھوٹ کی ہو گئی انتہا زندگی
 اب تو خاموش رہنا ہی بہتر لگے
یوں بھی کہنے کو اب کیا رہا زندگی 
سوچتا ہوں یہاں کس لئے آئے تھے
ہر قدم پہ کھڑی ہے قضا زندگی
تا ابد ساتھ اس نے ہے کس کو دیا
با خدا ہے بہت بے وفا زندگی
اے عقیلؔ ہم کو جانا ہے سب چھوڑ کر
 کس لئے ہے تیرا دبدبہ زندگی 
 
عقیل فاروق
طالب علم:-شعبہ اْردو کشمیر یونیورسٹی سرینگر،موبائیل نمبر:-8491994633
 
 
 
کئی راستے میں جہاں آگئے
پہنچنا کہاں تھا کہاں آگئے
 
مرا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا
زمینیں گئیں آسماں آگئے
 
وہ مجھ سے زیادہ مرے پاس تھا
عجب فاصلے درمیاں آگئے
 
سبق کیا ذرا سا بدلنا پڑا
ہزاروں نئے امتحاں آگئے
 
وہ اک بے ارادہ سا تھا حادثہ
سرِ راہ بے خانماں آگئے
 
کہاں تک نہ بلراؔج پھیلے تھے ہم
جو سمٹے کراں تا کراں آگئے
 
  بلراج بخشی
۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)
 Mob: 09419339303
email: balrajbakshi1@gmail.com
 
 
 
مطمئن اپنے ٹھکانے پر ہوں
کیا خبر کس کے نشانے پر ہوں
 
میں نے ایجاد کیا ہے کیا کیا
اب تباہی کے دہانے پر ہوں
 
مجھ کو مغلوب سمجھنے والے
دیکھ غالب میں زمانے پر ہوں
 
جس میں ہر درد کی عکاسی ہو
شیفتہ ایسے ترانے پر ہوں
 
آگ کی زد میں ہے مکاں میرا
پھر بھی نازاں میں گھرانے پر ہوں
 
پوچھ مت حرفِ شکایت مجھ سے
کب سے نالاں میں فسانے پر ہوں
 
جس کا ہر در ہے مقفّل راحتؔ
پھر میں کیوں ایسے خزانے پر ہوں
 
رؤف راحت
روز لین ایچ ایم ٹی ، سرینگر،9149830023
 
 
سُنا ہے پیار سے سینچا مِرا پیارا نگر تو نے
مریضِ عشقِ کی لیکن کبھی نا لی خبر تونے
 
مسلسل بے رُخی مجھ سے، رقیبوں پہ مہربانی
بہت ہنس کے بکھیرا ہے مِرا خونِ جگر تو نے
 
چلا جا! آگ لگ جائے تِرے فرصت کے لمحوں کو
بہت مشکل سے لوٹائے میرے شام و سحر تو نے
 
اُبلتے دِل بھی دیکھے ہیں کہ جلتے گھر بھی دیکھے ہیں
اُجاڑی بستیاں ساری، جدھر د یکھوں اُدھر تونے
 
یہاں میں روز مرتا ہوں وہاں تو ڈھونگ رچتا ہے
اِدھر میری عیاں مشکل اُدھر پھیری نظر تو نے
 
مِری ذِلت تِری عظمت،مِری غربت تِری شہرت
اِدھر میری محبت ہے، عداوت کی اُدھر تو نے
 
تیرے دِل کی سیاہی بھی علامت ہے فقیری کی
بہت سیرابؔ قصہ یہ سنایا معتبر تو نے 
 
سیرابؔ کشمیری
دیور لولاب (کپوارہ)
موبائل نمبر؛9622911687
 
 
آسماں پہ سُنا بادل ہے چلا اور کوئی
اب کے دریا بھی سمندر میں گرا اور کوئی
اب کے شبنم بھی نہیں برسی چمن پہ یارو
اب کے لائی ہے خبر بادِ صبا اور کوئی
جان رہزن سے چھڑائی تھی بمشکل لیکن
دوسرے موڑ پہ رہزن تھا کھڑا اور کوئی
کس قدر جاری ہے یہ سلسلہ رنج و غم کا
اِک بھرا بھی نہ تھا کہ زخم ملا اور کوئی
کام آیا نہ کوئی نسخہ طبیبو اب تک
 زخم بھرنے کی مجھے دے دو دَوا اور کوئی
یہ طلب گار تیری دید کا مدت سے ہے
مقصَدِ زیست نہیں تیرے سوا اور کوئی
درد سہنے کی مجھے اب ہوگئی ہے عادت
 پھر سے جبّارؔ کرو زخم ہرا اور کوئی
 
 عبدالجباربٹ
۱۶۹،گوجرنگر،جموں۔
9906185501
 

تازہ ترین