تازہ ترین

بچوں میں وائرل انفیکشن،جی بی پنتھ اسپتال میںوالدین کی بھیڑاُمڈ آئی

مارچ میں1800کا اندراج،فلو کا اثر15اپریل تک رہے گا:ڈاکٹر

21 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

پرویز احمد
سرینگر// بچوں میں وائرل انفیکشن کے باعث پوری وادی میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور سوموار کو دوردراز علاقوں سے آئے سینکڑوں والدین نے بچوں کے مخصوص اسپتال کا رخ کیا اور اسپتال انتظامیہ کو شام دیر گئے تک بھاری رش کو کنٹرول میں کرنا انتہائی مشکل بن گیا۔تاہم جی بی پنتھ اسپتال میں بچوں کے امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اچانک اضافے کی وجہ سے بچے بخار، کھانسی اور زکام کی بیماری کے شکار ہورہے ہیں اور یہ تعداد گزشتہ سال سے دوگنی ہوگئی ہے۔گذشتہ کئی دنوں سے پوری وادی میں کھانسی، گلے میں درد، زکام ، نزلہ اور بخار کی بیماریاں پھیل گئی ہیں اور ہزاروں بچے اس طرح کے وائرل انفیکشن میں مبتلا ہوگئے ہیں۔سوموار کو ہزاروں والدین بچوں کو لیکر بچوں کے اسپتال میں پہنچ گئے کیونکہ انکا کہنا تھا کہ ادویات کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے اور انفیکشن بتدریج پھیل رہا ہے۔جی بی پنتھ اسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اگرچہ روزانہ کی بنیاد پر او پی ڈی میں900بچوں کا علاج ہوتا تھا تاہم امسال یہ تعداد دنگی ہوکر 1800ہوگئی ہے۔فلو بیماری کے بڑھتے ہوئے اثر کے بیج سرینگر کے سونہ وار میں قائم بچوں کے مخصوص اسپتال میں والدین کے بھیڑ لگی ہوئی ہے اور وادی کے مختلف علاقوں سے والدین بچوں کو لیکر اسپتال پہنچ رہے ہیں جس کے چلتے کل اسپتال میں  والدین اور اسپتال کی حفاظت پر معمور عملے میں ہاتھا پائی بھی ہوئی ، جس میں اسپتال کی سیکورٹی پر مامور دو سیکورٹی اہلکار بھی زخمی ہوگئے ۔ محمد اشرف ساکن ڈلگیٹ نے بتایا کہ میرے بچے کو کھانسی تھی اور بخار بھی ہے تاہم جب سے ڈاکٹروں نے ادویات دیں ، تب سے وہ بہتر محسوس کررہا ہے،لیکن کھانسی ابھی موجود ہے۔جی بی پنتھ اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر کے کے پنڈتا نے بتایا ’’ ہر سال کی طرح  مارچ میں اس سال بھی بیمار بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا لیکن امسال اچانک گرمی میں اضافہ کی وجہ سے یہ تعدادبڑھ گئی ہے۔ڈاکٹر  پنڈتا نے کہا کہ ہر سال مارچ کے مہینے میں او پی ڈی میں آنے والے بچوں کی تعداد عام دنوں سے زیادہ ہوتی ہے مگر امسال یہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہے جس کی ایک بڑی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچانک درجہ حرارت بڑھنے سے وائرس بھی تیزی سے پھیل گیا ہے تاہم گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ڈاکٹر  پنڈتا نے کہا چونکہ یہ ایک عام فلو ہے اور زیادہ پانی پینے اور Paracetmolبچوں کو دے کر بھی بچے گھر میں ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام دنوں میں اگر ہم 900بیمار بچوں کو دیکھتے ہیں تو امسال یہ تعداددگنی 1800تک پہنچ گئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ موجودہ فلو سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے اور یہ بیماری جلد قابو میں بھی آتی ہے۔ ڈاکٹر  پنڈتا نے کہا کہ فلو انفیکشن 15اپریل تک ختم ہوجائے گا اور اُمید ہے کہ اسپتال آنے والے بچوں کی تعداد میں بھی دن بہ دن کمی آتی جائے گی۔