تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

11 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی نذیراحمد قاسمی
آج کل تین طلاق کی بحث چل رہی ہے۔ اس لئے گذارش ہے کہ اسلام نے طلاق کی اجازت کیوں دی ہے۔ نکاح کا مقصد کیا ہے طلاق اُس مقصد کے بالکل منافی ہے۔ پھر یہ تین طلاق کا معاملہ کیا ہے۔ اور اس پر پابندی لگانے کا اثر کیا ہوگا۔ طلاق دینے کا طریقہ کیا ہے۔ اس بارے میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ان تمام پہلوئوں کے متعلق ایک تفصیلی جواب کی ضرورت ہے جو تشفی بخش بھی ہو، معلومات افروز بھی ! 
ریاض احمد ، فیاض احمد
ساکن ہمہامہ سرینگر
سہ طلاق کے ڈھنڈور چی۔۔۔۔۔ خاتونِ مسلم کے غمخوار نہیں قانونِ اسلام کے دشمن
جواب:۔ نکاح انسانی زندگی کا اہم ترین شعبہ ہے۔ علمی زندگی، معاشی زندگی، روحانی زندگی، سیاسی زندگی اور عوامی زندگی کے اثرات اتنے وسیع اور دور رس نہیں جتنے اثرات عائلی و ازدواجی زندگی کے ہوتے ہیں۔ یہ عائلی زندگی جس درجہ خوشحال اور پُر مسرت ہوگی، بقیہ پوری زندگی اور اس کے تمام شعبوں پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لئے فطرت انسانی کا تقاضابھی  ہے اور دین اسلام کا حکم بھی یہی ہے کہ ازدواجی زندگی میں استحکام ، پختگی و اعتمادہو، اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و رفاقت کا مضبوط عہدہو، چنانچہ قرآن کریم نے نکاح کو میثاقاً غلیظاً کہا ہے یعنی مضبوط بندھن۔ پختہ پیمان!
نکاح کرنے کے بعد انسان کی عائلی زندگی کا آغاز ہوتا ہے ۔ اسی نکاح سے حلال اولاد ملتی ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان جنسی بے راہ روی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اسی کے توسط سے خاندان وجود میں آتے ہیں۔ یہی معاشرہ کو بُرائیوں، فحش کاریوں اور جنسی خرابیوں سے محفوظ رہنے کا سبب بنتا ہے اسی کے ذریعہ انسان کو جسمانی راحت اور ذہنی فرحت و نشاط حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے یہ پوری زندگی کےلئے برقرار رہنے والا وہ پختہ بندھن ہے جس کی ضرورت ہر مردو عورت کو جوانی سے لے کر بڑھاپے تک ہے۔
 اسی لئے اس ازدواجی رشتہ کو قائم و برقرار رکھنےاور اس کو کامیاب و خوشگوار بنانے کےلئے اسلام نے شوہر کو بھی حُسن سلوک کا حکم دیا اور ادائیگی حقوق کا بھی ! او رعورت کو بھی وفا شعاری واطاعت گذاری کا حکم دیا ہے اور دونوں کو بلا ضرورت شدیدہ اس رشتہ کو ختم کرنے سے نہایت ناپسند کیا ہے۔ نکاح کرتے وقت دونوں کے ذہن اور ارادوں میں ہر گز یہ مقصود نہیں ہونا چاہئے کہ یہ چند دن کا تعلق ہے بلکہ یہ خیال ہونا چاہئے کہ پوری زندگی کے لئے یہ خوشیوں اور مسرتوں سے بھر پور رشتہ ہے اور اس میں تلخیاں یا ناگواریاں آئیں تو صبرو عفو کا امتحان ہے ،اس لئے اس رشتہ کو باقی رکھنے کا ہر ممکن راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ چنانچہ میاں بیوی میں نزاع اور ایک دوسرے کے خلاف شکوہ شکایت ہو تو پہلا مرحلہ یہ ہے کہ شوہر زوجہ کو محبت، حکمت اور شفقت سے نصیحت کرے۔ اس پر بھی سُدھار اگر نہ آئے تو دونوں اپنےنجی تعلقات منقطع کریں اس پر بھی سدھار و اصلاح نہ ہو تو زجرو توبیخ اور اپنی ناراضگی کے اظہار کی آخری شکل بھی اختیار کرے ۔ اس سے اگر دونوں میں سُدھار نہ آیا تو اب دونوں طرف سے معاملہ فہم، افہام تفہیم کا گر جاننے والے، اور نزاع و دوریاں ختم کرنے محبت و ادائیگی حقوق کی تلقین کرنے والے اور غلطیوں کی تعیین کرکے تنبہہ کرنے والےحَکمَ مقرر کئے جائیں۔ وہ دونوں کےمؤقف، مطالبات اور شکایات سن کر دونوں کی غلطیوں کی نشاندہی کریں اور پھر دونوں کو اصلاح کی تجویز یں دیں اگر ان دونوں حکموں کے حسن تعلیم اور حسن تفہیم سے دونوں زوجین اپنی اپنی خامیوں کو دور کرنے اپنے فرائض کو ادا کرنے کا عہد کریں اور دوسرے کے ساتھ حسن سلوک و ادائیگی حقوق کا عزم کر لیں تو اللہ تعالیٰ بھی توفیق کے دروازے کھول دیں گے۔ اگر ان تمام مراحل سے گذرنے کے باوجود نزاع، کشیدگی، حق تلفی، ایک دوسرے کوتکلیف پہنچنے کا سلسلہ بند نہ ہوا اور اب ان زوجین کے رشتہ کو زبردستی برقرار رکھنا مفید ہونے کے بجائے مضر بن جائے اور جن اہم مقاصد کے لئے نکاح کا حکم دیا گیا تھا وہ مقاصد پورے نہ ہوں تو ایسے رشتہ کو ختم کرنا ہی بہتر ہے۔ ایسے زوجین کو رشتہ ختم کرنے کا دروازہ کھلا رکھنا فطرت انسانی کا بھی تقاضا ہے۔ معاشرے کو غم و رنج سے بچانے کےلئے بھی یہی راستہ ہے اور ٹینشن، بدمزگی، گالی گلوچ، گلے شکوے، مارپیٹ ایک دوسرے کے خلاف غیبتیںاورسازشیں ،مقدمہ بازیاں بلکہ خاندانوں کے ٹکرائو ختم کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ایسے رشتہ کو ختم کر دیا جائے چنانچہ اسلام نے اسی لئے مرد کو طلاق کا حق دیا اورعورت کو خلع کا حق دیا اور عدلیہ اسلامی کوفسخِ نکاح کا اختیار دیا ہے۔ پھر اس طاق کے حق کو استعمال کرنے کا وسیع ضابطہ بنایا گیا۔ چنانچہ مرد کو طلاق دینے کا طریقہ یہ بتایا گیا کہ وہ ایسے وقت میں زوجہ کو ایک طلاق دے جب وہ پاک حالت میں ہو اور اس کے ساتھ قربت بھی نہ پائی گئی ہو اور صرف ایک طلاق دے ۔ پھر دوسرے مہینے میں اولاًتو ضرورت ہی نہیں۔ تاہم اگر وہ چاہئے تو ایک طلاق اور دے سکتا ہے۔ بس اسی پر رشتہ ختم ہو جائے گا اور یہ ختم ہونا بھی ایسا ہے کہ اگر وہ دونوں پھر دوبارہ رشتہ قائم کرنا چاہیں تو اُس کا راستہ بھی موجود ہے ۔ عدت کے اندر صرف زبان سے طلاق واپس لینے کا اظہا ر کافی ہے اور عدت گذر جانے کے بعد تجدید نکاح سے دوبارہ ان کا رشتہ نکاح قائم ہو جائےگا۔
