تازہ ترین

امدادو راحت کاری پر بھی گرفت!

کیوں خیر کے در پہ قفل لگے

16 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      میر سہیل قیوم۔۔۔میر آباد بٹہ مالو)

 جنت بے نظیر کشمیر میں رہنے والے لوگوں میں لاکھ کمیاں ، خامیاں ، کوتاہیاں سہی ، مگر ایک چیز میں شاید ہی دنیا کی کوئی قوم اس کی ہم سری کا دعویٰ کر سکتی ہے، وہ یہ کہ اس کے رگ  ریشے میں انسانی ہمدردی کا بے پناہ جذبہ  موجود ہے ۔ دوسال پہلے سیلاب کے دوران اور اب وادی میں جاری مزاحمتی تحریک کے آغاز سے ہی وادی میں بالخصوص جہاں ہر علاقے میں دل درد مندرکھنے والے عوام نے اقتصادی ابتری کے شکار اپنے گردوپیش میں رہنے والے مفلوک الحال بھائیوں کی امداد و نصرت کا بیڑہ اُٹھایا وہاں جو رو ظلم کے ان کرب ناک ایام سے گذرتے ہوئے کئی مقتدر فلاحی تنظیموں اور NGO's نے مختلف ہسپتالوں بالخصوص سرینگر کے صدر ہسپتال میںامدادی کیمپ لگا کر مریضوں ، مجروحین اور ان کے تیمار داروں کی بہر نوع خدمت کا بیڑہ اُٹھایا ۔کسی نے خوردونوش کا بندوبست کیا اور کوئی مشروبات وغیرہ کے کام میں جٹارہا، سب سے زیادہ اہم ترین ذمہ داری اُن کیمپوں نے انجام دی جنہوں نے اپنے کاؤنٹروں پر وافر مقدار میں مختلف ادویات اور لائف سیونگ ڈرگس رکھ کر ان کی مفت تقسیم کاری کا کام انجام دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ سارا کام انتہائی صبر آزما اور کٹھن تھا لیکن جہاں شب و روزان کیمپوں میں کام کرنے والے تازہ دم رضاکاروں کی خدمات تاریخ کا ایک لازوال حصہ بن چکی ہیں، وہاں وادی کے زندہ دل عوام نے بھی ان کیمپوں کو مربوط اور مضبوط انداز میں چلانے کے لئے اپنی ملی دینی اور قومی ذمہ داری کو سمجھ لیا اور کسی نے اپنی تجوری کو وا کرکے وسعت قلبی سے دست تعاون بڑھایا اور کسی نے پیٹ پر پتھرباندھ کر ان متاثرین و مستحقین کی امداد کے لئے مقدور بھر امداد کرکے ایثار و انفاق کی زندہ جاوید مثالیں قائم کیں۔ صدر ہسپتال میں قائم ان کیمپوں کو دیکھنے کے لئے نہ صرف ستم رسید گان آتے تھے بلکہ اپنی خدمات کو بھی قبولنے کے لئے مُصِر رہا کرتے تھے انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت کیا جانے والا یہ کام اپنی ہر لحاظ سے منفرد اور جدا گانہ اہمیت رکھتا تھا اور نہ صرف ریاست بھر کے عوام نے بلکہ بیرون ریاست کے اہل فہم و دانش سِول سوسائٹیوں اور غیر جانبدار صحافی حلقوں نے اس کی خوب ستائش کی اور ساتھ میں یہ بھی کہا لکھا کہ توپ و تفنگ کی قہر مانیوں کے بیچ اہل کشمیر کایہ ایثار زندہ دلی اور انسانیت کے حوالہ سے اُن کی یہ خدمات اس بات کا بر ملا ثبوت ہے کہ ایسی اقوام کو ہرانا یا زیر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ اُنہوں نے بچشم سر دیکھ لیا کہ خون میں غلظاںزخمیوں کراہتے مریضوں اور لاچار بیماروں کی آہ و بکا اور چیخ و پکار کے بیچ اِ ن کیمپوں کی امدادی کاروائیاں