تازہ ترین

منان وانی:5جنوری سے 11اکتوبر تک

12 اکتوبر 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی +اشرف چراغ
سرینگر +کپوارہ//منان وانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپلائڈ جیالوجی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔5جنوری 2018کویو بی جی ایل لیکر منان کی تصویر عام ہوگئی،جس میں یہ پیغام تحریر کیا گیا تھا کہ انہوں نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔تاہم منان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی کوئی علمیت نہیں تھی کہ انہوں نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی،بلکہ انہیں بھی سماجی میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وئب سائٹ کے مطابق26برس کے منان  وانی’’اسٹریکچل اینڈ جیومورفو لوجیکل اسٹڈی آف لولاب ویلی کشمیر‘‘ میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وئب سائٹ کے مطابق منان وانی نے2016میں ’’پانی،ماحولیات،موسمیات و معاشرہ‘‘(واٹر،انورمنٹ،ایکولجی اینڈ سوسائٹی) پر منعقدہ عالمی کانفرنس میں بہترین مکالے کیلئے ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔ اس وئب سائٹ کے مطابق’’ علی گڑھ مسلم یونیور سٹی میں شعبہ جیالوجی کے تحقیق اسکالرمنان بشیر وانی کو ’’پانی،ماحولیات،موسمیات و معاشرہ‘‘ کے موضوع پر ائے آئی ایس ای سی ٹی یونیورسٹی بھوپال میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں بہتر مکالہ پیش کرنے کے ر ایوارڈ سے نوازا گیا‘‘۔وئب سائٹ کے مطابق’’ یہ ایوارڈ مسٹر وانی کو ان کے مکالے وادی لولاب میں واٹر شیڈ تجزیہ(ریموت سینسگ اور جی آئی ایس تکنیک کو بروائے کار لاتے ہوئے) سے سیلابی خطرے کا احاطہ کیلئے دیا گیا۔اس کانفرنس میں20مختلف ملکوں سے قریب400مندوبین نے شرکت کی تھی۔اس کانفرنس میں امریکہ،آسٹریلیا،جنوبی افریقہ،مصر،کینڈا،ایران،اٹلی،برطانیہ،بنگلہ دیش،چین،جنوبی کوریا،کویت،تونیسا،ملیشا،ویسٹ انڈئز،برازیل اور یمین کے مندوبین نے اپنے مکالے پیش کئے تھے۔ کشمیر نیورسٹی سے جیالوجی اینڈ ارتھ سائنس میں گریجویشن کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا،جہاں انہوں نے جیالوجی میں ماسٹرس اور ایم فل کی ڈگری بھی حاصل کی۔ منان وانی2016میں علی گرھ مسلم یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخاب کے دوران متحرک تھے اور ایک آن لائن پورٹل’’ thecompanion.com ‘‘(دی کمپنین ڈاٹ کام) کیلئے طلاب سیاست پر کئی مضمون تحریر کئے تھے۔اس سائٹ پر منان وانی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک ریسرچ اسکالر  جو’’طلاب کارکن‘‘ ہے،کے بطور متعارف کیا گیا،جس کو عالمی سیاست اور اسلامی تحریکوں کی بحال نو میں دلچسپی ہے۔منان وانی نے امسال17جولائی کو ایک کھلا خط بھی تحریر کیا،جس میں انہوں نے کہا ’’ کیوں انہوں نے جنگجوئوں کے صفوں میں شمولیت اختیار کی‘‘۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ جنگجوکمانڈر منان وانی کیلئے عسکری جدوجہدکاسفر8ماہ پرمحیط رہا۔جنوری 2018میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نئی دہلی روانہ ہوا جس کے بعد اسکا گھر والوں کیساتھ رابطہ منقطع ہوا۔5جنوری کے بعد انکے بارے میں کسی کو کوئی علمیت نہیں تھی لیکن بالآخر31جنوری کو اسکی تصویر بندوق کیساتھ وائرل ہوئی۔ حزب المجاہدین میں شامل ہونے کے بعد منان وانی نے تھوڑے ہی عرصے میں مقبولیت حاصل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ زیادہ تر جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں مقیم رہا اور اسے سمیر ٹائیگر کیساتھ بھی دیکھا گیا تھا۔حتیٰ کہ ایک دو بار اسکی ہلاکت کی افواہ بھی پھیلی تھی۔ڈاکٹر منان وانی کا والدبشیر احمد ایک لیکچرار ہیں۔انکا بڑا بھائی جونیئر انجینئرہے اور بہن کالج میں زیر تعلیم ہے۔لاپتہ ہونے کے بعد اسکا گھر والوں کیساتھ کبھی رابطہ نہیں ہوا تھا۔اسکا ساتھی عاشق حسین زرگر ولد محمد سلطان ساکن تلواری لنگیٹ20جون 2018 کولاپتہ ہوا۔اسکی گمشدگی کی رپورٹ لنگیٹ تھانہ میں ڈالی گئی لیکن اسکی جنگجوئوں کے صف میں شامل ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں تھی۔عاشق حسین ک کوئی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوئی تھی۔وہ پولیس کو پتھرائو کے معاملات پر مطلب تھااور 2016میں اسے پولیس نے گرفتار کیا۔اسکے خلاف چار کیس درج تھے۔24سالہ عاشق حسین پیشے سے ڈرائیور تھا لیکن جیل جانے کے بعد وہ خاموشی کیساتھ اپنا کام کرنے لگا لیکن اسی دوران وہ جون میں لاپتہ ہوا۔ عین اسی دن فرقان ساکن لنگیٹ نامی جنگجو بھی لاپتہ ہوا تھا جو پچھلے ماہ گلورہ ہندوارہ جھڑپ میں جاں بحق ہوا ہے۔