تازہ ترین

سرکاری سکولوں کا خستہ حال بنیادی ڈھانچہ!،بائز ہائر سیکنڈری ہاری گنہ ون کنگن

عمارت تین برسوں میں ہی دم توڑ گئی، لوگ وزیر تعلیم سے فریادی

21 مارچ 2017 (00 : 02 AM)   
(      غلام نبی رینہ)

کنگن//شعبہ تعلیم میں بنیادی ڈھانچے کو استوار کئے جانے کے سرکاری دعوﺅں کی گنہ ون ہائیر سیکنڈری عمارت قلعی کھول رہی ہے جو اپنی تعمیر کے صرف تین برسوں کے اندر خستہ حال ہوچکی ہے اور اسکے درو دیوار کھنڈرات کا نظارہ پیش کررہے ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق عمارت میں بچوں کو رکھنا انتہائی خطرناک ہے لیکن سکول انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام اس جانب لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ 2013سے بائز ہائیر سیکنڈری سکول ہاری گنہ ون کیلئے استعمال کی گئی بلڈنگ نے تین سال کے اندر ہی دم توڑ دیا ہے اور بلڈنگ کی ہر دیوار میں شگافیںپڑ گئی ہیں ۔ 2012میں مذکورہ سکول کیلئے تعمیر کی گئی عمارت 3سال کے اندر ہی خستہ ہوگئی۔ سکول کو 60لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے جس میں 20فٹ لمبے اور 15فٹ چوڑے پانچ کلاس روم بھی شامل ہے جبکہ عمارت میں 22فٹ لمبے اور 25فٹ چوڑے تین بڑے کمرے بھی موجود ہیں مگر سکول کی تعمیر میں ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے تین سال کے اندر ہی دےواروں میں شگاف پیدا ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مختلف کلاسوں کے فرش سے ریت اور باجری باہر آنے لگی ہے جس سے سکول میں پڑے شگافوں میں اور اضافہ ہورہا ہے۔ سکولی طلباءنے بتایا کہ سکول میں شگافیں پڑنے کے علاوہ دیواروں اور فرش سے ریت باہر آرہی ہے ۔ سکول میں شگاف پڑنے کی جانکاری اعلیٰ آفیسران تک پہنچائی گئی تاہم کسی بھی آفیسر نے سکول تک آنا گنوارا نہیں کیا ۔ طالبہ نے بتایا” چیف ایجوکیشن آفیسر گاندربل نے سکول کا دورہ کیا تاہم انہوں نے سکول کی دوسری منزل پر جانے کی زحمت گوارا نہیں کی اور نہ ہی سکول میں طلبہ کو درپیش مشکلات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی کوئی کوشش کی ۔انہوںنے بتایا کہ سکول میں بچوں کے بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور قدیم زمانے کی طرح ہی انہیں سردی کے ایام میں ٹاٹ پر بیٹھنا پڑتا ہے۔ سکول میں زیر تعلیم طلبہ نے بتایا کہ سکول میں بچوں کی غیر حاضری کی بڑی وجہ سکول بلڈنگ میں شگاف ، سکول احاطے میں بجلی ٹرانسفارمر کی موجودگی اور سکول میں پانی اور بیت الخلا کی عدم دستیابی ہے۔ جبکہ سکول کی دیوار بندی کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے سکول احاطے میں دن بھر بچے کھیلتے رہتے ہیں جس سے تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ سکولی طلبہ نے بتایا” 7سال قبل تعمیر کی گئی سکول بلڈنگ بھی اب خستہ ہونے کو تیار ہے اور بلڈنگ سے چوروں نے دروازے اور کھڑکیاں بھی اڑا لیں ہےں مگر محکمہ تعلیم ابھی بھی خواب خرگوش میں ہی ہے۔ ہاری گنہ ون سکول کی حالت زار پر بات کرتے ہوئے چیف ایجوکیشن آفیسر گاندربل صنم قریشی نے بتایا ” ہاں میں سکول گئی تھی مگر سکول کی دوسری منزل میں نہیں گئی۔“ انہوں نے مزید کہا ” سکول میں تین سال کے اندر ہی شگافیں پڑیں ہیں مجھے پتہ ہی نہیں۔“ انہوں نے کہا کہ میں کل ہی انجینئروں اور پلانگ محکمہ سے جڑی ٹیم کو سکول کا معائنہ کرنے کیلئے بھیجوں گی اور سارے معاملے کی تحقیقات کراﺅں گی۔