تازہ ترین

کشمیر زمینِ بے آئین

کتنا لہو ہے اور بھی درکار وطن کو

8 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      )

امتیاز عبدالقادر
ریسرچ اسکالر کشمیر یونیورسٹی،سرینگر
اس عالمِ رنگ وبومیںبیسویں صدی کے وسط میں میراوطن سیاسی دلالوں کے بھینٹ چڑھا اور المیوں کی رمزو علامت بن گیا ۔کسی زمانے میں اس خطہ کو’ ’جنت ِ ارضی‘‘ کہا جاتا تھا لیکن اب کئی دہائیوں سے یہ دوزخ بنی ہوئی ہے۔ گو لیوں ، لاٹھیوں، تعذیبوں، گرفتاریوں ، مقدمہ بازیوں ،آہوں،آنسوؤں،سسکیوں ،لٹتی عصمتوں اورآباد قبرستانوں والی اس بے اماں بستی کو’’کشمیر‘‘ کہتے ہیں۔۔۔خون آشام اور درد و الم کا پیکر میرا اور آپ کاکشمیر۔۔۔جہاں کے شہر و دیہات میں کبھی مشامِ جاں کو معطر کرنے والے خوشبودار باغ اور لہلہاتے گلستان تھے،جہاں نرگس اور ریحان کے پھلوں کی مہک رقصاں ہواکرتی تھی،جہاں کے پتھروں نے بھی پیاسوں کے لبوں کو تر کیا،وہاں آج جابجا قبرستان آباد ہیں،خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے،ہوائیں مقید ہیں اور خیالات کی اڑان پر قدغن ہے۔یہاں اب کوئل نہیں کوکتی،پپہیے نہیں چہکتے،بھونرے نہیں گنگناتے ۔ہر طرف کالے کوے کائیں کائیں کرتے ہیں۔نوآبادکار نے پھول جیسے بچے،جوان، عورتیں،عمر رسیدہ بزرگ حتیٰ کہ جسمانی طور پر ناکارہ کشمیریوں کو قبروںمیں آباد کیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔کشمیری قوم صدیوںسے مختلف النّوع دبائوں اورمحرومیوںکی شکار رہی ہے اور عذابوںاور محرومیوں کے نہ ختم ہونے والے جہنم زار میں بھسم ہوتے رہنا اس کا مقدر بن چکا ہے۔ قانون کے رکھوالے ہی ڈنکے کی چوٹ پر قانون شکنی کرتے نظر آتے ہیں ۔ قانون کے ’’محافظ یا دیارِ غیر کی ابابیلیں‘‘کہیں قریب سے گزررہے ہوں تو قبر میں جاکر لیٹنے کو دل کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اذیت ناک لمحوں کو کشمیریوں کی تقدیر بنادئے ہیں۔ کشمیر میں پھول ، پتے، شجر، حجر غم کی ردائیں اوڑھے ہچکیاں لے رہے ہیں۔ نہ جانے کب تک دوزخ میں سموئی یہ بستی گھٹی گھٹی اور اکھڑی اکھڑی سانسیں لینے کا عذاب جھیلتی رہے گی۔ ہزاروں کا خون رات کی سیاہی میں جذب ہوا لیکن سحر ہوئی نہ اذان۔ کشمیر میں ایسی’ ’جمہوریت‘‘ ہے کہ روشنی ، آواز ، حرکت ، ہوا اور پانی پابہ زنجیر ہیں۔سیاہی جیسے منجمد ہوکر رہ گئی ہے، کہرآلود لیل و نہار میں بھی یہاں زندگی اس قدر منجمد نہیں ہوتی، بازُو شل نہیں ہوتے ، جسم اور ذہن اتنے مفلوج نہیں ہوتے، بلکہ ہلکی سی آنچ لگنے پر برف پگھلنے لگتی ہے۔ یخ بستہ ندی نالوں میں روانی آتی ہے۔ جھرنے آبشار جھر جھر بہنے لگتے ہیں۔ سانسوں میں گرمی،  سوچوں میں حیات آفریں تپش اوردھڑکنوں میں تیزی آجاتی ہے لیکن اس سال بہار کا موسم ایسا کہرا ساتھ لایا کہ جھیلیں ، ندیاں ، دریا، آبشاروں کے ساتھ ساتھ یہاں کی ذی عقل و ذی حِس مخلوق یعنی حضرت انسان کو بھی یخ بستہ کر گئی۔ سانسوں میں وہ گرمی باقی نہیں رہی۔ سلے سلے ہونٹ ، سرد برفآب بوسے، حرارت سے عاری بدن، نہ جنبش ، نہ حرکت۔ ہر شے برف ہوچکی ہے ۔ ہر طرف ہُو کا عالم ، یمین و یسار خاک و خون کے سمندر میں ہاتھ پیر مارہے ہیں۔ نہ جانے کتنی صورتیں خاک میں پنہاں ہوگئیں۔ غالبؔ نے 1857ء میں غدر کے بعد پیدا شدہ سنگینی صورت حال کو اپنے خطوط میں مبرہن کیا ہے ،لکھتا ہے:
ـ’’میں زندہ ہوں لیکن نیم مردہ۔ہر روز مرگِ نَو کا مزہ چکھتا ہوں۔حیران ہوں کہ کوئی صورت زیست کی نہیں۔پھر میں کیوں جیتا ہوں؟ روح میری اب جسم میںاس طرح گھبراتی ہے،جس طرح طائر قفس میں۔کوئی شغل،کوئی اختلاط،کوئی جلسہ،کوئی مجمع پسند نہیں۔کتاب سے نفرت،شعر سے نفرت،جسم سے نفرت،روح سے نفرت۔یہ جو کچھ لکھا بے مبالغہ اور بیانِ واقع ہے۔‘‘کشمیر میں متذکرہ صورتحال کئی صدیوں سے قائم ہے۔یہاں روز مرگِ نو کا مزہ چکھنا پڑتا ہے۔صدیوں سے عزیزواقارب اور شہری قتل ہوتے رہے۔ہر دور میں گھر بے چراغ کردئے گئے،کارواں لٹتے رہے،خون کے دریا بہتے رہے ۔استعماری طاقتون نے اس جنت ارضی کو شاہراہ، ستم پر لاکھڑا کیاہے۔ ایک ایسی شاہراہ ، جس پر خواجہ سگ پرست کی حکمرانی ہے اس لئے آدمی قید میں ہیں اور کُتے آزاد۔!شاہراہ ستم کے ہر نُکڑ پر آہنی پنجرے ہیں جس میں پیر و جوان قید ہیں۔ قیدیوں میں معمر و علیل بزرگ حضرات بھی ہیں جو کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے ہیں اور معصوم کم عمر بچے بھی جن کی اٹھتی جوانیاں ، پنجروں کی نظر ہورہی ہیں۔ چارماہ سے کشمیر محصور ہے ۔ آئے روز حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ اقتدار کے نشے میں چُور حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی ان کی لاچاری اور عاقبت نا اندیشی کی واضح مثال ہے ۔حکمرانوں کو کشمیری بچوں کے ہاتھ میں پتھر تو نظر آتے ہیں لیکن پولیس کے ہاتھوں میںان معصوم سینوں کوچھلنی کرنے والی بندوق نظر نہیں آتی۔مارکسسٹ لیڈرو ممبر پارلیمنٹ ہند،سیتا رام یچوری ؔکے بقول ’’جس چھرے والی بندوق سے دنیا کی سفاک ترین اسرائیلی فوج تک گریز کرتی ہے، وہ کشمیر کی اندر دھڑلے سے استعمال ہورہی ہے‘‘۔ ہندوستان کا کشمیریوں کے ساتھ’ ’محبت‘ ‘کے اظہار کا یہ طریقہ بہت نرالا ہے۔ پیلٹ گنوںسے معصوم بچوں اور بچیوں کی بینائی چھین کر’ ’جمہوریت ،کشمیریت وا نسانیت‘‘ کا فقیدالمثال عملی مظاہرہ پیش کیا جارہا ہے   ؎
تم منصف و عادل ہو شہر میں لیکن
کیوں خون کے چھینٹے سر دستا ربہت ہیں!
