تازہ ترین

رخصتی

13 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
رات بھر بے چینی سے کروٹیں بدلتے رہنے کے بعد سرلا دیوی صبح پو پھٹنے سے پہلے ہی بستر چھوڑ کر اٹھی اور مُنہ ہاتھ دھو نے کے بعد پوجا والے کمرے میں جا کر بھگوان سے پراتھنا کرتے ہوئے گڑ گڑانے لگی۔اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں گر کر اس کے پلو میں جذب ہونے لگے۔پوجا سے فارغ ہو کر وہ جوں ہی کچن میں آئی تو اسی لمحے احسان احمد بھی اندر داخل ہوگیا۔خیر و عافیت دریافت کرنے کے بعد احسان احمد نے لکشمی کی شادی کی تیاریوں کے بارے میں بات چھیڑی توسرلا دیوی کی آنکھیں بھر آئیں جب کہ لکشمی لاج کے مارے دوسرے کمرے میں جا کر سوچ وفکر کے اتھاہ سمندر میں کھو گئی ۔سرلا دیوی نے احسان احمد کو تفصیل سے ساری داستان سنائی تو اس کے دل میں درد کی ایک ٹیس اُٹھی۔وہ ہاتھ ملتے ہوئے سخت اُداسی کی حالت میں وہاں سے نکلااور کچھ سوچ کر پڑوسی بٹو سنگھ کے گھر کی طرف گیا۔
     سرلا دیوی کا گھرانہ پچھلے کئی ہفتوں سے انتہائی پریشانی اور اضطرا بی کیفیت سے دوچار اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا تھا کیوں کہ ڈھائی مہینے پہلے مقرر کردہ تاریخ کے مطابق سرلا دیوی کی بیٹی لکشمی کی شادی کی تاریخ میں اب صرف دو دن بچے تھے جب کہ تمام انتظامات کرنے ابھی باقی تھے، یہاں تک کہ دلہن کے لئے چند جوڑے بھی میسر نہیں تھے اور نہ ایسا ہونے کی کوئی امید تھی ۔کیوں کہ شہر و دیہات میں پچھلے دو مہینوںسے زیادہ عرصے سے صورتحال انتہائی غیر یقینی تھی۔احتجاج،ہڑتال ،کرفیو،بندشیں،پتھرائو ،گرفتاریاں،فائرنگ اور ٹیر گیس و پیلٹ شلنگ روز کا معمول بن چکا تھا۔ درجنوں افراد جاں بحق ہوکر قبرستانوں میں سما گئے تھے۔وردی پوش اہلکاروں سمیت ہزاروں افراد مضروب ہو کر اسپتالوں کی زینت بن کر درد سے کراہ رہے تھے ۔ سینکڑوں لوگ آنکھوں کی بصارت سے محروم ہو چکے تھے۔ صورتحال میں تبدیلی کے آثار دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔کاروباری ادارے ،بینک ،ٹرانسپوٹ اور دیگر شعبے بالکل بند تھے ۔مواصلاتی سہولیات بھی دستیاب نہیں تھی۔ غرض زندگی کی نبض تھم کر رہ گئی تھی اور ہر طرف وحشت اور دہشت کا ماحول تھا۔ایسی گھنگور گھٹا میں شادی کے لئے درکار ضروری ساز و سامان حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔دو مہینے قبل جب حالات نے بھیانک کروٹ لی تو سرلا دیوی کو یہ اُمید تھی کہ کچھ دنوں بعد حالات میں سدھار آئے گا اور وہ آسانی سے تمام تیاریاں مکمل کرلے گی، لیکن ایں خیال است محال و است وجنوں۔