اپنی جگہ بے مثال ضرورلیکن اس سے بڑھکر یہ کہ دلوں کو دہلانے والے مناظر اور نوجوانوں کی لاشیں اُٹھاتے اُٹھاتے بھی ان کیمپوں میں کام کرنے والے نوجوانوں کے پائے ثبات میں کوئی ڈگمگاہٹ پیدنہ ا ہوئی۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ پتھر دل تھے چشم فلک نے دیکھ لیا کہ پیلٹ اور بلٹ کے شکار پیروجواں کی دل دوز آہیں جہاں چٹانوں کا سینہ بھی شق کئے دے رہی تھیں وہاں ان رضاکار نوجوانوں کی آنکھوں سے جاری آنسوں کا سیل رواں دیکھ کر اندازہ لگانا چنداں مشکل نہ تھا کہ یہ جگر فراش مناظر اُن کے دلوں کو بھی کس قدر تہہ و بالا کئے دیتے ہیں لیکن صبر و ثبات کے پیکر بن کر جہاں یہ لاشوں کو کاندھا دیتے رہے وہاں نیم جاں زخمیوں کی چیخ و پکار کے بیچ انہیں ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں تسلی و تشفی بھی قرآن و سنت کی روشنی میں دینا ۔ ان کی دین فہمی کابین ثبوت تھا۔ اور کئی بار ایسا بھی دیکھا گیا۔ کہ ان امدادی خدمات کے دوران اپنے وجود تک سے بے خبر دیکھے گئے کہ یاد ہی نہیں کہ اُنہوں نے کچھ کھایا پیا بھی ہے کہ نہیں۔ اُدھر صورہ ہسپتال میں دیکھتے کہ پر عزم نوجوان کس طرح دنوں اور راتوں کو ایک کرکے ہزاروں لوگوں کے خوردونوش کا بندوبست تسلسل سے کرتے آرہے ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس عمل کے دوران بھی اُنہیں’’خدا پنج انگشت یکسان نہ کرد‘‘ کے مصداق کچھ اس مزاج کے لوگوں سے بھی پالا پڑا جو بجائے ان خدمات کو سراہتے اُلٹے ان کے گلے بھی پڑجاتے مگر عینی شاہدین کے مطابق یہ نوجوان نہ صرف یہ کہ برافروختہ یا چین بہ جبین نہ ہوتے تھے بلکہ مدبرانہ فراست کامظاہرہ کرتے ہوئے ایسے لوگوں کے بغل گیر ہوکر اُن کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے۔ دواؤں کی تقسیم کاری کے دوران بھی اگر کوئی دوائی کاونٹر سے نہ مل جاتی تو کچھ لوگ اس پر بھی سراپا احتجاج بن جاتے اور پھر دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ایسے افراد کو بھی کاونٹر پر تھوڑی دیر انتظار کرنے کی صلاح دیتے ہوئے یہ دوائی خود باہر سے خرید کرلائے ہوئے اسے فراہم کرتے ۔ غرض ان رضاکاروں کی ہر داد دل فریب اور ہر کام دیدہ زیب تھا اس سارے کام کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہ اندازہ لگانے میں چند اں دشواری بھی نہ تھی کہ جس معاشرے کے نوجوان اس قدر جسورو غیور ہوں اس کا مستقبل ضرور تابناک ہوگا۔ اُس کے بارے میں خوب کہا گیا ہے    ؎
اخلاص و وفا کی چنگاری جس دل میں فروزاں ہوتی ہے
اُس لب کاتبسم موتی ہے اُس آنکھ کا آنسو ہیرا ہے
