تازہ ترین

جنون نہیں جیون چاہیے!

آشتی میں ہی چھپا ہے عافیت کا راز بس

8 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      کامریڈ کرشن دیو سیٹھی)

جنگ خود ہی ایک مسئلہ ہے
 جنگ کیا مسئلوں کاحل دے گی
ساحر ؔ لدھیانوی
جموں وکشمیر کے عوام اس وقت ہند وپاکستان کے درمیان کئی روز سے زبردست گولہ باری کے باعث زبردست مصائب و مشکلات کا شکار ہوچکے ہیں۔ سیز فائز لائن اور بین الاقوامی سرحد پہ دونوں اطراف سے جنگ وجدل ا ور خون ریزی کی صورت حال پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کی فوجیں اندھا دھند فائرنگ کررہی ہیں۔ ہلکے فوجی ہتھیاروں کے علاوہ مارٹر لوگوں تک کا بھی استعمال کیا جارہاہے۔ اس جنگی جنون میں کئی فوجی نوجوانوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے علاوہ دونوں طرف شہری بھی لقمہ اجل ہوچکے ہیں اور زخمی پڑے ہیں۔ شہری آبادیاں بھی گولہ باری کی زدمیں آچکی ہیںجس سے کئی رہائشی مقامات بھی خاکستر ہوچکے ہیں اور مال مویشی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ سرحدی دیہات کی آبادیاں اپنے آبائی ٹھکانوں اور مال و اسباب کو چھوڑ کر دوسرے محفوظ علاقوںمیں پناہ گزین ہوچکی ہیں۔ یہ فصل کٹائی کا موسم ہے۔ اس گولہ باری سے فصلوں کو بھی زبردست کا متحمل ہونا پڑاہے۔ سرحدی بستیاں خوف وہراس کا شکارہیںاور ان کا کوئی پُرسان حال نہیںہے۔ دونوں طرف کے حکمران انتقام اور بدلے کی نعری بازی سے سرشار اس قتل و غارت پر فخریہ انداز اختیار کئے ہوئے ہیں اور مزید انتقامی کار روائیوں اور بدلے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس سے عوام انتہائی سماجی ، معاشی اور نفسیاتی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ خطرہ اس امر کا ہے کہ سیزفائر لاین کی خلاف ورزیوں کے اس ماحول میں گولہ باری کہیں نہ چاہتے ہوئے بھی باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار نہ کرجائے کہ برصغیر کا مستقبل ہی داؤ پر لگے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی قوت سے لیس ہیں۔
 ہندو ستان ا ورپاکستان کی حکومتیں 1947کے بعد کئی بار جنگی جنون کا شکار ہوکر جنگ آزمائی کرچکی ہیں اور ایک دوسرے کی تباہی و بربادی کی داستانیں رقم کرنے کے باوجود اور ان سے کوئی سبق سیکھنے کی بجائے ابھی تک بحیثیت مجموعی ٹکرائو کشیدگی کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ کہنے کو اس عرصہ میںکئی بار دوطرفہ اختلافات اور قضیہ جات بشمول کشمیر بات چیت اور مذاکرات سے سلجھانے کے لمحات بھی آئے اور دونوں کے درمیان خیر سگالی کا جذبہ بھی پیدا ہوا کہ مطلع ٔ سیاست پر مفاہمت اور دوستی کاابر کرم دکھائی دینے لگیں لیکن ہمیشہ اس خوش گوارتاثر کی مدت مختصر رہی اور بہت جلددونوںممالک میں پہلے لفظوں کی جنگ چھڑگئی اور بعدازاں بین الاقوامی سرحدوں اور حد متارکہ پر جنگ کے شعلے منڈلانے لگے کہ نہ صرف جانبین جانی نقصان ہوتا رہا بلکہ دونوں ممالک کے عوام اس جنون کے بیچ پھنس کر بے انتہا مصائب ومشکلات کاشکارہے۔
