تازہ ترین

سوچتاتھا کیا؟ کیا ہوگیا؟

افسانہ

16 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

فیاض حمیدؔ
 
یونیورسٹی سے بی ۔فارمیسی کرنے کے بعد تینوں دوست اس قدر خوش تھے کہ پھولے نہیں سماء رہے تھے۔شاید اب اُن کو اپنی منزل صاف صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ان میں سے ایک لمبے قد کا تھا جو باتوں سے شریف اور دل سے نرم لگ رہا تھا ۔یہ دونوں اس کو ’راج‘ کے نام سے پکارتے تھے ۔ایک عینک والاپتلا لڑکا تھا، جس کا نام ’رام ‘تھا اور تیسرا لمبی لمبی مونچھوں والا ’شام ‘تھا۔تینوں کی دوستی کافی گہری تھی اور تینوں سول سروس کی تیاری کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔اور ایک دوسرے سے گفتگو میں مصروف تھے۔
راج   ...... میں آج بہت خوش ہوں کم سے کم بی ۔فارمیسی ہوہی گیا۔اب تو نوکری پکی ہے۔
شام   ...   ہاں سارے ہندوستان میں خالی ہم تین ہی تو ہیں جنہوں نے بی۔فارمیسی کیا ہے جو نوکری پکی۔!
 رام   ....  ہاں یار، لڑکے تو بہت ہیں لہٰذا ہمیں کسی اور امتحان کی بھی تیاری کرنی چاہیں۔
شام.... کسی مسابقتی امتحان (Competative Eaxm )کی۔
راج  ...  صحیح بولا تم دونوں نے ۔
رام  ....  اچھا ہے، جس کو جو کرنا ہے کرو،میں اس کے ساتھ ساتھ ایم ۔فارمیسی کے لئے بھی تیاری کر رہا ہوں۔
راج  ....  بڑے کمینے ہو ہمیں بتایا تک نہیں۔
رام  ... آپ بھی کرو۔ کل فارم اکٹھے جمع کراتے ہیں۔
شام ... ہاں سال بھی ضایع نہیں ہوگا اور سول سروس کی تیاری بھی ہوگی۔
راج  .....  ٹھیک ہے کل فارم جمع کرائینگے۔
تینوں نے ایم ۔فارمیسی کے لئے فارم جمع کرائے ۔اور خوش قسمتی سے تینوں کا سلیکشن بھی ہوگیا۔ہوسٹل میں رہنے کے بجائے کرائے کے مکان میں رہنے لگے ۔شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہوسٹل میں پابندیاں زیادہ تھیں جویہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔لہذا انہوں نے یونیورسٹی سے تھوڑے فاصلے پر ہی مکان لے لیا۔ہر روز یونیورسٹی پیدل آتے تھے اور یہاں کا ماحول بھی کافی اچھا تھا۔ بہت جلدی یہ اپنے نئے کلاس میٹوں کے ساتھ گھل مل گئے۔دن بھر کی تھکان اور ساتھ میں اتنی گرمی سے انِ کی حالت ناگفتہ بہ ہوجاتی تھی اورہر روز پیدل چلنا دقت ہوگیا تھا۔ایک دن ’راج‘ تنگ آکرکہنے لگا  .....کیوں نہ ہم ایک گاڑی لے لیں۔   
رام    .........   ہاں کیوں نہیں۔
شام    .....  میرے گھر میں ہے، میں اُسی کو لاتا ہوں۔
راج    ..........  چھ مہینوں سے تو تم صرف کہتے ہو، لاتے نہیں ۔
رام  .............  کیوں نہ ایک سکینڈ ہینڈ گاڑی یہاں سے ہی خرید لیں 
راج  .....  ہاں پیسے آنے دو ۔اب لاتے ہے
شام  ....... کلاس کی لڑکیاں دوسروں کی گاڑی چلاتے دیکھ کر کہتی ہیں کہ کب لی گاڑی اور میرا سر شرم سے ُجھک جاتا ہے۔
 راج... ارے مجھے تو میڈم اور سر لوگوں نے پوچھتے پوچھتے پریشان کیا ہے
رام ....  مجھے نیہا ہمیشہ بولتی ہے کہ کب گاڑی کب لو گے؟کب ہم گھومنے جائیں گے؟میں ہمیشہ چُپ رہتا ہوں۔
راج  ......  بس اس کا ایک ہی حل ہے کہ ہم اب گاڑی لے ہی لیں۔
ؔ’’کیا باتیں چل رہی ہیں 3 idiots میں‘‘۔۔انہوں نے سر اُٹھا کر دیکھا تو اُنکا دوست بوپی پوچھ رہا تھا۔
راج ...... کچھ نہیں بس ایک گاڑی لینے کی سوچ رہے تھے۔
بوپی .....  بس یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ سمجھو گاڑی مل گئی۔
راج  ......کل پیسے آئیں گے شاید، کل شام کو لیتے ہیں…
رام  ................  بائیں ہاتھ کا کھیل کیسے بوپی؟
بوپی  ............   ارے میراسارا خاندان گاڑیوں کا ہی کاربار کرتا ہے ۔مارکیٹ سے کم پیسوںمیں مل جائے گی آپ کو۔جیسی بھی چاہئے ویسی ملے گی ۔
شام    ........کل پیسے دے دیتے ہیں ہم تم کو۔
بوپی ...... ہاں دن میں ہی دے دینا میں ،شام کو گاڑی لے آتا ہوں۔
راج    ....ہاں ٹھیک ہے۔
بوپی  ....... اچھا میں چلتا ہوں good night  ،کل ملتے ہیں ۔
تینوںآپس میں باتیں کرنے لگے کہ وہ بوپی کو کتنا غلط سمجھتے تھے اور یہ ان کے لئے کتنا فکر مند ہے۔ تینوں نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور سوگئے۔ صبح سویرے اُٹھے تو تینوں کے چہروں پر الگ سی چمک نظر آرہی تھی ۔ناشتہ وغیرہ کرکے وہ تینوں ۰۱ بجے یونیورسٹی کی طرف جانے لگے۔
راج  ........   آج آخری دن ہے ہمارے پیدل چلنے کا۔
رام   ......... ہاں بات صحیح ہے، پیسے آئے ہونے چاہے!
شام   .......... آئے ہوںگے مجھے یقین ہے۔
رام  .........  چلوراج پہلے اکاونٹ چیک کرکے تو دیکھو آئے ہیں کہ نہیں۔
راج........ ہاں آئے ہے ۔
شام    ........ چلو پھر بوپی کے پاس ہی جاتے ہیں۔
  رام ........... ہاں اب آج کلاس کیا دینی ۔کل سر پرایز دیتے ہیں سب کو ۔
راج ........ اچھا ٹھیک ہے چلو نکلتے ہیں ۔رام تم بوپی کو فون کرو کمر ے پر پہنچنے کے لئے جلدی ۔
رام   ....... ٹھیک ہے 
  کمرے پر پہنچے تو دیکھا بوپی آیا ہوا ہے۔تینوں نے اُس کو پیسے دے دئیے اور بوپی گاڑی لینے کے لئے چلا گیا ۔دوپہر ہوگئی لیکن بوپی آیا نہیں، شام اور شام سے رات بھی ہوگئی لیکن بوپی کا کہیں کچھ اتہ پتا نہیں ۔بوپی کو فون لگاتے تو وہ بس ایک ہی بات کہہ کر کاٹ دیتا تھا کہ ابھی آرہا ہوں۔آخرر رات کے دس بجے انِ کا انتظار ختم ہوگیا ۔جب بوپی نے انِ کو گاڑی کی چابی دے دی۔
رام   ...........  شکریہ تیرا دوست ۔
بوپی .........  اس میں شکریہ کی کیا بات ہے۔ دوست دوست کے کام نہ آئے تو پھر کس کام کا۔ابھی میں جا رہا ہوں پھر ملتے ہیں۔
تینوں گاڑی کو دیکھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔رات کا کھانا اُن سے خوشی کی وجہ سے کھایا نہیں گیا۔ بتی بند ہوئی تو تینوں اپنے اپنے بستروں پر آدھی رات تک کروٹیںبدل رہیں تھے۔تینوں اندر ہی اندردل میں کل کے لئے کچھplan بنا رہے تھے کہ کل یہاں جائیں گے، وہاںجائیںگے، جس کی وجہ سے دیر رات تک نیندنہیں آئی۔
     صبح ابھی سورج کی کرنیں پوری طرح پھوٹی بھی نہیں تھی کہ ان کے دروازہ پر زور زرور سے دستک ہورہی تھی ۔مشکل سے راج کی نیند کھل گئی۔اور اُس نے شام اور رام کو بھی جگایا ۔دروازہ کھولا تو دیکھا چاروں طرف پولیس ہی پولیس تھی۔پولیس آفسر ان سے مخاطب ہو کر بولا’’ارے چورو! رات میں آپ کا گروپ پکڑا گیا ۔اور کتنے لوگ شامل ہو یہ گاڑیاں چرانے میں۔کہاں کہاں گاڑیاں چھپا رکھی ہیں آتم لوگوں نے ۔لے چلو انھیں پولیس اسٹیشن،انہیں پتہ تھا کہ یہ پکڑے نہیں جائیںگیں ۔۔۔
 
ریسرچ سکالر شعبہ ارد ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنڑل یونیورسٹی 
ایم۔پی phdfayaz@gmail.com