تازہ ترین

غزلیات

16 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

  یوں زندگی کا ساتھ نبھانا پڑا مجھے
اُس کے لئے سب ہار ہی جانا پڑا مجھے
دردِ غمِ رقیب کو پالا تھا اِس طرح
دار و رسن سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے
یوں ماند پڑ گیا تھا ترے سامنے کہ پھر
جلتا ہوا چراغ بجھانا پڑا مجھے
تیغِ جفا کا وار لئے قلبِ زار پر
میزانِ عشق کیا ہے، بتانا پڑا مجھے
قطرہ لہو کا تھا جو دلِ داغ دار میں
مژگانِ چشمِ تر پہ سجانا پڑا مجھے
اپنوں سے دور تیرے جنوں نے جو کر دیا
غیروں کی سمت ہاتھ بڑھانا پڑا مجھے
دنیائے التفات میں نقوی ؔنہ پوچھیے
دھوکا ہر اک مقام پہ کھانا پڑا مجھے
 
ذوالفقار نقوی
سینئر لیکچرار ، مینڈر ، پونچھ ،9797580748
 
اہتمامِ رنگ و بوہے جابجا
کاشمر تیرا لہو ہے جابجا
بولتا شہرِ خموشاں دور تک
چاک میرا ہا و ہو ہے جابجا
دن تھکا ماندہ اُجالا ہار کے
رات محوِ گفتگو ہے جابجا
لغزشیں کیا قد سے بالا ہوگئیں
گردشِ وردِ عفو ہے جابجا
آنکھ میں منظر کوئی ٹھہرا نہیں
سو بہ سو ہے کوبکو ہے جابجا
آئنہ لیکر ہے بیٹھی حیرتی
انتہائے من کہ توہے جابجا
ظلمتوں کا توڑ کرنے کے لئے
رقصِ شمعِ آرزو ہے جابجا
کب تلک دل سے دھواں اٹھتا رہے
چاک ہے تن، بے رفو ہے جابجا
رقص کرتی ہیں جنوں کی مستیاں
دشت میں ہوں بادِ ہُو ہے جابجا
مسجدیں دل کی مقفل ہوگئیں
محفلِ جام و صبو ہے جا بجا
آؤ شیداؔ دشت میں سجدہ کریں
آنکھ میں تازہ وضو ہے جابجا
 
علی شیدّا 
(نجدون ) نپورہ،اسلام آباد کشمیر 
9419045987
 
اب مجھکو اس نگر میں بلانا فضول ہے
پھولوں سے رہگزر کو سجانا فضول ہے
شاید پلٹ کے آئیں پتنگے نہ اس طرف
بجھتے ہوئے چراغ جلانا فضول ہے
وہ ساتھ اپنے لے گیا رونق جہان کی
اب اس کے بعد سارا زمانہ فضول ہے
تم دل سے نفرتوں کو بھلاوء تو بات ہو
یوں رسم و رہ میں ہاتھ ملانا فضول ہے
اب ان دلوں کے پیچ کوئی ربط بھی نہیں
پوچھیں گے لوگ، بام پہ آنا فضول ہے
چہرہ جھلس گیا ہے جدائی کی دھوپ میں
آنگن میں اب کے پیڑ لگانا فضول ہے
اب یہ اثر کرے نہ کرے کچھ خبر نہیں
ساقی مجھے شراب پلانا فضول ہے
جاوید مجھ کو چین میسر نہیں رہا
ان گیسووں کے سائے سلانا فضول ہے
 
سردار جاوید خان
مینڈھر ، پونچھ
رابطہ۔ 9697440404
 
 
دردِ دل کی خبر نہیں ہوتی 
زندگی ہی اگر نہیں ہوتی
  رات ایسی ہوئی مسلّط ہے
اب بھی جس کی سحر نہیں ہوتی
آہ دل کو چبھن سی دیتی ہے
پار میرے جگر نہیں ہوتی
خاک روتی ہے ، منتظر اُن کی
کیوں روانۂ سفر نہیں ہوتی؟
 اس لیے ان کے ہیں نشاں باقی
سب پہ غاصب نظر نہیں ہوتی
زندگی کا قیام نا ممکن
آپ کے بِن بسر نہیں ہوتی
 چار سو گر ترا کرم ہے تو
کیوں عنایت اِدھر نہیں ہوتی
  سوختہ ہو کے کیا اسے حاصل
شمع پایۂ قمر نہیں ہوتی
حال سن کر بھی ٹال لیتے ہیں
جیسے ان کو خبر نہیں ہوتی
مدّعا تک نہیں پہنچ پاتے
گفتگو با اثر نہیں ہوتی
زندگی قید سی لگے ہم کو
زیر ہو کر زبر نہیں ہوتی!
 
مظفّرؔ منظور
 اسلام آباد کشمیر
( ریسرچ اسکالر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
 9906519996, muzaffar519@gmail.com