تازہ ترین

نذر عرش صہبائی

20 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      )

ہوگیا ہے باغ صحرائی بہت
ہم بھی بھولے ہیں وہ لیلائی بہت 
زندگی بھر  آزماتا ہی رہا
 اپنے پن کی یہ سزا پائی بہت
بوالہوس ہر دور میں ہیں ذی وقار
 عشق نے پائی ہے رسوائی بہت
پھر بھی میں انساں کا انساں ہی رہا
خُو فرشتوں کی بھی گو پائی بہت
جس کا کوئی بھی نہ تھا ، اس کا ہوا
یہ ادا اُس کی ہمیں بھائی بہت
ہم سمجھتے تھے کہ ہم فارغ رہے
آخر ش ہم پر بھی بن آئی بہت
دوستی کی داد کچھ مت پوچھئیے 
بَرہمن سے شیخ نے پائی بہت
آدمی نکھرے ہے دکھ سے درد سے
رنگ پسنے پر حنا لائی بہت
پھر بھی اُترے زیست کے ویشو کے پار
 پتھروں پر تھی جمی کائی بہت
 کیا خبر ہم پر بھی ہو اُن کی نگہ
 بے رخی ہے ان کی ترسائی بہت
سادگی سے رہنے کا دیتے ہیں درس 
خود جو کرتے ہیں خود آرائی بہت
 بھائی نے دیکھا جو ہم کو خستہ حال
رونق اس کے چہرے پر آئی بہت 
تھا تصنع کا ملمع چھٹ گیا!
آئینہ نے شکل جھٹلائی بہت
جموں میں حاکم رہے خود مستِ عیش 
جھیلے ہیں دکھ ہم نے سرمائی بہت 
ایک اپنا پن جھلکتا دیکھ کر 
یاد آئے عرش صہبائیؔ بہت
 
سلطان الحق شہیدی
ستہ بونی لال بازار ، سرینگر ,9596307605
*جنوبی کشمیر سے بہنے والانالہ جس نے ستمبر 2014 میں تبادہ کن تاریخی سیلاب برپا کردیا۔