صحافی وتجزیہ نگارافتخار گیلانی اپنے ایک مضمون میں رقمطراز ہیں ’’2010؁ٗ میں کشمیرمیں ایسی ہی صورت حال کے بیچ بھارت کے چنندہ سینئر صحافیوں کے ہمراہ مجھے اسرائیل ارر فلسطین کے دورہ کا موقع ملا تھا۔ تَل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے مشیررائزنرؔ بریفنگ دے رہے تھے۔ وہ اسرائیلی فوج میں ایک اہم عہدیدار رہ چکے تھے اور جنگ لبنان کے موقع پر انہوں نے ایک برگیڈ کی بھی کمان کی تھی۔ اس کے علاوہ انتفاضہ کے دوران بھی فوج اور پولیس میں اہم عہدوں پر براجمان تھے۔ بھارتی صحافی ان سے یہ جاننے کیلئے بے تاب تھے کہ آخر وہ غیر مسلح فلسطینی مظاہرین سے کیسے نپٹتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ 1987ء کے انتفاضہ کے دوران اُن کی آرمی اور پولیس نے پوائنٹ 4 کے پیلٹ گن(Pellet Gun )استعمال کئے تھے، مگر اس کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے بعد ان پرپابندی لگادی گئی۔ ان ہتھیاروں کی کھیپ ان اسلحہ خانے میں زنگ کھارہی ہے۔ جس کمپنی نے یہ ہتھیار بنائے، اس نے حکومت کو آفر دیا تھا، کہ وہ پوائنٹ 9 کے پیلٹ سپلائی کرے گی جو نسبتاً کم خطرناک ہوں گے مگر اس وقت تک اسرائیلی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ رائزنر نے تسلیم کیا کہ مسلح جنگجوئوں کے برعکس مظاہرین سے نپٹنا آسان نہیں ہوتا اور رجب عالمی میڈیا اس کی رپورٹنگ بھی کررہا ہوتاہے ۔ حیرت کا مقام ہے کہ ہمارے دورہ کے چند ماہ بعد ہی یہ ہتھیار ، جو اسرائیل کے اسلحہ خانہ میں زنگ کھارہے تھے، کشمیر میں استعمال کرنے کیلئے ہندوستان کی وزارت داخلہ نے درآمد کرلئے۔۔۔۔ اس اسرائیلی افسر نے بھارتی صحافیوں کو ششدر اور رنجیدہ کردیا، جب اس نے کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے افسروں کے کارنامے سنانے شروع کئے۔ اس نے کہا ’’کہ بھارتی افسران اس بات پر حیران ہوجاتے ہیں کہ شورش زدہ علاقوں میں مسلح اور غیر مسلح کی تفریق آخر کیوں کی جائے؟‘‘ رائز نر نے کہا کہ حال ہی میں اسرائیل کے دورہ پر آئے ایک بھارتی جنرل نے ان کو بتایا کہ کشمیر میں وہ پوری آبادی کو گھیر کر گھروں میں گھس کر تلاشیاں لیتے ہیں۔ ان کے لئے کشمیر کا ہر دروازہ دہشت گرد کی پناہ گاہ ہے۔ رائزنر نے کہا کہ ہم نے بھارتی جنرل کو جواب دیا ، کہ اسرائیل پوری دنیا میں بدنام سہی ، مگر اس طرح کے آپریشن اور وہ بھی بغیر کسی انٹلی جنس کے، ان کی سرشت میں نہیں ہیں۔۔۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد کسی بھی طور پر اسرائیلی جرائم کا دفاع کرنا نہیں ہے، صرف یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر عالمی ذرائع ابلاغ میں اور سفارتی سطح پر رپورٹنگ سے بھی محروم رہا ہے اور مظالم کی تشہیر کس قدر کم ہوئی ہے۔ رائزنر نے جنرل کا نام تو نہیں لیا مگر کہا کہ ہم نے بھارتی فوجی وفد کو مشورہ دیا کہ عسکری اور غیرعسکری میں تفریق نہ کرکے وہ کشمیر میں صورت حال کو پیچیدہ بنارہے ہیں‘‘۔ (افکار ملی،دہلی۔ ستمبر2016؁ٗء)
وادی میں بندوق کی آواز خواہ تھم گئی ہو مگر جو انتقامی جنگ دماغوں میں جاری ہے اورجواںنسل میںجو لاوا پک رہا ہے، اس کا سدباب کرنا ضروری ہے۔لاشعورمیںپڑی ہوئی چیزیںحالات وواقعات کی وجہ سے دب توجاتی ہیںلیکن مٹ نہیںجاتی۔کشمیری اب اس بے عزتی سے نکلنا چاہتے ہیں۔عزت ووقارسے جینے کا حق ہم مظلوموں کوبھی ہے۔وقت آگیا ہے کہ نوآبادکارخودکو مہذب ،شائستہ اور جمہوری قوم ثابت کریں اورکشمیریوںسے کئے گئے عہدوپیمان پورے کریں۔ کشمیر پر صدیوں سے طاقت اور خوف کے ذریعے حکومت کی جارہی ہے، اس کا ایک نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ جوان نسل میں اب خوف کی نفسیات بڑی حد تک ختم ہوچکی ہے۔ اگر حکومتیں اس تبدیلی کو سمجھنے سے قاصر رہیں تو یہ خطہ خدانخواستہ بد ترین عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ 