تازہ ترین

وادی میں شہری ہلاکتوں کیخلاف ہڑتال

شمال و جنوب میں زندگی متاثر، ریل سروس معطل، کچھ مقامات پر پتھرائو

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے شہری ہلاکتوں کے خلاف دی گئی ہڑتال کے پیش نظر وادی میں مکمل بند رہا۔ہڑتال سے سرینگر کے علاوہ وادی کے دیگر اضلاع اور تحاصیل صدر مقامات میں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک،تعلیمی ادارے او رنیم سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی متاثر رہا۔ تجا رتی مرکز اور شہر کے دیگر سیول لائنز علاقوں میں اس صورتحا ل کا کافی اثر دیکھنے کو ملا۔ پائین شہر میںہوکا عالم چھایا رہا ۔جنوبی کشمیر میں بھی مکمل ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق کولگام میں مثالی ہڑتال ہوئی،جس کے دوران بازاروں میں الو بولتے نظر آئے،جبکہ دکان اور تجارتی کمپلیکس مقفل رہے۔دمحال ہانجی پورہ،یاری پورہ،دیوسر،قاضی گنڈ،فرصل،پہلو،کھڈونی،ریڈونی اور کیموہ سمیت دیگر علاقوں میں سیول کرفیو جیسا سماں تھا،اور نجی گاڑیاں بھی سڑکوں سے دور تھیں۔اسلام آباد(اننت ناگ) سے نامہ نگار ملک عبدالسلام نے بتایا کہ ضلع کے بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل، سری گفوارہ،دیالگام،مٹن،سیر ہمدان،کوکر ناگ،وائل سمیت دیگر علاقوں میں ہمہ گیر ہڑتال دیکھنے کو ملی۔عارف بلوچ کے مطابق قاضی گنڈ میں مشتعل نوجوانوں نے شاہراہ پر چل رہی گاڑیوں پر سنگ باری کی جس کے سبب کئی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور ہوئے ۔ڈورو ،کوکر ناگ اور ویری ناگ میں بھی ہڑتال کے سبب معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ،اس بیچ ضلع میں 4روز کے بعد 2Gموبائیل انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی ہے ۔شاہد ٹاک کے مطابق شوپیاں کے علاوہ وچی،امام صاحب، اور پلوامہ میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے زندگی کی رفتار تھم گئی ۔پلوامہ میں سختی کیساتھ غیر اعلانیہ کرفیو نامز کیا گیا اور قصبے میں کسی کو بھی اندر اور باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔سکٹ ترین بندشوں کی وجہ سے قصبے اور ملحقہ علاقوں میں ہر طرح کی آمد و رفت متاثر رہی۔ بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال کا سماں نظر آیا جس کے دوران معروف و مصروف بازار صحرائی منظر پیش کر رہے تھے۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈی پورہ ضلع بھر میں مکمل طور پر ہڑتال رہی ۔ دفتروں میں حاضری بہت کم رہی البتہ اکا دکا چھوٹی  پرائیویٹ گاڑیاں چلتی رہیں ۔ اجس، حاجن، نائدکھے، صدر کوٹ، پتوشے ،بانڈی پورہ بازار، نسو، پاپچھن، کلوسہ، وٹہ پورہ ،آلوسہ، اشٹنگو اور کہنو سہ میں بھی پرامن بند رہا ۔بارہمولہ اور کپوارہ میں ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی پوری طرح سے مفلوج رہا جس کے دوران تمام کاروباری اور عوامی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان اضلاع میں داخلی اور خارجی راستوں کو بند کیا گیا تھا۔ہڑتال کے پیش نظر انتظامیہ نے مزاحمتی لیڈراں کو خانہ و تھانہ نظر بند رکھا۔ حریت کانفرنس(گ) کے سربراہ سید علی گیلانی اپنی حیدر پورہ رہائش گاہ پر ہنوز نظر بند رہے،جبکہ میر واعظ عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی بھی خانہ نظر بند رہے۔  ہڑتال اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں بانہال سے بارہمولہ تک چلنی والی ریل سروس بند رہی۔ بڈگام کے بیروہ علاقے میں نوجوانوں نے سو موسٹینڈ کے نزدیک سڑکوں پر ٹائر جلائے تھے،جبکہ فوج پر بھی معمولی سنگبازی کی،تاہم فوج نے کوئی بھی جوابی کارروائی نہیں کی۔