یقینا ہماری یہ خدمات انسانیت کے ساتھ ہماری محبت اور خالق کی رضاکی آئینہ دار تھیں اس لئے ان عزیزوں کو کل داور محشر کی عدالت میں ضرور نمایاں اور خاص اعزاز سے نوازا جائے گاکیونکہ ’’احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے‘‘ کی قرآنی تسلی و تشفی کے بغیر اور کوئی ضمانت امن و راحت اور کلید جنت نہیں ۔ بہر حال یہ کیمپ پوری سرگرمی سے ہمہ تن مصروف خدمت انسانیت تھے ۔ لیکن بات ناقبل فہم ہے کہ حکمرانوں کو ان سے کون سی پریشانی لاحق تھی اور آئے روز انہیں تنگ و ہراساں کرنے کے حربے آزمائے جارہے تھے۔ اُدھر ہسپتال کے ذِمہ دار چیخ چیخ کے کہہ رہے تھے کہ یہ کیمپ اور رضاکار یہاں نہ ہوں تو وہ کسی طور مجروحوں ، مضروبوں اور مریضوں کی اس انداز میں خدمت نہیں کرسکتے ان کے آرام کا خیال نہیں رکھ سکتے انہیں دوائیاں فراہم کرنے کی بات تو دوررہے ان کیمپوں کی Ambulance Service نے بھی خوب کام کیا اور سربکف ہو کر اس کے عملے نے حملوں تک کا مقابلہ کرتے ہوئے انسانیت کی بے لوث خدمت کے ریکارڈ قائم کئے جس کا اعتراف ہسپتا ل کے اعلیٰ ترین ذمہ داروں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے سامنے کیا ، عوام اس کے حق میں رطب اللسان رہے لیکن حکمرانوں کو جانے ابتداء سے ہی کیا سوجھی کہ ان فلاحی اداروں اور NGO's پر شکنجہ کسنا ان کی ترجیحات میں شامل رہا ایسی کئی کوششوں کو ناکام تو بنادیا گیا  لیکن 2؍اکتوبر؍2016ء کی شام کو پولیس اور انتظامیہ کی ایک فوج ظفر موج نے صدر ہسپتال مین آکر ذمہ دارانِ کیمپ ہا کو گھر کا راستہ دکھایا اور یوں خدمت انسانیت کرنے کا جو بیڑہ اس قوم نے اُٹھایا تھا ارباب بست وکشاتے بساط بھی اُلٹ دی۔کون یہ تاریںہلارہا ہے کیا مقصد ہے ان اقدامات کے پیچھے اور کیا حاصل کیا جاسکتا ہے اس عمل سے ، ایسا کرکے کس کو راضی کرنا مقصود ہے اور ان کیمپوں کو وہاں بے بس لوگوں کی خدمت کے لئے کام کئے دینے سے کون سے مسائل پیدا ہوتے تھے اوراب انہیں بند کرکے کیاوہ حل ہوئے ؟یہ اور اس جیسے سوالات و خیالات کا ایک ہجوم ہر شخص کے شاہراہِ ذہن پر کھڑے جواب مانگ رہے ہیں۔ ظاہر ہے جس سے سوال پوچھے جارہے ہیں اُس کے پاس کوئی تسلی بخش جواب ہے نہ فرصت ۔ لیکن یہ قوم ِ چرب دست و تردِماغ بخوبی جانتی ہے یہ تاریںہل کیوں رہی ہیں اور ہلاکون رہا ہے؟اس عظیم کام کا بیڑہ جن فلاحی اداروں اور NGO's نے اُٹھایا تھا گو اِن میں جمعیت اہلحدیث جموں و کشمیر کا نام سرفہرست اور رول قائدانہ رہا لیکن فی الوقت اُن تفاصیل میں نہیں جاؤں گا۔اس کام میں شامل سبھی اداروں، تنظیموں اور انجمنوں کا قوم کاشمیر کی طرف سے ان کا شکریہ اداکرنا اتنا فرض سمجھتا ہوں ۔ خدمت انسانیت کے جذبات سے سرشار ان سبھی اداروں اُن کے ذمہ داروں اور کارکنوں کو ہر پیر و جواں محبت و عقیدت کا سلام پیش کرتا ہے۔ اُن کا جذبۂ جواں شب وروز اَن تھک جدوجہد ایثار و انفاق کی ایک نئی تاریخ رقم کرنایہ اُن کی وہ یادیں ہیں جو لوح ذہن پر ہمیشہ تازہ رہیں گی ۔ اور یادیں تو یادیں ہیں جس نے خیر کا بیڑہ اُٹھایا وہ بھی اور جس نے اس دروزے کو بند کردیا وہ یا دبھی بھلاکیسے فکر و خیال سے محو ہوگی ؟
(9469126388)
mirsuhailharmaen9@gmail.com