اگر کسی مرد نے تیسری طلاق بھی استعمال کی، جس کا اُس کا حق تو ضرور ہے مگر اُس کے استعمال کی ضرورت نہ تھی۔ تو اب یہ عورت اُس مرد کےلئے کسی طرح حلال نہ ہو پائے گی۔ ہاں اگر اس عورت کا کسی اور جگہ نکاح ہو جائے پھر اتفاقاً وہاں بھی رشتہ ختم ہو جائے، چاہئے اس مرد کے فوت ہونے کی وجہ سے یا طلاق دینے کی وجہ سے، تو اب اس صورت میں پہلے تین طلاق دینے والے شخص کے ساتھ نکاح ہو نا ممکن ہے ۔ اب اس مرحلہ پر تین طلاق کا مسئلہ مختصراً ًسمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسلام نے رشتہ فسخ کرنے کی اجازت نہایت ناپسندیدگی کے ساتھ دی۔ بلکہ حدیث مبارک میں ہے کہ جائز کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اللہ کی نظر میں طلاق ہی ہے ۔ اس طلاق کو ناپسند کرنے کے باوجود جائز کرنے کے ساتھ اسلام نے اس کا طریقہ استعمال بھی سکھایا ہے۔ جیسے نکاح کا ایک ضابطہ اور مفصل قانون ہے اس طرح طلاق کا بھی ہے۔ اس مفصل قانون طلاق میں یہ بھی ہے کہ تین طلاق استعمال کرنے سے حتیٰ الامکان گریز کیا جائے۔ اور اگر تین طلاق استعمال کرنا ہی ہو تو وقفوں کے ساتھ ۔ درمیان کچھ دنوں نہیں بلکہ مہینوں کا فاصلہ رکھا جائے اور یہ طلاق بھی ایسے ایام میں دی جائے کہ عورت اپنے مخصوص ایام عذر میں نہ ہو۔ اب ان اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگر کسی مرد نے حالت حیض میں طلاق دی یا ایک دو طلاق کے بجائے تین طلاق دے دیں یا وقفوں کی رعایت کے بغیر بیک وقت تین طلاق دےد یں تو سوال یہ ہےطلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اسلام کا فیصلہ یہ ہے کہ یقیناً یہ طلاق واقع ہوگئی۔
چنانچہ عہد رسالت او ر عہد صحابہ سے لے کر آج تک پورے عالم میں اسلام کے قانون طلاق کے مطابق یہ حکم اسی طرح قائم اور نافذ ہے کہ تین طلاق واقع ہوتی ہیں۔ قرآن، حدیث، فقہ کی لاکھوں کتابوں میں یہ قانون اسی طرح ہوتی ہے۔ اب کسی فرد حتیٰ کہ کسی اسلامی مملکت کے امیر المومنین یا عدلیہ کے چیف قاضی یاکسی بھی اسلامی ادارے یا کسی اجتہاد کرنے والے فورم، کسی پارلیمنٹ یا اسمبلی کو اس کا نہ کوئی حق ہے نہ اختیار ہے کہ وہ اس قانون میں تبدیلی کرے اور یہ کہے کہ تین طلاق سرے سے واقع ہی نہ ہوگی۔ یہ اسلام کی تحریف ہے۔ دراصل انسان کےبنائے ہوے کسی قانون میں تبدیلی تو انسان کے اختیار میں ضرور ہے۔ مگر اللہ اور اللہ کے رسول کے بنائے ہوئے قانون میں تبدیلی کرنے کا اختیار کسی مسلمان پارلیمنٹ یا مسلم عدلیہ کو بھی نہیں تو کسی سیکولر ادارے یا عدلیہ کو یہ حق کیسے ہوسکتا ہے۔ دوسرے تمام مذاہب کے عائلی قوانین چونکہ انسانوں کے خود کے بنائے ہوئے ہیں، اس لئے اُن کو ترمیم تنسیخ یا حذف و اضافہ کرنےسے اُن کو کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ اسلام کا قانون نکاح یا قانون طلاق اللہ اور اس کے رسول کا بنا ہوا ہے۔ اس میں کسی کو ترمیم کا حق نہیں ہے، نہ کسی مسلم کو نہ کسی غیر مسلم کو ۔ تو تین طلاق کا حق اور اختیار اللہ نے اور اس کے نبی نے جب دیا ہے تو اس پر بھی پابندی لگانے کا بھی کسی کو حق ہے نہ اختیار اور اگر کوئی پابندی لگائے تو وہ مسترد ہے۔اگر کوئی مسلمان تین طلاق کے طریقۂ استعمال میں غلط طریقِ عمل اپناتا ہے اور اس کی وجہ سے عورت اوربچے طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں تو اس مصیبت کا خمیازہ خود وہ مرد بھی اُٹھاتا ہے مگر اس کا حل یہ ہر گز نہیں کہ قانون خدا ہی تبدیل کر دیا جائےاور یہ کہا جائے کہ تم کتنی ہی طلاقتیں دیتے جائو ہمارا قانون یہ کہتا رہے گا کہ یہ عورت تمہارے نکاح میں رہے گی ۔ اس طرح مسلمان کے گھر حرام کاری کا سلسلہ شروع ہوگا۔ اس کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ زوجین کے درمیان سدھار ہو اور طلاق دینے کا اقدام کرنے سے پہلے طلاق کا طریقہ کار سکھا یا جائے ۔قانون کی خلاف ورزی کا حل اگر یہ نکالاجائےکہ قانون کو ہی تبدیل کر دو تو دنیا کا کوئی قانون سلامت نہیں رہ سکتااور یہ طرز فکر خود فلسفہ قانون سازی کے خلاف ہے۔ بہر حال طلاق دینے کا حق ہو یا ایک کے بجائے تین طلاق کا اختیار ،یقیناً مرد و عورت دونوں کے لئے مصیبتوں سے چھٹکاراپانے کی رحمت ہے ۔اس حق کو چھیننا اس مذہبی آزادی کے سراسر خلاف ہے۔ جو اس آج کے دور کا نمایاں ترین نعرہ ہے۔ ہندوستان میں مسلمان عورتوں کے تین طلاق کے ظلم کا شکار ہونے کا غم کھانے والے دراصل خاتون مسلم کے ہمدرد نہیں بلکہ قانون اسلام کے دشمن ہیں اور عورتوںسے ہمدردی کی آڑ میں قانون دین کا خاتمہ اُن کا مقصود ہے اور ہندوستان کے مسلمان اس کو پوری طرح سمجھتے ہیں کہ جو لوگ ہمارے وجود و بقا کے ہی دشمن ہیں اُن کو مطلقہ خاتون ِمسلم، جو لاکھوں میں ایک سے بھی کم ہے ،کاغم کیوں ستانے لگا۔
خلاصہ یہ کہ ہمدردی کے آڑ میں دشمن کو پہچانا جائے اور اسلام کے دیئے ہوئے حق کو چھیننے والے کے عزائم کو سمجھ لیا جائے اور اس لئے اسلام کے ایک ایک کلمہ کو محفوظ رکھنے کا عہد بھی کیا جائے اور سعی بلیغ بھی کی جائے۔ ��
چنانچہ مرد کو طلاق دینے کا طریقہ یہ بتایا گیا کہ وہ ایسے وقت میں زوجہ کو ایک طلاق دے جب وہ پاک حالت میں ہو اور اس کے ساتھ قربت بھی نہ پائی گئی ہو۔ اور صرف ایک طلاق دے ۔ پھر دوسرے مہینے میں اولاًتو ضرورت ہی نہیں تاہم اگر وہ چاہئے تو ایک طلاق اور دے سکتا ہے۔ بس اسی پر رشتہ ختم ہو جائے گا 
عدت کے اندر صرف زبان سے طلاق واپس لینے کا اظہا ر کافی ہے اور عدت گذر جانے کے بعد تجدید نکاح سے دوبارہ ان کا رشتہ نکاح قائم ہو جائےگا۔
حدیث مبارک میں ہے کہ جائز کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اللہ کی نظر میں طلاق ہی ہے ۔ ا س طلاق کو ناپسند کرنے کے باوجود جائز کرنے کے ساتھ اسلام نے اس کا طریقہ استعمال بھی سکھایا ہے۔ جیسے نکاح کا ایک ضابطہ اور مفصل قانون ہے اس طرح طلاق کا بھی ہے۔
طلاق دینے کا اقدام کرنے سے پہلے طلاق کا طریقہ کار سکھا یا جائے ۔قانون کی خلاف ورزی کا حل اگر یہ نکالا جائےکہ قانون کو ہی تبدیل کر دو تو دنیا کا کوئی قانون سلامت نہیں رہ سکتا۔
ہندوستان میں مسلمان عورتوں کو تین طلاق کے ظلم کے شکار ہونے کا غم کھانے والے دراصل خاتونِ مسلم کے ہمدرد نہیں بلکہ قانونِ اسلام کے دشمن ہیں اور عورتوں کی ہمدردی کی آڑ میں قانونِ دین کا خاتمہ اُن کا مقصود ہے ۔
    
 صدرمفتی دارالافتاء
دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