تازہ ترین

غزل

16 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

 مسافروں کو بچھڑنے کا ڈر نہیں ہوتا
شریکِ راہ شریک سفر نہیں ہوتا
بسا ہے وہ مری آنکھوں میںصرف ضد کے لیے
کسی نے کہہ دیا پانی میں گھر نہیں ہوتا
 کہاں وہ دور کہ تم سے ہی میری دنیا تھی
اور آج پا کے تمہیں بھی گزر نہیں ہوتا
لحاظ رکھتا ہوں احباب کا بڑی حد تک
میں ان کی سازشوں سے بے خبر نہیں ہوتا
وہ دور جائے تو اس کی کمی سی لگتی ہے
جوپاس رہ کے بھی مد نظر نہیں ہوتا
قبول ہوتی گئیں بددعائیں لوگوں کی
مری دعاء میں بھی لیکن اثر نہیں ہوتا
مراوجود تو بے برگ و شاخ سا بلراجؔ
شجر ہے وہ جو کبھی با ثمر نہیں ہوتا
بچاؤں سر کو یا دستار کو یہاں بلراجؔ
نہ ہوتا سر ہی تو یہ دردِ سر نہیں ہوتا
 
بلراجؔ بخشی
عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی، اُدہم پور-09419339303