      سرلا دیوی کا کوئی رشتہ دار یا اپنے فرقے کا کوئی بھی فرد یہاں رہائیش پذیر نہیں تھا ۔ نا مساعد حالات کے چلتے انہوںنے برسوں پہلے دوسرے شہر منتقل ہوکر وہیں سکونت اختیار کرلی تھی جب کہ سرلا کے پریوار نے اپنے ہی آبائی وطن میںرہنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کا شوہر چند سال قبل فوت ہوا تھا ،اب وہ لکشمی اور اپنے بیٹے راکیش، جس کی شا دی ہو چکی تھی، کے ساتھ رہ رہی تھی۔پڑوس میں دوسرے فرقوں کے لوگ آباد تھے ، جوان کی غمی خوشی میں ہر وقت بڑھ چڑکر شریک توہوتے تھے لیکن آج اس سوگوار اور ماتم زدہ ماحول کے چلتے ان کے پڑوس میں ہونے والی کئی شادیاں یا تو ملتوی کردی گئی تھی یا انتہائی سادگی سے انجام دی گئی تھی۔ایسے حالات میں ٹھاٹھ باٹھ سے شادی کی تیاریوں کے بارے میں کسی سے کوئی اُمید باندھنا درست بھی نہیں تھا۔سرلا ہرگز لکشمی کی شادی ملتوی کرنے کے حق میں نہیں تھی۔ وہ بہت جلد اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنا چاہتی تھی۔راکیش، جس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی ، بھی یہی چاہتا تھاکہ شادی مقررہ وقت پر ہو اور اُس نے تیاریوںکے لئے بہت ہاتھ پیر مارے لیکن بے سود کیوں کہ گھر سے باہر قدم رکھنا بھی خطرے کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔۔۔۔۔۔
       دیکھتے دیکھتے یہ دن بھی گزر گیااور اگلے دن کا سورج طلوع ہوگیا ۔طے شدہ تاریخ کے مطابق آج ہی لکشمی کی مہندی کی رسم انجام پانی تھی اور اگلے روز بارات آنے والی تھی لیکن اور تو اور گھر میں دلہن کے ہاتھوں پر رچنے کے لئے مہندی بھی موجود نہیں تھی ۔سرلا دیوی اور دیگر افراد خانہ، جن کی آنکھوں میں درد کے بیکراں سائے سے پنہاں تھے، گھر میں گُم سم بیٹھے اپنے نصیبوں کو کوس رہے تھے ۔گھر کے در و دیوار انہیں کاٹنے کو دوڑ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔قریب دو پہر کے وقت ایک دور دراز علاقے سے ان کے فرقے کے مدعوکچھ مہمان اور پڑوس میں رہنے والی کچھ عورتیںسرلا کے گھر میں اچانک وارد ہوئیں،جنہیں دیکھ کر سرلا دیوی کی کچھ ہمت سی بندھ گئی۔
      ’’اٹھوبیٹی۔۔۔۔۔۔اپنی تیاری شروع کرلو۔۔۔۔۔۔ آج تو مہندی رات ہے۔۔۔۔۔۔نہا دھوکر دوسرے کپڑے بدل لو ‘‘۔ 
     سرلا نے لکشمی کے سر پر ہاتھ پھیر تے ہوئے تھکے سے لہجے میںکہا۔ لکشمی، جس کے سارے رنگین سپنے کچے ناریل کی طرح پاش پاش ہو رہے تھے ،کے چہرے پر افسردگی اور مرونی چھائی ہوئی تھی ۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔اپنے اندر کے طلاطم کو چھپا کر وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں جاکر پلکوں کے پٹ کھول کر اندر کے طلاطم کو سیلاب کی صورت میں بہانے لگی ۔اس کی بڑی بڑی شرمیلی آنکھوں سے تیز تیز قطار در قطار آنسوں گر کر ایسے ٹوٹنے لگے جیسے شبنم کے قطرے چوٹ کھا کھا کر ٹوٹ جاتے ہیں۔سرلا دیوی، جس کے چہرے سے کرب و اضطراب پسینے کی قطروں کی طرع ٹپک رہا تھا۔ کھڑکی کے پاس بیٹھ کر سوچوں میں غلطاں و پیچاںآسمان کی اور اس طرح تکنے لگی جیسے کوئی بے بس کسان اپنے ادھ سوکھے کھیت کے کنارے کھڑاآسمان پر ابھرنے والے نم آلود بادلوں کو دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔۔۔سہ پہر کے قریب سامان سے لدی ایک گاڑی ان کے مین گیٹ کے باہر رک گئی ۔گاڑی سے اتر کر بٹو سنگھ نے گیٹ کھولا اور گاڑی صحن میں داخل ہوگئی، پھربٹو سنگھ کی بیوی جوتی گاڑی سے اتری۔
