تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

4 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      مفتی نذیراحمد قاسمی)

سوال: آج کل بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو منہ بولا بھائی بہن وغیرہ جتلا کر فون پر گھنٹوں باتیں کرتے ہیں ۔کیا اس طرح سے کوئی کسی کا بھائی یا بہن بن جاتاہے اور پھر کیا بھائی بہن کی طرح اپنی نجی زندگی کے مسائل شیئر کرنا صحیح ہے ۔ کیا اس طرح سے فون کے ذریعہ یا پھر انٹرنیٹ کے فیس بُک وغیرہ کے ذریعہ غیر محرموں کا آپس میں دوستیاں گانٹھنا شریعت کی رو سے جائز ہے ۔ براہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔
عبداللہ شوپیانی 
نامحرموں کا موبائل ، انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعہ دوستیاں گانٹھنا شیطانی خطرات کا حامل 
جواب:- نوجوان لڑکوں او رلڑکیوں کا اس طرح باتیں کرنا سراسر حرام ہے ۔ چاہے موبائل فون کے ذریعہ یا انٹرنیٹ کے ذریعہ یا فیس بُک کے ذریعہ ہو۔ پھر اس پر یہ کہنا کہ یہ میرا منہ بولا بھائی یا بہن ہے ۔ یہ دراصل اپنے جرم پر پردہ ڈالنے اور ایک حرام کو حلال بنانے کی غیر شرعی شیطانی کوشش ہے ۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اولاً اس طرح کی گفتگو سے آغاز کرتے ہیں او رپھر عشق بازی اور آگے بدکاری کے جال میں پھنس جاتے ہیں ۔اس وقت جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے حیائی اور بدکاری کے دلدل میں لت پتہیں اور پھر اُس کے نتیجے میں صورتحال اُس طرف جارہی ہے کہ کسی پاکدامن لڑکے یا لڑکی کا ملنا خواب بن جائے گا۔ یہ سب اسی شیطانی سلسلہ کا تلخ نتیجہ ہے ۔
اس وقت جنسی جذبات کے بے قابو ہونے کا حال یہاں تک پہنچ چکاہے کہ حقیقی بھائی بہن اگر جوان ہوں ، فحش فلمیں دیکھتے ہوںاور ناچ گانے کے ماحول میں ہوں توحقیقی بھائی بہن ہونے کے باوجود شیطانی حملوں کا شکار ہوسکتے ہیں اور اس طرح کے حادثہ ہوسکتے ہیںجو سوچنا بھی مشکل ہے ۔جب حقیقی بھائی بہن کو خطرے ہیں تو کسی بھی نامحرم چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار کیوں نہ ہواُس سے فون پر رابطہ قائم کرنا ہی حرام ہے اور زیادہ ہی خطرہ ہے ۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اے نبی کی بیویو! اگر تم سے کوئی نامحرم بات کرے تو کرخت اور تلخ لہجے میں جواب دو ۔تاکہ اُس کے نفس میں تمہارے متعلق غلط خیال پیدا نہ ہوں ۔ (سورہ احزاب)
اسی لئے عورتوں کو حکم ہے کہ وہ کسی بھی نامحرم سے بات ہی نہ کریں اور اگر مجبوراً بات کرنی پڑے تو بہت پھیکے اور ناگوار انداز میں کریں تاکہ یہ آگے غیر شرعی تعلقات کا ذریعہ نہ بنے۔جب مسلمان اس حکم کو چھوڑ دیتے ہیں تو اس سے کیسے کیسے جرائم وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ہمارے معاشرے میں چاروں طرف سے نمایاں ہیں ۔لڑکوں کے لڑکیوں سے غلط تعلقات، مردوں کے دوسروں کی بیویوں کے ساتھ اور عورتوں کے دوسرے مردوں کے ساتھ روابط اور پھر کتنوں کی زندگیاں تباہ وبرباد ہورہی ہیں ۔اس لئے کسی مسلمان لڑکے یا مرد کے لئے اور کسی مسلمان عورت یا لڑکی کے لئے ہرگز یہ رابط اور بات چیت کاسلسلہ جائز نہیں ہے۔
حق یہ ہے کہ کامیاب لڑکا وہ ہے جو نکاح کے بعد اپنی زوجہ سے ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہہ سکے کہ میرے روابط کسی نامحرم کے ساتھ نہیں ۔میرادل بھی پاک ، جسم بھی پاک اور نگاہ بھی پاک ہے ۔ میری عفت بھی محفوظ اور میری حیاء بھی برقرار ہے۔اورکامیاب بیٹی وہ ہے جو اپنے ہونے والے شوہر کو رخصتی کے بعد پہلی ہی ملاقات میں یہی سب کچھ کہے اور اس میں وہ سچی بھی ہواور یہ اسی صورت میں ہوگا جب موبائل ،فیس بک اور انٹرنیٹ وغیرہ کے اس جال میں اپنے آپ کو پھنسانے سے بچا کر اپنی جوانی کے نازک دن گذاریں۔
