تازہ ترین

معاملہ 35 اےکے دفاع کا ، مشترکہ مزاحمتی قیادت کے اہتمام سے احتجاجی مظاہرے

تنسیخ کی کوئی بھی کوشش عوامی ایجی ٹیشن کا باعث بنے گی:یاسین ملک

11 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: مبشرخان    )

بلال فرقانی
سرینگر//مزاحمتی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ دفعہ 35 اے کادفاع اور حفاظت کیلئے تمام فریقین سے مشاورت کے بعد احتجاجی کلینڈر جاری کریں گی،جبکہ سرینگر کے شہر خاص،لالچوک اور حیدر پورہ میں مشترکہ مزاحمتی قیادت نے پشتنی باشندگی سے متعلق قانون کے تحفظ کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے جمعہ کو نماز کے بعد سرینگر کی حمزہ مسجد سے لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کی قیادت میں احتجاجی جلوس برآمد کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین نے35ائے قانون کے تحت جموں کشمیر میں نافذ اسٹیٹ سبجکٹ قانون کی مجوزہ منسوخی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ احتجاجی مظاہرے میں فرنٹ لیڈران اور تاجروں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ زندگی کے کئی دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر حمزہ مسجد سے لال چوک پل(امیراکدل) تک جلوس برآمد کیا گیا،جس میں شرکاء نے اسلام و آزادی کے علاوہ 35ائے کے حق میں نعرہ بازی کی۔امیرا کدل سے متصل پارک میں موجود مظاہرین جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں  پشتنی باشندے قانون کی مجوزہ منسوخی کے خلاف نیز آزادی کے حق میں پلے کارڈ اُٹھائے تھے اور جو فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔اس مو قعہ پر محمد یاسین ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ سے کوئی بھی ایسا فیصلہ آیا جس سے کشمیریوں کی شناخت مجروح ہوتی ہو یا جو کشمیریوں کے جذبات و احساسات کے منافی ہو تو سارا کشمیر سڑکوں پر آکر اس کے خلاف صف آرا ہوجائے گا اوراپنے موروثی اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے دفاع کیلئے اپنا لہو بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ملک نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت تمام فریقین کے ساتھ مشاورت کر کے احتجاجی کلینڈر کو جاری کرے گی،تاکہ 35ائے کا دفاع کیا جائے۔اس دوران شہر خاص کی جامع مسجد میں بھی نماز جمعہ کے بعد 35 کے حق اور دفاع میں احتجاجی مظاہرہ برآمد کیا گیا۔احتجاجی مظاہرین نے بینئر ہاتھوں میں لئے تھے،جن پر’’ہم35ائے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کریں گے،جموں کشمیر کی ہیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اجازت نہیں دینگے‘‘ کے نعرے درج تھے۔احتجاجی مظاہرین نے جامع مسجد کے صدر دروازے تک جلوس برآمد کیا،جس کے بعد وہ منتشر ہوئے۔اس سے قبل میر واعظ عمر فاروق نے کہا ’’مشترکہ مزاحمتی قیادت ترجیحی بنیادوں پر اس مسئلہ پر صلاح مشورہ کر رہی ہے اور سماج کے تمام طبقوں کو ساتھ لیکر اس جارحیت کیخلاف ایک ہمہ گیر عوامی احتجاج شروع کیا جائیگا‘‘۔ادھر حریت(گ) کی طرف سے جمعہ کو حید ر پورہ جامع مسجد کے باہر35ائے کے معاملے پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی مظاہرئے میں حریت(گ) کے سیکریٹری رابطہ عامہ مولوی بشیر احمد عرفانی، نثار حسین راتھر، محمد یوسف نقاش، بلال صدیقی، حکیم عبدالرشید، خواجہ فردوس وانی، سید محمد شفیع، سید امتیاز حیدر، حاجی قدوس،شکیل احمد بٹ، عمران احمد بٹ، عبدالرشید ڈار، محمد حنیف ڈار، محمد شفیع پیر، عبدالحمید اِلٰہی اور ارشد حسین بٹ کے علاوہ دیگر لوگوںنے حصہ لیا۔احتجاجی مطاہرین نے بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے،جن پر آرٹیکل35ائے کی دفاع میں نعرے درج تھے۔اس موقعہ پر بشیر احمد عرفانی کہا کہ ایک مضبوط ومربوط عوامی اتحاد کے ساتھ ہر سطح پر مزاحمت اور مدافعت کرنے کی وعدہ بند ہے اور عوام کو اس ضمن میں نااُمید ہونے نہیں دیں گے۔اس دوران بعد میں شہر خاص کے کئی علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے،جس کے دوران سنگبازی اور ٹیر گیس شلنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے۔
 
 

 پشتنی باشندگی قانون کو تبدیل کرنا عدالت کے اختیار میں نہیں:میرواعظ

 سرینگر//حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے واضح کیا ہے کہ’’ کسی عدالت کویہ اختیارحاصل نہیں ہے کہ 1927 کے پشتینی سٹیٹ سبجیکٹ قانون میں کوئی تبدیلی لاسکے‘‘جبکہ انہوں نے نئی دہلی کی متواتر حکومتوں پر’’ عارضی الحاق‘‘ کے شرائط کی مسلسل خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کے دوران حریت(ع) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے نے کہا کہ جموں کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور یہاں کے عوام کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر اس تنازعہ کی ہیئت کو اس کے حتمی حل تک تبدیل یا مسخ کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔انہوں نے کہا ’’ کسی عدالت کویہ اختیارحاصل نہیں ہے کہ 1927 کے پشتینی سٹیٹ سبجیکٹ قانون میں کوئی تبدیلی لاسکے کونکہ اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ صرف جموں کشمیر کے باشندے بحیثیت ایک قوم کے بذریعہ حق خود ارادیت اپنے مستقبل کاتعین کرسکتے ہیں اور جموں کشمیر کے باشندوں نے ہنوز اس حق کا استعمال نہیں کیا ہے‘‘۔ میرواعظ نے سوالیہ انداز میںپوچھا’’ ایسے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور حکومت ہندوستان کی طرف سے کئے گئے وعدے جس کو اس کی عمل درآمد تک ایک آئینی تحفظ کی شکل دی گئی کوئی عدالت کیسے تبدیل کرسکتی ہے؟ ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ سبجیکٹ قانون کیساتھ کھلواڑ ریاست کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کر کے یہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسا کرریاست کے پشتینی باشندوں کواقلیت میں تبدیل کرکے بنیادی مسئلے کی ہیئیت کو بگاڑنے کی نیت سے کیا جارہا ہے جیسا کہ اسرائیل نے فلسطین میں کیاہے۔ حریت(ع) چیئرمین نے مین اسٹریم لیڈروں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ7دہایوں سے’’مشروط الحاق‘‘ کے دوران گفت و شنید میں طے شدہ شرائط کے خاتمے کیلئے تیار کردہ اوزاروں کا کام کیا۔میرواعظ نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کے مفادات اور تنازعہ کی بنیادی ہیت کے تحفظ کیلئے کوئی بھی ممکنہ اقدام کرنے سے گریز نہیںکیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹی سی قوم جو ایک انتہائی طاقتور مد مقابل کے سامنے اپنے حق کے حصول کیلئے ڈٹی ہوئی ہے ،کی بے مثال اور بے انتہا قربانیاںاس قوم کے عزم واستقلال اور ہمت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں۔