      ’’بلے بلے۔۔۔۔۔۔آج میری بٹیا کی شادی ہے۔۔۔۔۔۔‘‘۔
        بٹو سنگھ نے دروازہ بند کیا اور گنگناتے ہوئے ناچنے لگ گیا۔
       سرلا دیوی بڑے غو ر سے یہ سب دیکھ رہی تھی لیکن ا س کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ 
       ’’سرلا بہن جلدی سے نیچے آئو‘‘۔
       احسان احمد گاڑی سے اترتے ہی سامان اتارتے ہوئے سرلا دیوی سے مخاطب ہوا ۔
       قسم بہ قسم کے خوب صورت شادی کے جوڑے(Wedding suits)۔۔۔۔۔۔بنائو سنگھار کا سامان ۔۔۔۔۔۔وازہ وان میں کام آنے والی اشیا ۔۔۔۔۔۔ مشروبات اور شادی بیاہ کے لئے درکار دیگر تمام سامان دیکھ کر سرلا دیوی دنگ رہ گئی۔
       ’’یہ کیا ہے بھائی جان‘‘؟
       ’’لکشمی بٹیا کی شادی کا ساز و سامان‘‘
        اس نے مختصر سا جواب دیا ۔
        ’’سرلا بھا بھی۔۔۔۔۔۔ تُسی شادی کی تیاریاں کر لو ۔۔۔۔۔۔جوتی …تو میرا مُنہ کیا دیکھ رہی ہے ،جلدی سے جائو اور محلے کی عورتوں کو جمع کرکے لائو‘‘۔
         بٹو نے جوتی کو ٹوکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ کچھ وقفے کے بعد محلے کی عورتوں نے جمع ہو کر ’’ونہ وُن‘‘ (شادی کے گیت) شروع کیا۔ لکشمی اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ہمراہ شادی کے جوڑے اور دیگر ساز و سامان سنبھالنے لگی۔اسی دوران احسان احمد اور بٹو سنگھ بھی کمرے میں داخل ہوگئے۔
       ’’لکشمی بیٹی۔۔۔۔۔۔کسی چیز کی کمی ہو تو بلا جھجھک بتا دینا۔۔۔۔۔۔‘‘۔
        ’’ہاں بٹیا ۔۔۔۔۔! تُسی کوئی چنتا نہ کری۔ جووی ضرورت ہوسانوں بول دینا‘‘۔  بٹو سنگھ نے احسان احمد کی بات کاٹ کر جذباتی انداز میں کہا۔لکشمی، جس کے ہونٹوں پر اب اداسی کے بدلے مسرت کا ارتعاش اور چہرے پر افسردگی کی جگہ و اطمینان کی خنک چاندنی بکھری ہوئی تھی، کے گالوں پر حیا کی سرخی غازے کی طرح پھیل گئی۔اس نے اٹھ کر دونوں کے پیر چھونے چاہے۔
’’اوپر والا تجھے سدا سکھی رکھے بیٹی۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’واہے گرو تیرا دامن خوشیوں سے بھر دے بٹیا۔۔۔۔۔۔‘‘۔
         دونوں لکشمی کو دعائیں دیتے ہوئے وہاں سے نکل کر دوسرے انتظامات کا جائیزہ لینے لگے ۔محلے کے نوجوان بزرگوں کی نگرانی میں زور و شور سے شادی کی تیاریوں میں جٹ گئے ۔۔۔۔۔۔ آشپاز کشمیری وازہ وان بنانے میں مصروف ہوگئے ۔۔۔۔۔۔آنگن میں شامیانہ لگ گیا ۔۔۔۔۔۔ پورے گھر کو بجلی کے قمقموں سے دلہن کی طرح سجایا گیا۔۔۔۔۔۔ سرلا دیوی کے گھر میں رونقیں لوٹ آئیں ۔محلے کے مرد وزن وہاں جمع ہوئے اور سرلا دیوی کے گھرانے کی خوشیوں میں شریک ہو کر پوری رات روائیتی طریقے سے جاگتے ہوئے گزاری ۔دوسرے دن بڑے دھوم دھام و شاندار طریقے سے بارات کا استقبال اور خاطر مدارت کی گئی،لگن منڈپ کی مذ ہبی تقریب انتہائی پر وقار طریقے سے انجام پائی اور کافی جوش خروش ، محبت اور طمطراق سے راج کماری کی طرح لکشمی کو اپنے دولہے راجا کے ساتھ وداع کر دیا ۔
 
٭٭٭
رابطہ: اجس بانڈی پورہ 193502 جموں کشمیر
ای میل :tariqs709@gmail.com