تازہ ترین

خطہ چناب میں ایڈیشنل ہائی کورٹ بنچ کا قیام!

20 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

پیشتر ازیں ضلع ڈوڈہ جسے خطہ چناب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 9,24,345افراد کی آبادی پر مشتمل ہے۔ اور 11,691Sq.KM میں پھیلا ہوا ہے۔ خطہ چناب ایک بہت بڑا خطہ ہے جس کی ایک سیاسی مذہبی اقتصادی تہذیب یافتہ تاریخ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس خطہ کے لوگوں کی مصیبتوں /دشتواریوں کا کوئی پرسانِ حال نہ ہے۔ صوبہ جموں و صوبہ کشمیر کی صوبائی جنگ کا شکار یہ منفرد خطہ چناب مختلف تفرقات سے دو چار ہورہا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے پسماندہ چلا آرہا ہے۔خطہ چناب صوبہ جموں کا حصہ ہے اور صوبہ جموں ریاست جموں و کشمیر کا سرمائی دارالخلافہ ہے۔ پیشتر ازیں ضلع ڈوڈہ سال 2006؁ء میں تین اضلاع میں بٹ چُکا ہے۔ جیسا کہ ضلع ڈوڈہ، ضلع کشتواڑ، اور ضلع رام بن اور تینوں اضلاع کا مرکزی شہر جموں ہے۔ جس کی وجہ سے خطہ چناب کے لوگوں کو آئے دن اپنے کاموں کے سلسلہ میں مرکزی شہر جموں کارخ کرنا پڑتا ہے۔ پھر چاہے وہ سیکٹریٹ کا کوئی کام ہو یا یونیورسٹی کا یا علاج معالجہ کے سلسلہ میں کسی بڑے ہسپتال میں جانا ہو یا تجارت خرید و فروخت غرض شہر جموں یہاں کے لوگوں کی ہر ہر ضرورت کا مرکز بن چُکا ہے۔یہاں تک کہ مختلف مقدمات میں ملوث لوگوں کے سینکڑوں مقدمات اس وقت Hon'ble  ہائی کورٹ میں رواں ہیں۔ جن کے سلسلہ میں یہاں کی غریب عوام کو اکثر پیشی پر حاضری دینے کے لئے شہر جموں جانا پڑتا ہے۔ سفر لمبا ہونے کے باعث یہاں کی عوام کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کام کتنا بھی معمولی کیوں نہ ہو 3/4دن توصرف ہو ہی جاتے ہیں۔ اس دوران مختلف اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو جاتاہے۔ ہائی کورٹ دو ر ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے بہت سارے حقوق سے محروم رہتے ہیں۔ جس سے لوگوں کی ثقافت میں رکاوٹ آتی ہے جس طرح بیمار کا علاج وقت پر کرنے کے لئے ہسپتال کا نزدیک ہونا ضروری ہے اسی طرح مسائل کی قانونی چارہ جوئی کے لئے عدالت مبارک کا نزدیک ہونا لازمی ہے۔ تاکہ لوگ اپنے حقوق سے محروم نہ رہیں۔ سماج کو ہمیشہ عدل کی ضرورت رہی ہے اور وہ سماج ترقی پاتا ہے جس سماج میں عدل کا بو ل بالا ہو۔ یہ سب تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب سماج اور عدلیہ کے دروازوں کے درمیان فاصلہ کم از کم تر ہو۔ جیسا کہ میں نے ابتداء میں ذکر کیا تھاکہ پیشتر ازیں ضلع ڈوڈہ، 9,24,345افراد کی آبادی پر مشتمل ہے۔ اور 11,691Sq.KM میں پھیلا ہوا ہے ۔ اور جموں شہر سے تقریباً 200کلو میٹر کی دوری پر آباد ہے۔ خطہ کی نوعیت بالائی ہے اور ہر لحاظ سے پسماندہ ہے۔ لہذا یہ خطہ چناب ہائی کورٹ پنچ کے قیام کا مستحق ہے۔ یہاں کے ہر ہر شخص کا مطالبہ ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ یہاں کے ضلع ڈوڈہ کے ہیڈ کوارٹر پر ایڈیشنل ہائی کورٹ بنچ کا قیام ہو۔اور یقینا اس کے قیام سے یہاں کی عوام کو راحت اور بے شمار دشواریوں سے مخلصی ملے گی۔ لوگ اپنے حقوق کا مکمل اور جائز استعمال کریں گے۔ یہ ایک تاریخی قیام ہوگا۔ جو یہاں کی پسماندگی دور ہونے کی علامت دیتا ہے۔ جہاں ایک طرف ترقی کو بڑھاوا دینے کے لئے ہسپتال ، سڑک، یونیورسٹی، کالج، مختلف شعبہ جات کاقیام ضروری سمجھا جاتا ہے اسی طرح ان اداروں سے ملنے والے حقوق کی تلفی کے لئے عدلیہ کا ہونا اشد ضروری ہے۔ اس مسئلے میں قانونی رہنمائی کی غرض سے میں ریاست جموں و کشمیر کے آئین کی دفعہ 101تہتی دفعہ 03پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جس میں کہ یہ درج ذیل ہیں۔
"Whenever it appears to the Chief Justice that it is desirable that the High Court should its sitting at place other then Srinagar and Jammu, One or more Judges of the High Court as determined by him shall, with the previous approval of the Governor, sit at such place"
یہاں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آئین بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جموں اور کشمیر کے علاوہ کسی اور دوسری جگہ بھی ہائی کورٹ بنچ کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں ایسی گیارہ ریاستیں ہیں جن میں کل 14ایڈیشنل ہائی کورٹ بنچ قیام پذیر ہیں۔ جیسے کہ راجستھان کے جے پور میں، اُتر پردیش کے لکھنؤ میں، مدھیہ پردیش کے گوالیر اور اندور میں، مہارشٹرا کے اورنگا آباد اور ناگپور میں، کرناٹک کے دھرواد اور گلبرگا میں، اروناچل پردیش کے ایٹانگر میںاور انڈومان اور نیکوبار کے پورٹ بلیر میں ، ناگا لینڈ کے کوہیمہ میں، میزورم کے ایذاول میں، گوا کے پنجی میں اور تامل ناڈو کے مدورئی میں۔ان میں سے کچھ ایسی ریاستیں ہیں جہاں دو دو بنچ قیام میں لائے گئے ہیں۔ جیسے کہ کرناٹکہ میں دھروار اور گلبرگہ، مدھیہ پردیش میں گوالیاراور اندور، اور مہاراشٹرا میں اورنگ آباد اور ناگپور۔ لہٰذا وقت کی ضرورت اور تقاضا کو سمجھتے ہوئے خطہ چناب کے لوگوں کا یہ مطالبہ ہے کہ یہاں پر بھی ایڈیشنل ہائی کورٹ بنچ کا قیام عمل میں لایا جاکر عوا م کو جلد انصاف فراہم ہو سکے۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ   سجاد احمد میر 
 
ایڈوکیٹ ڈسٹرکٹ کورٹ ڈوڈہ