سوال:- ہمارے علاقہ میں کئی برس پہلے ایک شخص نے اپنی دختر کا رشتہ ایک شخص کے ساتھ طے کیا، اس منگنی میں اُس لڑکی نے کپڑے قبول کئے ،نکاح کا اختیار بھی دیاجس کے گواہ موجود ہیں ۔ بات پکی ہوگئی ۔ اب پانچ سال کے بعد اس شخص نے اپنی اس لڑکی کا نکاح کرواکے اس کو رُخصت بھی کردیا ، اس لئے کتاب وسنت کے حوالے سے رہنمائی فرمائیے۔ کیا یہ دوسرا نکاح درست ہے ؟ہمارے علاقہ کے دو عالموں نے اس پر فتویٰ دیا ہے کہ پہلا نکاح صحیح ہے ، دوسرا نکاح صحیح نہیں ہے جب کہ وہ عورت دوسرے نکاح کے خاوند کے ساتھ ہے ۔اب پورے علاقہ میں انتشار ہے اس لئے بذریعہ کشمیرعظمیٰ بتائیں کہ اس میں صحیح کیاہے؟
یکے از مسلمین …ضلع گاندربل 
رشتہ قائم کرنے کی مجالس اور نکاح ورخصتی
جواب:- رشتہ قائم کرنے کے لئے جو مجلس منعقد کی جاتی ہے اُس مجلس کی دو صورتیں ہوتی ہیں یا تو منگنی کے لئے مجلس منعقد کی جاتی ہے جس کا مقصد رشتہ کے لئے وعدہ کرنا ،رشتہ کی بات پختہ کرنااور آئندہ رشتہ برقرار رکھنے ، رشتہ قائم کرنے کا عہد پکا کرنا ہوتاہے ۔ اس غرض کے لئے قائم کی جانے والی مجلس کو مجلس نکاح نہیں کہہ سکتے ۔ یہ مجلس منگنی یا Engagement  کہلاتی ہے ۔ اس مجلس میں مہر طے ہوجائے ، زیورات دیئے جائیں ، کپڑے پہنائے جائیں اور رشتہ پختہ کرنے کے لئے ایجاب وقبول کے الفاظ دہرائے جائیں ۔ ان سب چیزوں کے باوجود یہ نکاح نہیں ہے ۔ اسی لئے اس طرح کے بعد آئندہ باقاعدہ نکاح پڑھایا جاتاہے ۔ اگر پہلی مجلس میں نکاح منعقد ہوگیا ہوتا تو پھر دوبارہ نکاح کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہ ہوتی ۔ 
دوسری مجلس ،مجلس نکاح ہوتی ہے جو نکاح کرنے کی غرض سے منعقد ہوتی ہے ،اس میں خطبہ پڑھاجاتاہے ، ایجاب وقبول ہوتاہے اور دونوں طرف کے تمام لوگ اس کو نکاح ہی سمجھتے ہیں ۔
کبھی منگنی کی مجلس اور نکاح کی مجلس میں بظاہر کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا مگر درحقیقت دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے او روہ مقصد انعقاد وعدۂ نکاح ہے یا تکمیل ِنکاح ۔ اگر مجلس قائم کرنے کا مقصد وعدۂ نکاح ہے تو پھر اس میں نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ زیر نظر معاملے کو اسی اصول کی روشنی میں سمجھا جائے۔
س:- کیا مقررہ وقت سے پہلے کوئی بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے ؟
علی محمد بٹ…منی گام ،گاندربل 
وقت سے پہلے نماز ادا نہیں ہوتی 
جواب:-قرآن کریم میں صاف اور واضح ارشاد ہے جس کا ترجمہ یہ ہے ۔ بلاشبہ نماز اہل ایمان پر وقت پر فرض ہے ۔ حدیث میں ہے حضرت نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوچھا گیا کہ افضل ترین عمل کون سا ہے ؟ آپؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا: نماز اپنے وقت پر پڑھنا۔اس لئے احادیث کی کتابوں میں بھی اور فقہ کی کتابوں میں بھی اوقات نماز کا مستقل بیان ہوتاہے ۔ اُس میں ہر ہر نماز کا وقت آغاز اور وقت اختتام بتایا گیا۔ اگر وقت آغاز سے پہلے نماز پڑھی جائے تو وہ نماز ہی ادا نہ ہوگی ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ صبح صادق سے پہلے فجر ، یا غروب آفتاب سے پہلے مغرب کی نماز پڑھی جائے ۔اسی طرح غروب شفق سے قبل نمازِ عشاء پڑھی جائے تو وہ عشاء ادا ہی نہ ہوگی ۔ جیسے غروبِ آفتاب کا وقت جنتریوں سے معلوم ہوجاتاہے اسی طرح غروب شفق کا وقت بھی معلوم ہوجاتاہے اور یہی شروعِ عشاء کا وقت ہے ۔ اگر وقت مقررہ کے بعد نماز پڑھی جائے تو وہ قضاء ہوگی ۔بہرحال ہر نماز اپنے وقت پر پڑھنا ضروری ہے ۔
سوال: خاندان کی بنیاد اعلیٰ ہونے کی بنیاد پر رشتہ کرنے سے انکار کرنا کیسا ہے ؟ کچھ لوگ سید ہونے کی بنا پر غیر سید گھرانوں سے رشتہ کرنے سے ناکار کر دیتے ہیں کیا یہ صحیح ہے ، رہنمائی فرمائیں۔ ؟
