تازہ ترین

میمندر شوپیان میں قیامت خیز واقعہ

بارودی گولہ پھٹنے سے کمسن جاں بحق، بھائی بہن سمیت4 بچے شدیدزخمی

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہد ٹاک
 شوپیان//میمندر شوپیان میں بدھ کو قیامت صغریٰ بپا ہوئی ،جب ایک بارودی گولہ پھٹنے سے 8سالہ کمسن جاں بحق اورکمسن بھائی بہن سمیت4دیگر شدید زخمی ہوئے ۔یہ افسوسناک واقعہ کمبدلن شوپیان کی معرکہ آرائی کے مقام سے کچھ دُوری پر پیش آیا ۔میمندر شوپیان میں بدھ کو  بچے عبدالغنی کے صحن میں کھیل رہے تھے جس کے بعد اچانک دھماکہ ہواجسکی آہنی ریزوں کی زد میں آکر5کمسن بچے شدید زخمی ہوئے ۔ پورے علاقے میں افرا تفری پھیل گئی اور لوگوں کا ہجوم جائے وقوع پر پہنچ گیا۔ بچوں کو خون میں لت پت دیکھ کر لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے زخمی بچوں کو ضلع اسپتال شوپیان پہنچا یا ،جہاں 8سالہ سالک اقبال ولد محمد اقبال شیخ ساکن شیخ  زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔دیگر چار زخمی بچوں کو بہتر علاج ومعالجہ کی خا طر سرینگر منتقل کیا گیا ۔طاہر خورشید اوررضیہ خورشید پسران خورشید احمد ،ارسلان ولد محمد اسلم اور صہیب احمد ولدشبیر احمد زخمی ہوئے۔چیف میڈیکل افسر شوپیان ڈاکٹر عبدالرشید نے بتایا کہ بچے شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچا ئے گئے جن میں سے ایک جانبر نہ ہوسکا ۔جونہی کمسن بچے کی نعش آبائی گائوں پہنچائی گئی ،تو وہاں کہرام اور صف ماتم بچھ گئی ۔بعد ازاں معصوم کو آہوں ،سسکوں اور پُرنم آنکھوں کے ساتھ سپرد لحد کیا گیا ،جس دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔معلوم ہوا ہے کہ دو بچوں کی حالت بہت غیر ہے جبکہ ایک کی ٹانگ کاٹ دی گئی ہے۔
 
 

بم کہاں سے پھینکا گیا؟

والدین کا سوال

پرویز احمد 
 
سرینگر // میمندر گائوں میں ہوئے المناک حادثے کے بارے میں زخمی ہونے والے بچوں کے والدین نے الزام عائد کیا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے جان بوجھ کر بچوں کو بم نشانہ بنایا ہے وہیں اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشتبہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 4بچوں میں سے 3کی جراحیاں عمل میں لائی گئیں اور تینوں بچوں کی حالت مستحکم ہے۔ عبدالغنی شیخ کے کنبے کے پانچ بچے زخمی ہوگئے جن میں 8  سالہ سالک اقبال ولد محمد اقبال زخمیوں کی تاب نہ لاکر ضلع اسپتال شوپیاں میں دم توڑ بیٹھا ۔ سرینگر منتقل کئے گئے زخمی بچوں میں 9سالہ رضیہ جان، 11سالہ ارسلان احمد ، 12سالہ صہیب اور 10سالہ طاہر احمد شامل ہیں۔ شیخ کنبہ کے صحن میں پیش آئے واقعے کے بارے میں 11سالہ ارسلان احمد کی ماں امینہ نے بتایا’’ قریب ساڑھے بارہ بجے میں کچن  میںگئی اور ارسلان کو کھانہ کھانے کیلئے بھی پکارا مگر وہ کچن میں آنے کے بجائے صحن میں دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہا  تھا، عین اسی وقت ایک زور دار دھماکہ ہوا‘‘ ۔امینہ نے بتایا ’’ میں سینہ کوبی کرتے ہوئے باہر آئی تو تمام بچوں کو خون میں لت پت زمین پر دیکھا اوربچے چیخ و پکار کررہے تھے جبکہ دھماکے کی وجہ سے چاروں طرح اندھیرا چھایا چھا گیاتھا‘‘ ۔امینہ نے بتایا کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اسوقت بھی علاقے میں سیکورٹی اہلکاروں کی ایک گشتی پارٹی موجود تھی۔ سیکورٹی اہلکاروں پر بچوں پر بم پھینکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ارسلان احمد نے ماموں  محمد اشرف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’میں اس واقعہ کا چم و دید گواہ ہوں کیونکہ میں آنگن میں ہی موجود تھا ۔‘‘