 گزشتہ سات دہائیوں کاتجربہ گواہ ہے کہ جنگ وجدل، ٹکرائو، کشیدگی، تکرار، صف آرائی اور مقابلہ بازی کے ذریعہ دونوںممالک کے حکمران اپنے مقاصد حاصل کرنے میںناکام رہے ہیں اور یہ اپنے دیر ینہ مسائل اور تنازعات طے کرنے میںکوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیںکرسکے ہیں، بلکہ اس طویل المدتی صف آرائی اور معرکہ بازی کے باعث دونوں ممالک کی معاشی تباہی وبرباد ی کا حجم بڑھتا گیااور ان کے دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافے سے غربت ، بیماری، ناخواندگی اور محرومی کی کیفیت اور کمیت میں کمی آنے کی بجائے ان میں بڑھوتری ہوئی، دونوںممالک کی معیشتیں برابرتباہ و برباد ہوتی رہیں ، آر پار کے عوام کی بہتری اور بہبودی کے اقدامات اٹھانے کی بجائے عوامی خزانہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر صرف ہوتے رہے۔ تاریخ نے یہ طرفہ تماشہ بھی دکھاتی رہی کہ دونوں حکومتیں ہر بار لا حاصل جنگ وجدل اور معرکہ آرائی و صف آرائی سے تھک ہارکر پھر مذاکرات اور بات چیت کی میز پرا ٓتی رہیں اور نئے نئے معاہدوں اور قول وقرار وں سے خود کو طفل تسلیاں دیتی رہیں مگرستم یہ کہ جنگ کے برے اور مضرت رساں اثرات کو آئندہ قوم کے گلے نہ پڑنے دینے پر کاربند ہونے ، اپنے اختلافی مسائل حل فوراً کر نے ، اپنے اپنے عوام کومستقل امن و آشتی کی زندگی دینے ، جیو اور جینے دو کے اصول پر ہمیشہ کاربند رہنے کے بجائے جب کبھی انہیںنجی سیاست چمکانے کی ضرورت پیش آئی، داخلی مسائل سے پنڈ چھڑانے کی مجبوری لاحق ہوئی ، غیر معمولی واقعات کے بہاؤ میں بھٹک جانے کا موقع ملا یا عالمی طاقتوں کی بدمعاشیوں نے انہیں دفعتاًماضی کی تلح کا میوں کی راگ چھیڑ نے کی راہ سجھائی تو یہ ایک یا دوسرے بہانے باہم دگر لڑنے بھڑنے پر آمادہ ہوئیں ، ادھر دیکھتے ہی دیکھتے سینوں میں دفن نفرت اور عداوت کی سوکھی گھاس کو حالات کی معمولی دیا سلائی نے میدان جنگ میںبدل ڈالا اور پھر اس تباہ کن کھیل یا مشغلے نے پھر سے دونوں طرف کے بے بس لوگوں کو بے موت مارڈالا۔ اب کی بار بھی موجودہ جنگی صورت حال کے پس پردہ یہی تلخیاں اور بدقماشیاں کا رفر ما ہیں جب کہ مآل کار ودطرفہ گولہ بارود سے غریب لوگوں کی قیمت پر تباہیوں اور خساروں کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیںنکلے والاہے۔ آخر کار دیر سویردونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑے گا۔ جنگ وجدل سے کوئی اور نتیجہ برآمد ہونے کی ہرگز کوئی دوسری صورت ہے ہی نہیں۔ اس لئے دونوں ممالک کے حکمرانوں کے لئے بہتر اور برتر یہی ہے کہ وہ جنگ بازی کے خونخوارانہ عمل پر تکیہ کر نے کے بجائے بات چیت اور افہام وتفہیم کی میز پر آجائیں اور بجائے جنگی جنون کے باہمی اعتماد ومفاہمت کی آزمودہ راہ پر چلیں۔ یہ یاد رکھیں کہ آج نہیں تو کل انہیں ڈائیلاگ کے ٹیبل پر آنا ہی ہوگا ۔ 1947 کی جنگ کے بعد بھی اُنہیں ا قوام متحدہ کے ذریعہ مذاکرات کی میز پرا ٓناپڑا، 1964-65کی جنگ کے بعد بھی اُنہیں تاشقند میں مذاکرات کرنے پڑے تھے، 71ء کی  جنگ کے معاًبعد انہیں شملہ کا رُخ کرنا پڑا،کرگل کے پس منظر بھی انہیں خرابی ٔ بسیار کے بعد سامرج امر یکہ کے اس وقت کے صدر بل کلنٹن کی سننا پڑی اور جنگ سے باز آکر امن وآشتی سے رہنے کی راہ اختیار کر نا پڑی۔ آج بات چیت کو چھوڑ کر اسی تباہ کن جنگ بازانہ راستہ پر چلنے کی کیا ضرورت ہے؟ تباہی اور بربادی سے پیشتر ہی مذاکرات کی میز پر آکر تنازعات اور مسائل کاحل کیوںنہ ڈھونڈا جائے؟ عقل مندی یہ ہے کہ گزشتہ تجربات کی بنیا د پر وہ جنگ وجدل سے گریز کرکے مذاکرات کے ذریعہ مسائل حل کئے جاتے لیکن اب کے بھی آر پار پرانے تباہی والے راستہ پر چلتے ہی نظرآتے ہیں جو کہ ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔ دونوںممالک کے عوامی مفادات کا تقاضاہے کہ دونوںممالک کے حکمران صف آرائی ، محاذا ٓرائی اور جنگی جنون کا راستہ ترک کرکے فوری طورپر مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اختیار کریں اور دونوںممالک کے عوام کو جنگی تباہ کاریوں سے محفوظ کریں۔ موجودہ جنگی جنون سے پیشتر حکمران لیڈر خود کہتے رہے ہیں کہ دونوںممالک کے سامنے جنگ وجدل کے ذریعہ مسائل حل کرنے کا راستہ کوئی نہیںہے۔ اس لئے مذاکرات کے ذریعہ ہی مسائل اور تنازعات حل کئے جائیںگے لیکن اب پھر وہ کیوں جنگی جنون پیدا کرکے عوام کو تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ بعض سیاسی مبصرین کا جواب ہے کہ دونوںممالک کے حکمران اس وقت اپنی پالیسیوں کے باعث گھریلو مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لئے وہ اپنی ناکامیوں اور مشکلات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے جنگی جنون پیدا کررہے ہیں۔ اُن  کا کہناہے کہ مودی نے قوم سے جو وعدے وعید کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہ ہو بلکہ ان کے ا لٹ ضرور ہو اجب کہ پاکستان کے نواز شریف مبینہ طورپانامہ لیکس میںملوث ہیں ، کے خلاف اپوزیشن پارٹیاں خصوصاً عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی پوری طرح صف آراء ہے۔ پیپلز پارٹی بھی میدان میں آنکلی ہے اور کئی مذہبی پارٹیاں بھی سامنے آگئی ہیں۔ اس  لئے اس طرح سے توجہ ہٹانے کے لئے جنگی جنون ایک راہ ِ فرار ہے ۔ ان مبصرین کے مطابق ہندوستان کی مودی سرکار برسر اقتدار آنے سے پیشتر عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب اسے پھر اگلے سال پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات درپیش ہیں اور جس کا اثر2019کے لوک سبھا کے انتخابات پر پڑسکتاہے، اس لئے مودی بھی جان بوجھ کر ملک میں جنگی جنون کو ہو ادے کر عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں اور توقعات اور خوش امیدیوں سے ہٹاکر اپنا الو سیدھا کر نے کا کر تب قومی خسارے کی قیمت پر دکھار ہے ہیں۔گو اس سلسلہ میں پورے وثوق سے کچھ بھی نہیںکہا جا سکتا اور وقت ہی بتائے گا کہ ان مبصرین کی آراء کہاں تک درست ہیں لیکن بادی ا لنظر میںان تجزیات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔بہر حال تقاضائے وقت ہے کہ ہندو پاکستان کے حکمران متنازعہ اور اختلافی مسائل جنگ وجلد اور ٹکرائو و کشیدگی کی بجائے باہمی طورپر مذاکرات اور بات چیت کے ذریعہ حل کریں اور اپنے اپنے ملکی و قومی ترقی اور عوامی مسائل پر توجہ دیں۔ دونوںممالک کے عوام بھوک، افلاس، بیکاری، مہنگائی، جبر وتشدد، دہشت گردی، غنڈہ گردی، رشوت ، بھرشٹاچار کا شکار ہیں ۔ حکمران اسی طرف توجہ دیں اور عوامی مسائل حل کریں تو یہی ان کا کرم ہوگا۔ ان مسائل کا حل جنگی جنون میں ڈھنونڈنا ہر گز علم وفہم کی بات نہیں بلکہ یہ کم بختانہ جنون عوام الناس کے لئے مزید گھمبیرمسائل پیدا کردے گا، ملک کومزید کنگال کردے گا اور عوام کی حالت مزیدابتر ہوجائے گی۔
دونوں ممالک تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ترقی پذیر ممالک ہیںجو عرصہ تک برطانوی سامراج کے زیر تسلط رہے ہیں اور اس وجہ سے سامراجی لوٹ کھسوٹ کا شکار رہے ہیں۔برطانوی انخلاء کے بعد بھی دونوں ممالک کی معیشت پر سامراجی غلبہ ہے اور سامراجی طاقتیں مقامی گماشتہ سرمایہ داروں سے شراکت کرکے عوام کی دولت کا استحصال کررہی ہیں۔ اس وقت بھی دونوں ممالک کی معیشت پر نہ صرف امریکی سامراج کا غلبہ ہے اور ورلڈ بنک، انٹرنیشنل کنشوریم ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور دیگر اداروں کے ذریعہ وہ ان ممالک کی لوٹ کھسوٹ کررہاہے۔ امریکی سامراجی بظاہربے شک دونوںممالک سے دوستی اور دونوں کے درمیان صلح جوئی کا دم بھرتاہے لیکن وہ دونوںممالک کے درمیان کشیدگی ، ٹکرائو اور جنگ وجدل کا خواہاں ہے تاکہ دونوںممالک میں یہ معاشی استحصال کے علاوہ سیاسی غلبہ بھی قائم رکھ سکے اور اپنا مال خصوصاً اسلحہ اور بارود دونوںممالک میں فروخت کرکے منافع در منافع کماسکے۔ تیسری دُنیا کے دیگر ممالک کا تجربہ بھی اس سلسلہ میں گواہ ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ ہماری ہمسائیگی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کو آپس میں لڑا کرکس طرح اس خطہ پر امر یکہ اورا س کے حواری عملی طورپر قابض ہیں۔عراق، شام، یمن، لیبیا، اُردن، خلیجی ریاستوںمیں ایک دوسرے کو محاذ آراء اور صف کر وا کروہ کس طرح اپنے مفادات حاصل کررہاہے۔ ان حقائق سے سبھی آگاہ ہیں ۔ا فغانستان میںاُس نے کیا گل کھلائے ہیں، اسے بھی سب لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ایران کے خلاف اس کی سازشوں کو کوئی بھلا نہیں سکتا۔ مشرق وسطیٰ میں شیعہ سُنی اختلافات کو ہوا دے کر اس نے کیا شورمحشر بپا کررکھاہے،وہ سب بھی کی دانست میں ہے۔ اس لئے وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں میںسے کسی کا بہی خواہ نہیںہوسکتا۔ درحقیقت  وہ برصغیر کے ان دونوں ممالک میں جنگی جنون پیدا کرکے ہ اپنی چودہراہٹ قائم رکھنا چاہتاہے ، اس لئے دونوںممالک کو امریکی سازشوں سے باخبر رہ کر اس کی درپردہ سازشوں کو ناکام کرنے کی ضرورت ہے۔دونوں ممالک کے حکمرانوں کے اس حوالے سے کیا عزائم اور پالییساں ہیں، اس بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے لیکن دونوں ممالک کے عوام کا مفاداسی امرمیں ہے کہ وہ اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرکے حکمرانوں پر دبائو ڈالیں کہ اربابِ اقتدار متنازعہ معاملات اور مسائل باہمی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعہ حل کریں۔ جنگ وجدل، ٹکرائو، کشیدگی، محاذ آرائی، صف آرائی کے خلاف زوردار آواز بلند کریں۔جموں وکشمیر کے دونوں حصوں کے عوام کا خصوصی فرض ہے کہ وہ آر پار پر بات چیت اور مذاکرات کے لئے اپنا پورا زور لگائیں کیونکہ ان کے درمیان ٹکرائو ، کشیدگی اور جنگ وجدل کا خمیازہ اس ریاست کے لوگوں کو بھگتنا پڑتاہے۔ اس وقت بھی سرحدوں پرگولہ باری سے اسی خطہ کے لوگوں پر آفت نازل ہوئی ہے اور اگر خدانخواستہ اگر کوئی نئی جنگ نازل ہوتی ہے تواُس کی تباہ کاریوں کا نتیجہ اسی ریاست کے ستم رسیدہ عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔وادیٔ کشمیر میںبھی گزشتہ  چار ماہ سے جو خون ریزی ، عوام کی تنگ طلبیاں ، داروگیراور سرکاری سطح پر ظلم وستم جاری ہیں، اس صورت حال کے متعلق بھی ہماری پختہ نقطہ ٔ نظر ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے درمیان بات چیت کے علاوہ تمام متعلقین سے مذاکرات کی میز مزید تاخیر کئے بنا سجا لیا جائے جس میں اصل روگ کا موثر و معتبر علاج بخلوص قلب نکالا جائے۔ ان مذاکرات میں حریت کانفرنس اور دیگر ناراض عناصر بھی شامل کر نا ہی کامیابی کی واحد کنجی ہے۔ ہمیںکشمیری عوام کی دہائیوں سے جاری زبوں حالی اور مصائب سے پوری پوری ہمدردی ہے اوراس کا علاج بھی سارے متعلقین کے درمیان غیر مشروط طورپر مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت ہند پرخصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سارے متعلقین سے حل کی بابت بات چیت کا عمل شروع کرے ۔ آخر پر حبیب جالب کا یہ شعر   ؎
 ہندو ستان بھی میرا ہے اور پاکستان بھی میرا ہے
 لیکن ان دونوںملکوں میں امریکہ نے ڈالا ڈیر ا ہے
krishandevsethi@gmail.com