ایک      سائل
 نکاح میں خاندانی تفاوت کا خیال کرنا؟
جواب :۔خاندانوں میں شرافت ، تقویٰ اور مختلف اوصاف کی بنا پر اعلیٰ و ادنیٰ ہونا شرعاً اور عقلاً ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ مگر خاندانوں کی بنا پر فخر و غرور کرنا بھی سراسر غیر شرعی ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اپنے آباء و خاندانوں پر فخر کرتے ہیں اُ ن کو اس جھوٹے تفاضہ سے رک جانا چاہئے۔ ترمذی، ابو دائود۔ مشکوۃ، خاندانی فخر و غرور کا ایک شعبہ یہ بھی ہے کہ سید خاندان کی لڑکی کا نکاح کسی غیر سید سے ناجائزہ سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ والدین کو اگر یہ محسوس ہو جائے کہ فلاں غیر سید لڑکا اپنے علم، تقویٰ ، شرافت، کردار اور خوبیوں کی بنا پر ہ ہماری بیٹی کیلئے بہت مناسب ہے اور وہ رضامند ہو کر اپنی سید زادی کا نکاح اس غیر سید نوجوان کے ساتھ کریں تو شرعاً یہ نہ صرف جائز بلکہ بہتر و مستحسن ہے۔
والدین کی رضامندی کے بغیر از خود کسی خاتون کا رشتہ کرنا شرعاً اور عقلاً دونوں اعتبار سے بہت ساری خرابیوں کا سبب ہوتا ہے اس لئے اگر کسی سید زادی اپنے والدین کی اجازت کے بغیر خود کسی غیر سید سے نکاح کر لیا تو ایسا کرنا شرعی طور پر درست نہیں۔ ہاں کسی سید زای کا نکاح جب اس کے والدین کسی غیر سید سے کرنا چاہیں اور وہ اس سے رشتہ کرنے پر مطمئن ہوں اور مطلوبہ بہترین اوصاف اس میں اُن کو نظر آئیں تورشتہ کرنا جائز ہوگا۔ حدیث میں دینداری کو رشتہ میں ترجیح دینے کا حکم ہے۔
حضرت نبی کریم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن( زینب ؓ) کا نکاح ایک غلام ( زید ؓبن حارثہ) کے ساتھ کر دیا تھا ۔ حضرت زین العابدین ؒ نے اپنے غلام سے اپنی ہمشیرہ کا نکاح، او رخود اپنا نکاح ایک باندی کے ساتھ کیا تھا۔ بہر حال کوئی سید اپنی دختر سید زادی کا نکاح کسی غیر سید سے کرنے پر از خود رضامند ہو تو شرعاً درست ہے۔
سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ حدیث میں یہ بیان ہوا کہ نکاح کرنا آدھا ایمان ہے۔ اگر یہ حدیث ہے تو اس کے الفاظ کیا ہیں اور نکاح آدھا ایمان کیسے ہے اس کی وضاحت کریں؟
عابد علی…لال بازار سرینگر
نکاح نصف ایمان 
جواب: یہ بات درست ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علی ہوسلم نے ارشاد فرمایا کہ نکاح  نصف دین ہے۔ چنانچہ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے۔
 حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ مسلمان جب نکاح کرتا ہے تو اپنے نصف دین کو مکمل و محفوظ کرلیتا ہے۔ اب اس کو چاہئے کہ بقیہ نصف دین کے بارے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔
اس حدیث کے متعلق حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ انسان عموماً دو ہی وجہوں سے گناہ کرتا ہے، شرمگاہ اور پیٹ۔یعنی جنسی جذبات کی بناء پر اور کھانے پینے کی وجہ سے۔
جب نکاح کر لیا تو اب زنا،بدنظری، غیر محرم سے تعلقات قائم کرنے کے جذبہ سے محفوظ رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ اب نظر کی طہارت، عفت و عصمت کی حفاظت، پاک دامنی اور حیائ، نظر اور خیالات کی یکسوئی اور غلط رُخ کے احساسات اور تخیلات سے بچائو حاصل ہونے کا سامان مل گیا تو دین کو تباہ کرنے والے ایک سوراخ کو بند کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اب بقیہ نصف یعنی کھانے پینے کی وجہ سے جو گناہ ہوتے ہیں اُس کی فکر کرے۔ اس میں حرام دولت، چوری، رشوت ، دھوکہ،فریب اور ہر طرح غیرشرعی اکل و شرب شامل ہے۔ 
 
صدرمفتی دارالافتاء
دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